افغان حکومت کی پاکستان کو نئی دھمکی
  19  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭بظاہر ایک چھوٹی سی خبر مگر ملک کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے بہت اہم خبر یہ ہے کہ افغان حکام نے چمن سرحد کے علاقہ میں ابتداسے پاکستان کے علاقہ میں موجود دو دیہات کلی لقمان اور کلی جہانگیر کو خالی کرکے افغانستان کے حوالے کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ پاک فوج نے یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں۔ افغانستان ان دیہات کو اپنی ملکیت قراردیتا ہے اور ان پر قبضہ کے بغیر چمن کی سرحد کو مستقل بند رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ معاملہ اس لیے بہت اہم ہے کہ افغانستان اورپاکستان کے درمیان سرحدی لائن کو ڈیورنڈ لائن کہاجاتا ہے جسے 1893ء میں انگریز حکمرانوں اورافغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمان نے خود اپنی درخواست اور رضا مندی کے ساتھ منظور کرتے ہوئے باقاعدہ معاہدہ پردستخط کئے تھے۔ ڈیورنڈ لائن کی تاریخ اور تنازعہ کے بارے میں اس کالم کے علاوہ میراایک تفصیلی مضمون بھی چھپ چکا ہے۔یہ سرحد چین کی سرحد سے شروع ہو کر 2640 کلومیٹر کا فاصلہ کرکے ایران سے جاملتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد افغانستان نے اس بناپر پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکارکردیا تھا کہ وہ اس لائن کو تسلیم نہیں کرتا تھا اور پورے شمال مغربی سرحدی صوبہ( اب خیبر پختونخوا) کو اٹک تک اپنا علاقہ قرار دیتا تھا۔(یہی محمود اچکزئی کا دعویٰ ہے) یہ تنازعہ اب بھی جاری ہے۔ اس کے پیچھے ہمیشہ بھارتی ہاتھ کار فرما رہتاہے جس نے پوری ڈیورنڈ لائن پر چھ مقامات پر اپنے قونصل خانے بنارکھے ہیں۔ نازک مسئلہ یہ ہے کہ یہ ڈیورنڈ لائن کلی جہانگیر دونوں دیہات کے درمیان میں سے گزرتی ہے اس سے دونوں دیہات کے باشندے تقسیم ہو چکے ہیں۔ ایسے وقت میں کہ بھارت اور ایران نے پاکستان کی سرحدوں پر جارحانہ کارروائیاں شروع کررکھی ہیں، افغانستان نے بھارتی تھپکی کے ساتھ پھر ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ شروع کردیا ہے۔ ایسے موقع پر اس لائن کے حوالے سے پاکستان اپنی ایک انچ زمین بھی افغانستان کے حوالے کرنے پر آمادہ ہوگیا تو یہ ڈیورنڈ لائن میں اہم تبدیلی کے مترادف اقدام ہوگا۔ اس سے ساری ڈیورنڈ لائن اسی طرح مشکوک ہوسکتی ہے جس طرح کسی عدالت میں کسی مدعی کے کیس کی 20 شہادتوں میں سے ایک شہادت بھی غلط یا ناقص نکل آئے تو باقی 19 شہادتیں بھی مشکوک ہو جاتی ہیں۔ بظاہر افغانستان اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گااور بھارت کی مدد سے یہ مسئلہ غیر معینہ عرصے تک لٹکنے کا امکان ہے یہ ایک نئی سر دردی ہوگی۔ ٭وفاقی وزیر بجلی خواجہ آصف کے ایک ہی سانس میں دو جملے ''سندھ کی حکومت بجلی کے معاملہ میں ہم سے تعاون کررہی ہے، سندھ کی حکومت بجلی پر سیاست کررہی ہے!!'' ٭ملک کی معیشت میں تقریباً50 ارب روپے سے زیادہ تباہی پھیر کر ٹرکوں او رکنٹینروں کے '' محب وطن''مالک ٹرانسپورٹروں نے 10 روز ہ ہڑتال ختم کردی۔ یہ کام وزیراعلیٰ کی بجائے گورنر سندھ محمد زبیر نے انجام دیا … گورنر سرحد کراچی میں بجلی کے بحران کا مسئلہ حل کررہے ہیں ، شہر کو صاف کرا رہے ہیں، سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ تھڑا سیاست علم دین نے پوچھا ہے کہ صوبائی وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ کیا کررہے ہیں؟ میں کیا بتا سکتاہوں؟ ٭سید خورشید شاہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور اس حیثیت کی بناپر قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں مذہبی امور کے وزیر تھے۔ اسی وفاقی اکاؤنٹس کمیٹی کو بھیجی جانے والی ایک رپورٹ میںپاکستان کے آڈیٹر جنرل نے ان کے دور میں حاجیوں کے لیے 9کروڑ روپے کے90 ہزار موبائل فون خریدے جانے کا 'انکشاف 'کیا ہے۔ رپورٹ سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ موبائل خورد برد ہونے کاامکان ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیاگیا ہے اس کے تو خو دشیخ صاحب چیئرمین ہیں۔ کمیٹی اپنے چیئرمین کے خلاف کوئی کیس کیسے سن سکتی ہے؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کا بھی چیئرمین ہوتاہے۔ خود اس کے خلاف کوئی شکایت آ جائے تو وہ خود جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتا، اس لیے کونسل کااجلاس ہی نہیں ہوسکتا۔ ٭طارق فاطمی دسمبر2016ء میں وزیراعظم کے ساتھ چین گئے۔ اس بار وزیراعظم کے ساتھ نہیں گئے۔ تحریک انصاف کی قومی اسمبلی کی رکن ڈاکٹرشیریں مزاری نے طارق فاطمی کی 2016ء والی تصویر سوشل میڈیا پر وائر کر دی ۔ اس کے ساتھ تحریک انصاف کے نائب صدر اور سابق وزیر خارجہ نے اسمبلی میں ہنگامہ برپا کردیا کہ جس طارق فاطمی کو وزارت خارجہ سے فارغ کیاگیا ہے! وہ تو وزیراعظم کے ساتھ چین میں پھررہاہے۔ اس پر حکومت سے سخت قسم کی تردید آئی اور ثابت ہوا کہ یہ تصویر تو چھ ماہ پرانی ہے ۔ طارق فاطمی تو پاکستان میں موجود ہیں۔ اس پر تحریک انصاف کے سابق مرکزی اطلاعات اور اب پارٹی کے جلسوں میں دریاں وغیرہ بچھانے کے امور کے انچارج نعیم الحق نے طارق فاطمی سے اس غلط بیانی پر معافی مانگ لی ہے! میں زیادہ تبصرہ نہیں کرتا۔ایسی قلابازیاں انسان کا اعتبار اور ساکھ ختم کردیتی ہیں۔یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔ اس سے تحریک انصاف کے باقی دعوؤں، اعلانات اور 'انکشافات' پر کیا اثر پڑتا ہے؟ شاہ محمود قصوری سابق وزیر خارجہ اور شیریں مزاری ایم اے ، پی ایچ ڈی اور ایک بڑے انگریزی اخبار کی ایڈیٹر رہ چکی ہیں۔ ان دونوں نے کیا کبھی خدا تعالیٰ کا حکم نہ پڑھا کہ خبر دینے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیا کرو! ٭قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ۔ اسمبلی میں حکومت اور پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، فاٹا کے ارکان اور دوسری پارٹیوں نے اتفاق رائے سے فاٹا میں اصلاحات کابل پیش کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے اس بل کی مخالفت کی اور گزشتہ روز ہانگ کانگ میں موجود وزیراعظم نوازشریف کو فون کرکے سخت الفاظ میں ' سرزنش' کی کہ یہ بل مولانا کی مرضی کے خلاف کیوں پیش کیاگیاہے؟ اسے روکا جائے۔ وزیراعظم نے فوراً مولانا اس حکم کی تعمیل کی اور اسمبلی میں بل پر بحث رکوا دی۔ وزیراعظم تو ہمیشہ اسمبلی میں مولانا پارٹی کے13ووٹوں کے بوجھ سے دبے رہتے ہیں۔ کبھی مولانا کی کسی فرمائش ، کسی حکم کی تعمیل سے انکار نہیں کی تاب نہیں لاسکے۔ اب بھی یہی ہوا مگر اس سے اس بل کی حمائت کرنے والی پیپلزپارٹی اس تحریک انصاف کے علاوہ فاٹا کے وہ تمام ارکان بھی آگ بگولا ہوگئے جن کی تائید کے ساتھ یہ بل پیش کیاگیا تھا۔ اس پر اسمبلی میں شدید ہنگامہ ہوگیا۔ فاٹا کے ارکان نے حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دے دی! اس وقت جے یو آئی کے 13 ارکان کی حمائت کے ساتھ ن لیگ کو اسمبلی میں187 ارکان کی حمائت حاصل ہے جو دو تہائی اکثریت بنتی ہے۔ مولانا یہ ووٹ نہ مل سکیں تو حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے! وزیراعظم کیسے یہ بات قبول کرسکتے ہیں؟ ٭پی آئی اے ایک اور شرم ناک بدنامی لے آئی۔ چند دنوں میں تین خبریں: پائلٹ طیارہ اڑاتے وقت سو گیا، ایک پائلٹ نے جہاز اپنے نائب کے سپرد کردیا،ایک پائلٹ نے کاک پٹ سے عملے کو نکال کر ایک غیر ملکی خاتون کو اپنے پاس بلالیا۔ وہ آخر تک اس کے پاس رہی اور اب یہ کہ لندن میں پی آئی اے کے ایک طیارے کی نشستوں اور چھت کے اندر چھپائی ہوئی بھاری مقدار میں ہیروئن نکل پڑی۔ ہوائی اڈے پر پائلٹ سمیت سارے عملہ کو حراست میں لے لیاگیا۔ آٹھ گھنٹے بعد پائلٹ اور تین دنوں کے بعد عملے کو رہا کیا۔ سار ی تفصیل اخبارات میں موجود ہے! اس اذیت ناک بات کے لیے شرم ناک کا الفاظ بھی کم ہے۔ شدید خسارہ سے دوچار ایئر لائنز کے عملے کی یہ کرتوتیں! یہ کوئی نئی بات نہیں، مگر کبھی کوئی کارروائی ہوئی؟ ایئر لائنز اپنے 'عزیز' چلا رہے ہوں، سیّاں بھیّے کوتوال تو پھر ڈرکس کا ؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved