غیر ملکی سفارت کار کس مشن پر ہیں
  19  مئی‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

الیکٹرانک میڈیا کے لیے میری تشویش اور کرب کو پاکستان کے گوشے گوشے سے تائید اور ہم نوائی ملی ہے۔ پنجاب۔ گلگت۔ سندھ۔ آزاد جموں و کشمیر۔ بلوچستان۔ کے پی کے۔ فاٹا۔ ہر جگہ سے ایس ایم ایس آئے ہیں اور ٹیلی فون پر بھی بات ہوئی ہے۔ 'اوصاف' پڑھنے والے بہت ہی دردمند ہیں۔ پاکستان کی محبت سے سرشار ہیں پیغام نہیں ٹائپ کرسکتے۔تو براہِ راست فون کرلیتے ہیں۔ اپنے دل کی بات کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ اگلے کالم میں اسے ضرور شامل کریں۔ اپنی پچاس سالہ صحافت کے دوران بڑے بڑے اخبارات میں اعلیٰ عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ کالم بھی لکھے ہیں۔ لیکن 'اوصاف' کے قارئین جیسے سچے پاکستانی کم ہی دیکھے ہیں۔ کالم پڑھتے ہی پیغامات ارسال کرنے شروع کردیتے ہیں۔ بعض بے تابی میں نمبر ملاکر اپنے ضمیر کی کتاب میرے سامنے کھول دیتے ہیں۔ پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا۔ اپنی روش اور چلن کے باعث صرف پاکستانیوں کے لیے ہی لمحۂ فکریہ نہیں بن رہا ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی سفیر بھی اب اس مشن پر نکلے ہوئے ہیں کہ پرائیویٹ چینل کی نشریات اور بالخصوص ٹاک شوز کا عام پاکستانیوں کے مزاج۔ رویوں اور عادتوں پر کیا اثر مرتب ہورہا ہے۔کیا پاکستانی زیادہ مذہبی شدت پسند ہورہے ہیں۔ گزشتہ ایک دو ہفتوں کے دوران اہم ملکوں کے سفیروں سے تبادلۂ خیال ہوا ہے۔ عام سفارتی تقریبات میں تو وہ عمومی طور پر سب سے ملتے ہیں۔ ہر موضوع پر گفتگو ہوتی ہے۔ لیکن جب اپنی حکومتوں کی طرف سے انہیں حکم ملتا ہے کہ وہ پاکستانی رائے عامہ مختلف امور پر جان کر انہیں رپورٹ بھیجیں۔ تو یہ سفیر خود سینئر صحافیوں۔ اور دانشوروں سے خصوصی ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اور بہت ہی گہری رمزیں جاننا چاہتے ہیں۔ ملک میں اس وقت انتخابی فضا تو بن ہی چکی ہے۔ پاکستان کو امداد دینے والے یا تجارت کرنے والے ممالک اب درج ذیل امور پر ارضی حقائق جاننے کی فکر میں ہیں۔ 1۔ آئندہ انتخابات میں کیا وفاق اور صوبائی حکومتی صورت حال تبدیل ہوگی۔ -2 پانامہ لیکس سے کیا پاکستان مسلم لیگ(ن) متاثر ہوگی۔ 3۔ پی پی پی کے بارے میں ملکی اور عالمی سطح پر کرپشن کا جو تاثر ہے کیا پی پی پی کے کارکن بھی اسے مانتے ہیں۔ 4۔ کیا بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی سیاسی سوچ مختلف ہے۔ 5۔ کیا آصف علی زرداری بلاول بھٹو زرداری کو آزادانہ سیاسی نقل و حرکت کی اجازت دے رہے ہیں۔ 6۔میاں نواز شریف کے نا اہل ہونے کے کوئی امکانات ہیں۔ 7۔ نا اہلی کی صورت میں وہ مریم نواز شریف کو قیادت سونپیں گے یا حمزہ شہباز شریف کو۔ 8۔ خیبرپختونخوا میں کون آئندہ انتخابات جیتے گا۔ 9۔ کراچی میں آپریشن سے کتنا امن قائم ہوا ہے۔ کیا یہ امن عارضی ہے یا مستقل۔ 10۔ اُردو بولنے والے کیا الطاف حسین سے بیزار ہوگئے ہیں یا اب بھی وہ ان کے دلوں میں بستا ہے۔ 11۔ کراچی میں نسلی اور لسانی تناسب کیا ہے۔ 12 پشتون کیا اب ٹرانسپورٹ پر غالب نہیں رہے۔ 13۔ مردم شماری کے نتائج کیا کراچی میں سب لسانی حلقے تسلیم کرلیں گے۔ 14۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے شہری اور دیہی حلقوں میں کام کیوں نہیں کررہی۔ 15۔ کیا آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف میں واقعی اِدھر تم اُدھر ہم کی مفاہمت ہوچکی ہے۔ 16۔ پی پی پی کو پنجاب میں پہلے سے کچھ بہتر عوامی حمایت ملے گی۔ 17۔کراچی میں کس پارٹی کو اکثریت ملے گی۔ 18۔ سی پیک۔ کیا آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہوگا۔ 19۔ چینیوں کے بارے میں عام پاکستانی کیا رائے رکھتے ہیں۔ 20۔مذہبی انتہا پسندی آئندہ انتخابات پر کس حد تک اثر انداز ہوسکتی ہے۔ 21 پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کیا کسی پارٹی کے لیے نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔ 22۔ را کے ایجنٹ کیا مذہبی انتہا پسندوں سے رابطے میں ہیں۔ 23۔ پاکستانی میڈیا۔ کیا واقعی آزاد ہے۔ اور ذمہ دار ہے۔ 24۔ امریکہ سے نفرت آئندہ الیکشن میں کس حد تک انتخابی موضوع بنے گی۔ ایک دو سفیروں سے میری بھی خصوصی تفصیلی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ اس لیے میں نے اندازہ کیا ہے اور ان کے حکمران کس طرح کی معلومات اور کوائف اکٹھے کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ ان سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا آزادہے۔ فعال ہے۔ لیکن وہاں سے ارضی حقائق کا علم نہیں ہوسکتا ہے۔ ایک تو ان کو یہ گلہ ہے کہ کسی بھی پرائیویٹ چینل سے انگریزی میں کوئی پروگرام نہیں ہوتا۔ انگریزی چینل بند کردیے گئے ہیں۔ پاکستانی ٹیلی وژن کا انگریزی چینل ہے۔ لیکن وہ صرف حکومت کا موقف بتاتا ہے اپوزیشن اور عوام کی بات نہیں کرتا۔ پاکستان کے پرائیویٹ چینلوں کے بارے میں وہ یہ کوائف بھی اپنی حکومتوں کو بھیج رہے ہیں کہ ان میں سے کتنے میڈیا کا پس منظر رکھتے ہیں۔ کتنے مالکان کا اپنا صحافتی تجربہ ہے۔ پہلے ان کا کیا کاروبار تھا وہ میڈیا میں سرمایہ کیوں لگارہے ہیں۔ وفاقی حکومت کس کی مالی حمایت کرتی ہے ۔ دوسری سیاسی جماعتیں کن چینلوں کو معاونت دے رہی ہیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کن چینلوں اور اینکر پرسنوں کی سرپرستی کرتی ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ انتخابات کی گھڑی نزدیک آرہی ہے۔ لیکن قرائن یہی بتارہے ہیں کہ سیاسی نقشہ بہت زیادہ بدلنے والا نہیں ہے۔ آپ بتائیں کہ آپ کا کیا خیال ہے۔ کہیں کوئی تبدیلی آپ کو دکھائی دیتی ہے۔ کیا آپ خود بھی اپنے ووٹ کے حقدار کو بدلنا چاہتے ہیں۔ میڈیا پر لکھنے کے لیے میں نے کافی معلومات اور تاثرات جمع کرلیے ہیں۔ آپ کے پیغامات بھی محفوظ کررہا ہوں۔ میری کوشش یہی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا جتنا موثر۔ تیز رفتار اور نتیجہ خیز وسیلۂ ابلاغ ہے اور جس طرح ترقی یافتہ ملکوں میں میڈیا کے ذریعے ذہن سازی ہوتی ہے ۔ معاشروں کی تشکیل ہوتی ہے۔ حقیقی زندگی کو آسان سے آسان تر اور محفوظ بناتے ہیں ۔ سوسائٹی میں تحمل برداشت اور بردباری پیدا کرتے ہیں ۔ تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں۔ مذاکروں میں صرف ان شرکا کو بلایا جاتا ہے جو واقعی اس موضوع پر مہارت اور عبور رکھتے ہوں۔ بے شک دھیما بولتے ہوں۔ لیکن دانائی کی بات کرتے ہوں۔ ہم صرف تنقید نہیں بلکہ تعمیری تجاویز دیں۔ یہ چینل جس طرح دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں تضحیک کرتے ہیں۔ ہم ان کا مضحکہ نہ اڑائیں۔ بلکہ سنجیدگی سے ایسی تجاویز دیں جن سے یہ مزید موثر ہوں مزید طاقت ور ہوں۔ حکومت بچانے یا گرانے کا نہیں بلکہ مملکت اور حکومت دونوں کو اپنا اپنا کام بہتر انداز سے کرنے دیں۔ آپ اپنی تجاویز بھیجیں۔ آپ کو چینلوں میں کونسے پروگرام اچھے لگتے ہیں کونسے بے مقصد۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved