مولانا فضل الرحمن کی کچھ کامیابیاں 'کچھ آرزوئیں
  19  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
طنزو مزاح' ہنس مکھ' خوشگوار لہجہ مولوی کا نہیں ہوتا؟ مگر مولانا تو یہی کچھ ہیں۔ سراپا مسکراہٹ اور عملیت پسندی' دیوبندی جماعت فرقہ پرست جماعت نہیں بلکہ سیاسی موقف رکھنے والی جماعت ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر میں اپنے (حنفی) مسلک کا داعی نہیں بلکہ اسلام کا داعی اور نمائندہ ہوں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ہم مولانا فضل الرحمن سے سنتے رہے ہیں۔ مولانا عبد الغفور حیدری اس جماعت کے نرم خو' خوش گفتار بلوچستان سے تعلق رکھنے والے عالم دین ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی معاملات میں اسباب حاصل کرنے کے قلعے پر قائم اہم رہنما ہیں۔ ہم ان تینوں شخصیات کے سیاسی بصیرت اور فہم سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔ مولانا شیرانی کو ہم نے ہمیشہ سیاسی معاملات کا کامیاب اور عملیت پسند راہنما پایا ہے۔ وہ بلوچی ہونے کے سبب کچھ سخت لہجہ رکھتے ہیں مگر اندر سے کچھ نرم بھی ہیں۔ ہم نے یہ تاثران سے ملاقات کرنے اور بات چیت کرنے کے بعد محسوس کیا تھا مولانا شیرانی کچھ جرات مند اور دلیر سیاسی ذہن ہیں۔ انہوں نے رکن قومی اسمبلی ہوکر چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم سے کچھ جرات مندانہ باتیں بھی کیں جن کی اوصاف میںہم نے فوراً تائید کی کہ کچھ طے شدہ پرانے معاملات میں دوبارہ غور کرلینا قومی ضرورت ہوگئی ہے۔ مگر ہم انہیں مجہتد اور مفکر کے منصب پر فائز ہوتے دیکھنے میں اکثر ناکام رہے ہیں۔ عبد الغفور حیدری متحرک' دینی مزاج مگر منسکر المزاج' تحمل و برباری رکھنے والے مولانا ہیں۔ ہم نے ملاقاتوں میں ان سے چھیڑ چھاڑ بھی کی۔ جملہ بازی بھی کی غصہ کی بجائے مگر و ہ بہت مسکرا دیتے۔ تحریک حرمین شریفین میں وہ بھی متحرک رہے ہیں۔ مستونگ میں ان پر قاتلانہ حملہ پارلیمنٹ پر حملہ تھا یا ان کی شخصی سیاست پر یا گوادر و بلوچستان میں سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش؟ کیونکہ گوادر کے قریب کچھ ایسے مزدوروں پر بھی فائرنگ ہوئی اور 10 افراد سے زائد معصوم انسان قتل ہوئے جن کی کوئی نمایاں شخصیت نہ تھی۔ محض طلب رزق کے لئے اپنے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ بلوچستان میں این ڈی ایس اور را کا کھیل ہے۔ حیرت اور تعجب ہے کہ پاکستان کو بلوچستان میں عدم استحکام سے دوچار کرنے کے منصوبے رکھنے والا بھارت امریکہ کی نظروں میں اب بھی افغانستان میں سب سے بڑا کردار رہنا چاہیے حالانکہ اس کی کوئی بھی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی۔ مولانا فضل الرحمن سے ہمیں قرب تو حاصل نہیں ہے مگر انہیں کئی مواقع پر قریب سے اتفاقاً دیکھنے کا موقعہ ملا۔ ہنس سکھ' مسکراتا پیکر' غصہ بہت کم ' علمائے دیوبند پر مسلط تاریخی سیاسی جبر کہ وہ کانگرسی تھے اور پاکستان مخالف' مولانا نے تدبر و فراست سے اس تلخ تاریخ کو اپنی مسلسل مسکراتی شیریں گفتاری سے بدلنے کی بارہا کوشش کی ہے۔ کبھی کبھی وہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ انفرادی انداز میں مولانا کامیاب ترین مذہبی سیاست کا پیکر ہیں۔ وہ اسباب اور وسائل کے حصول پر یقین رکھتے ہیں۔ ان پر عمران خان اکثر حکومتوں سے فوائد حاصل کرنے کے الزامات لگاتے ہیں مگر ہم مولانا کو اس حوالے سے الزامات کی ترازو میں تولنے کی بجائے طبقہ علماء کی مالی کمزور ترین حالت کی نظر سے دیکھتے ہیں جنہیں جاگیردار' مالدار ترین اور لوٹ مار کرتی دوسری سیاسی پارٹیوں کے افراد کے جلو میں سیاسی طور پر زندہ بھی رہنا ہے۔ قلت وسائل کے دائمی مرض پر بھی قابو پانا ہے اور اپنی دینی سیاست کے تقاضوں کو دنیاوی کو دنیاوی وسائل اور مسائل کے ہمراہ آگے بھی چلانا ہے۔ لہٰذا ہم مولانا پر عمران خان کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہیں۔ اگر مولانا اپنی جماعت ' افراد اور حلقوں کے لئے کچھ مالی معاملات کے لئے حکومتوں سے اگر فوائد لیتے ہیں تو یہ اسباب و وسائل کی دنیا کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہم خود منفرد صوفیانہ سیاسی تجربے سے گزر رہے ہیں کہ جب ہم مسلم لیگ (ج) کے ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات تھے۔ ہماری جماعت پنجاب میں وٹو کی وزارت اعلیٰ اور بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ میں برسر اقتدار تھی ہمیں ہمارے وزراء ساتھی بار بار نصیحت کرتے کہ تمہارا خاندان اور گھر ہے ان کی جائز ضروریات پوری کرنا بھی کارثواب ہے ان کے لئے کچھ معاشی فوائد حاصل کرنا اصولاً تمہارا حق ہے ۔ مگر ہم ہمیشہ انکار کرتے' فقراء اور قلندروں کی روشنی کو اپناتے رہے مگر سچ یہ ہے اور بہت تلخ ہے کہ معاشی طور پر یوں کچلے گئے کہ بالآخر میدان سیاست ہی سے متنفر ہوکر گوشہ تنہائی میں چلے گئے۔ صدر زرداری عہد میں اسلام آباد سے انور سیف اللہ کے بیٹے عثمان اور مشاہد حسین سید کے مدمقابل سینٹ کا الیکشن لڑنے کے لئے ہمارے بہت پیارے دوست حامد ناصر چٹھہ کے ذریعے صدر زرداری سے شدید ناراض ایک سندھی اہم سیاستدان نے ہمیں میدان میں اتارنا چاہا توثیق کے لئے دو ایم این اے بھی دیئے۔ انتخابات پر خرچہ انہوں نے کرنا تھا۔ پی پی کے ارکان ناراض بھی تھے اور مسلم لیگ نون سے پرویز رشید نے ہمیں مکمل لیگی ووٹوں کی یقین دہانی بھی کرا دی تھی مگر ان سب حوصلہ افزا باتوں کے باوجود ہم انتخاب لڑنے پر آمادہ نہ ہوسکے۔ یوں ہم معاشی طور پر یوں کچلے گئے کہ پارلیمنٹ میں جاکر مثبت کردار ادا ہی نہ کرسکے۔ لہٰذا ذاتی تلخ ترین تجربے کی بنا پر ہم مولانا فضل الرحمن' مولانا شیرانی اور جمعیت العلمائے اسلام پر عمران کے تلخ الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور مولانا کو معاشی فوائد کے حصول کے حوالے سے جائز کہتے ہیں۔ علمائے دیوبند کی قربانیوں کی تاریخ بہت سنہری ہے مگر کبھی کبھی سیاسی غلطی بھی ہو جاتی ہے جبکہ غلطیاں نظر انداز ہونی چاہیں اور معاملات زندگی کو آگے جانا چاہیے یہ مولانا کا فلسفہ ہے۔ پس تحریر: امام شاہ ولی اللہ کے سیاسی و معاشی افکار اور مولانا عبیداللہ سندھی کے بھی سیاسی و جمہوری و معاشی افکار علماء دیوبند کا ایسا سیاسی سرمایہ ہے جو آج بھی سیاست میں کامیابی دلاسکتا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved