مسلمانوں کو آپس میں لڑانا امریکہ کا ایجنڈا
  3  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ابھی حال ہی میں سعودی عرب میں مسلمان ممالک کے سربراہوں کی جو کانفرنس ہوئی ہے ، یہ بہت خوش کن اور حوصلہ افزا ہوتی اگر اس کا انعقاد مسلمان دشمن قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہوتا اور تمام مسلمان ممالک اس کا حصہ ہوتے۔یہ کانفرنس مبارک باد کی مستحق ہوتی۔لیکن انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کانفرنس مسلک کی بنیاد پر تھی۔اس سے بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے دشمن اور لاکھوں مسلمانوں کے قاتل امریکہ کو اس موقع پر مرکزی اہمیت دی گئی۔ہماری یہ حرکت اللہ کے غضب کو بھڑکانے والی ہے ۔ایران کو تنہا کردیا گیا ۔امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس کی وار انڈسٹری کو 110بلین ڈالر ادا کئے گئے۔یہ رونے کا مقام ہے۔درحقیقت امریکہ مسلمانو ں کو آپس میں لڑاکر اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے۔طاغوتی قوتوں کو اس وقت خواہش ہی یہی ہے اور امریکہ ان کو لیڈ کررہا ہے۔اس کی پشت پر ماسٹر مائنڈ اسرائیل ہے ۔وہ تو اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے واضح فرمادیا ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہ جب آپس میں لڑپڑیں توان میں صلح کرادواور ان کے معاملے میں انصاف سے کام لو۔جو گروہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کرے اس کے خلاف مل کر لڑو۔یہ ساری ہدایات سورہ حجرات میں موجود ہیں۔اس لئے کہ مسلمانوں کے درمیان تقریق پسندیدہ نہیں۔ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونا قابل قبول نہیں۔آج مسلمان اپنے اختلافی معاملات میں اس قوت کی مدد حاصل کررہے ہیں جو مسلمانوں کی خونریزی میں ملوث ہے۔لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کرنے کا ذمہ دار ہے۔افغانستان میں ایکشن کے لئے جو جواز پیدا کیا گیا وہ انہوں نے خود کیا تھا لیکن اسے مسلمانوں پر ڈال دیا گیا۔دنیا میں یہ سب سے فراڈ ہوا ہے۔ٹوئن ٹاور خود گرایا اور الزام اسامہ بن لادن پر ڈال دیا گیا۔اس کے نتیجے میں افغانستان میں تباہی و بربادی کا کھیل کھیلا گیا۔عراق پر الزام لگایا یا گیا کہ اس کے پاس mass destruction weaponsہیں۔یہ پوری نوع انسانی کے لئے خطرہ ہیں لہٰذا ہم جو دنیا کے ٹھیکیدار ہیں ، ان کی خبر لیں گے۔وہاں بھی لاکھوں مسلمان شہید ہوئے ۔بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔آخر میں کہا گیا کہ ہمیں غلط فہمی ہوگئی تھی۔وہاں ایسا کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا۔کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں کہ عراق میں جو تباہی مچائی گئی اس کا ذمہ دار کون ہے۔اسلام کے کھلے دشمن صدر امریکہ کا سعودی میں شاندار اور والہانہ استقبال ہوا۔اربوں ڈالر سے تعمیر شدہ محلات میں ان کی مہمان نوازی کی گئی ہے۔وہاں سے امریکی صدر براہ راست اسرائیل گیا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب سے براہ راست فلائٹ تل ابیب گئی ہے۔وہ اسرائیل جومظلوم فلسطینیوں پر بدترین ظلم ڈھا رہا ہے۔وہاں اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے چھوٹے سے گھر میں داخل ہوتے ہوئے امریکی صدر سے یہ الفاظ کہے کہ یہ ہمارا محل ہے۔اصل میں وہ بتانا یہ چاہتا تھا کہ ایک محل وہ ہے جو آپ سعودی عرب میں دیکھ کر آئے ہیں۔ان کے ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کو بھی آپ نے دیکھا ہے۔یہ چھوٹا سا مکان ہی ہمارا محل ہے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔مسلمانوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔کبھی سادہ زندگی گزارنے والے مسلمان خلفاء قیصر و کسریٰ کے باسیوں پر اپنا ہیبت طاری کئے ہوئے تھے۔آج بڑے بڑے محلوں میں رہتے ہوئے مسلمان حکمرانوںپر اسلام دشمنوں کا خوف طاری ہے۔اس لئے کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ جو کچھ کرہے ہیں وہ اللہ اور اس کے دین سے کھلی بے وفائی اور غداری ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ وقت کے سب سے بڑی طاغوتی طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔یہ عالم اسلام کا المیہ ہے۔آج مسلمانوں پر جو کچھ بیت رہی ہے وہ ان کے اپنے کرتوتوں کی سزا ہے۔ہمیں خود اپنی اصلاح کرنی ہوگی ۔اللہ اور اس کے رسول ۖ کا خود کوسچا وفادار ثابت کرناہوگا تب اللہ کی مدد آئے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved