روزے اور قرآن کا تعلق
  8  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ایک مسلمان کی زندگی میں رمضان سے بڑھ کراہمیت ، فضیلت ، برکتوں ، رحمتوں اور مغفرتوں کے لمحات اور کون سے ہو سکتے ہیں کہ جس میں ہر نیک عمل کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے اور اس کی ایک خاص رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ افضل ہے ۔ اسی وجہ سے اس مہینے کو نیکیوں کا موسم بہار کہا جاتا ہے ۔اگر اس ماہ مبارک کی برکات سے پورا فائدہ اٹھانا ہے تو پھر دن کا روزہ اور رات کا قیام ضروری ہے۔ رات کا بڑا حصہ قرآن کے ساتھ جاگتے ہوئے گزارنا ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ مہینہ ہمدردی اور غمگساری کا مہینہ ہے۔ لہٰذا لوگوں کو روزہ افطار کروایا جائے۔ غریبوں کی مدد کی جائے۔ انفاق فی سبیل اللہ بھی زیادہ ہونا چاہیے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے اس ماہ میں انفاق کرنے کا اجروثواب بہت زیادہ ہے۔ لہٰذا انسان کمر کس لے کہ میں نے ہر ذریعے سے اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ اجرو ثواب کمانا ہے ۔لیکن ہر عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ اس میں دکھاوا نہ ہو ۔ ایک حدیث میں الفاظ ہیں :''جس نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ کیا اس نے شرک کیا''(مسند احمد) دکھاوا دراصل یہ ہے کہ اپنے آپ کو کچھ لوگوں کے سامنے بڑا ظاہر کر کے نیکی کاکچھ کام کیا جائے۔ یہ شرک کے زمرے میں آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو انتہائی ناپسند ہے ۔ لہٰذا روزہ صرف اللہ کی خوشنودی اوراس کی رضا کے حصول کے لیے رکھا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ روزے کے دیگر تقاضے بھی پورے کیے جائیں۔ یہ تو ہمیں خوب یاد رہتا ہے کہ روزے کی حالت میں کھانا پینا اور بیوی کے پاس جانا منع ہے اور اس تقاضے کی پابندی بھی ہو رہی ہو لیکن گناہ کے دیگر کام جن کا انسان عادی ہے وہ اسی طریقے سے چل رہے ہوں تو یہ روزہ ہر گز نہیں ہے ۔ اسی لیے نبی اکرمۖ نے فرمایا: ''کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں کہ جنہیں سوائے پیاس کے اُن کے روزہ سے کچھ نہیں ملتا' اور کتنے ہی قیام کرنے والوں کو ماسوا بے خوابی کے ان کے قیام سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔'' (دارمی) اسی طرح فرمایا : ''جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔''(رواہ البخاری) سیدھی سی بات ہے کہ ہم اللہ کی رضا کی خاطر صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک حلال اور طیب چیزوں سے بھی اپنے آپ کو روک رہے ہیں۔ جو لوگ دن میںباہر تلاش معاش کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں ان کے لیے آج کل کا روزہ جس میں پیاس کی بہت شدت ہوتی ہے کتنا مشکل ہوتا ہے۔ بہرحال اللہ کے لیے انسان برداشت کرتاہے اور اللہ تعالیٰ صبر بھی دے دیتا ہے ورنہ عام دنوں میں سوچنا بھی محال ہے کہ انسان صبح سے شام تک اتنی شدید گرمی میں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پیئے۔ اتنی سختیاں اُٹھا کر اگرہم حلال چیزیں جو عام زندگی میں طیب ہیں کے قریب نہیں جارہے لیکن وہ چیزیں جو شریعت میں ممنوع ہیں ،جو گناہ کے کام ہیں، جو اللہ کو ناپسند ہیں وہ کام ہم سارا دن کرتے رہیں توگویا یہ ہم دین کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔اس طرح ہم کسی کو دھوکہ نہیں دے رہے سوائے اپنے آپ کو ۔ اصل روزہ یہ ہے کہ انسان ہر قسم کے چھوٹے گناہ سے بھی اپنے آپ کو بچائے، بدنگاہی سے ، زبان کے غلط استعمال سے ،ہر نوع کے حرام کام سے ، جھوٹ بولنے سے ، دھوکہ دینے سے بچے۔ کسی کی حق تلفی نہ ہو ۔بہت حساس ہو کر وقت گزارے ۔ تب وہ بامعنی روزہ ہوگااور اس کے اجر کے حوالے سے بھی اللہ کا وعدہ سچا ہے : ''روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا'' (مسلم) اللہ اپنے مقام کے اعتبار سے اور اپنی شان کے مطابق اس کا بدلہ دے گا ۔ اللہ سے دعاہے کہ وہ ہمیں اسی انداز سے جس طرح کہ قرآن و حدیث سے راہنمائی ملتی ہے اسی کے مطابق اس ماہ مبارک کو گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ روزہ اور قرآن کا تعلق آج ہمارا موضوع ہے۔ ہم نے گزشتہ جمعہ کو سورة البقرہ کی آیت 185کا مطالعہ کیا تھا ۔ ''رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا'' اللہ تعالیٰ تعارف کروا رہے ہیں کہ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ۔ ''لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کی روشن دلیلوں کے ساتھ۔'' قرآن پوری نوع انسانی کے لیے ہدایت ہے ۔ پھر فرمایا: ''تو جو کوئی بھی تم میں سے اس مہینے کو پائے اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے'' اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور روزے کا آپس میں کوئی خاص تعلق ہے۔یعنی ماہ رمضان کو روزے کا مہینہ اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ اس میں قرآن نازل ہوا ہے۔ پھر روزے اور قرآن کے تعلق کا اظہا ر ہمیں دن کے روزے اور رات کے قیام میں بھی نظر آرہا ہے۔کیونکہ رمضان کے پیغام میں روزے کے ساتھ ہی قیام اللیل کو بھی جوڑ دیاگیا ہے۔ جس کی بنیادی شکل نماز تراویح ہے اور اس میں جتنا قیام ہو سکتا ہے ، جس قدر انسان قرآن پڑھ یا سن سکتا ہے ، اس کا اہتمام ہر مسلمان ضرور کرے ۔ قرآن کی رو سے قیام اللیل کا اطلاق کم سے کم ایک تہائی رات پر ہوتا ہے۔ ''اس(رات) کا آدھا یا اس سے تھوڑا کم کر لیجیے۔'' ''یا اس پر تھوڑا بڑھا لیں'' (وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاD) ''اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے جایئے۔'' (المزمل) یعنی اتنا قیام ہوگا تو وہ قیام اللیل کہلائے گا ۔چنانچہ قیام اللیل سے روزہ اور قرآن کا تعلق واضح ہوتا ہے ۔ اسی تعلق کا اشارہ اسی رکوع کی پہلی آیت میں ملتا ہے جس میں فرضیت صیام کا ابتدائی حکم آیا ۔ ''اے ایمان والو! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔''(البقرہ) ( جاری ہے ) روزے کی عبادت کا اصل حاصل تقویٰ ہے ۔ ایک تو روزے کی حالت میں ہم نے کھانا پینا چھوڑ کر اللہ کا حکم پورا کیا ، اس کا اجر وثواب الگ ہے لیکن روزے کا اصل فائدہ جس کی ہمیں انتہائی سخت ضرورت ہے اور اللہ نے ہماری اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دراصل روزے کی عبادت فرض کی ہے اور وہ اہم ضرورت ہے تقویٰ ۔ قرآن مجید کی بیشتر سورتوں کا مرکزی مضمون یہی ہے کہ جنت میں داخلہ صرف اسی کو ملے گا جس میں کچھ نہ کچھ تقویٰ ہوگا ۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتا ہے لیکن ہرمسلمان اپنے آپ کو متقی نہیں کہہ سکتا۔ متقی کا مطلب ہے گناہوں سے،اللہ کی نافرمانی سے ، حرام سے بچنے والا۔ اگر کوئی شخص اللہ کو، رسول ۖ کو اور قرآن کو نہیںمانتا تواس کا کوئی نیک عمل مقبول نہیں جب تک کہ وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان نہ ہوجائے اور اللہ ، رسول ، قرآن اور آخرت پر ایمان نہ لے آئے ۔ لیکن جنت کی گارنٹی صرف متقین کے لیے ہے ۔ ''وہ تیار کی گئی ہے اہل تقویٰ کے لیے۔'' (آل عمران) اللہ تعالیٰ کسی کو معاف کر دے تواس کا اختیار ہے لیکن اس کا جواصول ہے وہ قرآن مجید کے ہر دوسرے صفحے پر بیان ہوا ہے ۔ '' سوائے اُن کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے''۔(العصر) جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے وہی تو متقی ہیںاوران کے لیے ہی جنت کی گارنٹی ہے ۔اس عظیم کامیابی کے لیے تقویٰ بنیادی شرط ہے جو ہم سب کی سب سے اہم ضرورت ہے اور وہ روزے کی عبادت سے حاصل ہوگا ۔ روزہ ایک طرح کی ٹریننگ ہے جس میں انسان اللہ کی رضا کی خاطر اور اللہ کا حکم مانتے ہوئے حلال چیزوں سے بھی بچتا ہے ۔ اس طرح انسان میں گناہوں اور معصیت سے بچنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ یعنی روزے کی عبادت کا حاصل تقویٰ ہے اور تقویٰ کابھی قرآن مجید کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔اسی آیت میں جہاں رمضان کا قرآن کے حوالے سے تعارف کرایا گیا ہے وہاں یہ بھی ارشاد ہے : ''لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کی روشن دلیلوں کے ساتھ۔'' لیکن قرآن مجید کے بالکل آغاز میں جو قرآن کا تعارف کروایا گیا وہاں الفاظ ذرا مختلف ہیں ۔ '' ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے۔'' (البقرہ) ان دونوں آیات میں تطبیق یہ ہے کہ قرآن potentally پوری نوع انسانی کے لیے ہدایت ہے۔ انسانوں میں سے کوئی بھی اگر ہدایت کا طالب بنے گا قرآن سے اس کو ہدایت مل جائے گی، اس میںہر انسان کی راہنمائی کا سامان موجود ہے لیکن سب فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے ۔فائدہ وہی اٹھائیں گے جن میں کچھ نہ کچھ خدا خوفی موجود ہو۔آج قرآن ہمارے پاس موجود ہے لیکن کتنے فیصد لوگ اس کی راہنمائی سے فائدہ اٹھا تے ہیں ۔ زیادہ تر نے کپڑے میں لپیٹ کر اونچی جگہ پر رکھ دیا ہے ۔ اس کی تلاوت مشکل کام لگتا ہے۔ کہاں یہ کہ اس کو سمجھنے کے لیے پڑھا جائے اور اس کے لیے عربی زبان سیکھنا اور پھر روزمرہ زندگی کے معاملات میں راہنمائی اور ہدایت حاصل کرنا۔کتنے فیصد لوگ ہیں جو یہ کام کرتے ہوں گے ؟یہ کام وہی کریں گے جن کے دل میں اللہ کا کچھ نہ کچھ خوف ( تقویٰ ) ہوگا ۔ آنحضور ۖ مکہ کی گلیوںمیں قرآن سناتے رہے ۔ ایک ایک تک قرآن کا پیغام پہنچاتے رہے۔ لیکن کتنے ہی لوگ تھے مکہ کے جو محروم رہ گئے ۔ کیونکہ ان میں وہ خدا خوفی ، وہ نرمی اوروہ انسانیت موجود نہیں تھی جو ایک انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے ۔ انسان میں اللہ نے روح پھونکی ہے۔ یعنی انسان میں حیوان بھی موجود ہے اور ملکوتی صفات بھی موجود ہیں۔ تقویٰ کی جوتھوڑی بہت رمق ہے اللہ نے ہر انسان میں رکھی ہوئی ہے اسی کا ظہور ہے کہ انسان کہتا ہے کہ جھوٹ بولنا غلط ہے ، کسی کا مال غضب کرنا زیادتی ہے ، ناحق کسی کا مال کھینچ لینا ظلم ہے ۔لیکن جب انسان اپنے ضمیر کو بالکل دبا دیتا ہے ،گناہ پہ گناہ کیے جاتا ہے تو گویا اس کے اندر کا انسان مر جاتا ہے ۔ تب آپ اسے قرآن بھی سنائیں گے تو اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ ابو جہل، ابولہب ، ولید بن مغیرہ اورکتنے ہی سرداران قریش محروم رہے حالانکہ وہ حضور ۖ کی زبان سے قرآن سنتے رہے۔لہٰذا ثابت یہ ہوا کہ قرآن میں potentially ہدایت تو ہر انسان کے لیے موجود ہے لیکن اس ہدایت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ تقویٰ چاہیے اور روزے کی عبادت کا اصل حاصل تقویٰ ہے ۔ ''اے ایمان والو! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔''(البقرہ :183 ) دن کا روزہ رکھنے سے انسان میں تقویٰ کی کیفیت پیدا ہوگی تو رات کے قیام میں انسان قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرے گا اور یوں ہدایت پائے گا ۔ جب قرآن نازل ہو رہاتھا تو وہاں کی زبان اُس وقت عربی تھی ۔ اس وقت جو قرآن سن رہاتھا وہ سمجھ بھی رہاتھا۔ لیکن ہم قرآن سنتے تو ہیں لیکن سمجھتے نہیں ہیں ۔ لیکن جن لوگوں میں تقویٰ کی کیفیت بیدار ہو تو وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ تب قرآن ان کے باطن میں جذب ہو رہا ہوتا ہے ۔ جیسا کہ اقبال نے کہا تھا : تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب گرِہ کُشا ہے نہ رازی نہ صاحب ِکشاف بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد فرمایا کرتے تھے کہ انسان درحقیقت دو وجود وں کا مرکب ہے۔ ایک اس کا جسمانی وجو دہے اور ایک روحانی وجود ہے۔ انسان کو انسان بنانے اور اشرف المخلوقات بنانے والی شے یہی روحانی وجود ہے ''اور پھونک دوں میں اس میں اپنی روح میں سے 'تو گر پڑنا اس کے لیے سجدے میں۔''(الحجر) ویسے انسان کا جسد مٹی سے بنا ہے جس کے بارے میںبھی قرآن بار بار کہہ رہا ہے لیکن روح کوئی اور ہی شے ہے ۔ ''اور (اے نبیۖ!) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں روح کے بارے میں '' ''آپۖ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں نہیں دیا گیا علم مگر تھوڑا سا۔''(بنی اسرائیل) بس انسان اتنا سمجھ لے کہ روح اللہ کا امر ہے ۔ جیسا کہ شیخ سعدی نے کہا آدمی زادہ طرفہ معجون است از فرشتہ سرشتہ وز حیوان انسان دو چیزوں کابڑا عجیب معجون مرکب ہے۔گویاایک حیوان کے ساتھ ایک فرشتہ کوجوڑ دیا گیا ہے ۔ ہمارے حیوانی وجود کے اپنے تقاضے ہیں جو حیوانات کے اندر بھی ہیںاور ہر شخص کے اندر بھی سو فیصد حیوان موجود ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اور وجود بھی ہے جو روحانی ہے۔ ہے ذوقِ تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں غافل! تو نرِا صاحبِ ادراک نہیں ہے انسان کا یہ روحانی وجود شیطان کو نظر نہیں آیا ۔اس نے کہا کہ میں افضل ہوںکیونکہ تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور انسان کو مٹی سے پیدا کیا ، میں اس کے سامنے کیسے جھکوں ؟ لیکن آدم کے سامنے سب فرشتوں کو بھی جھکا دیا گیا تھا۔ اس لیے کہ اس کے اندر جو روحانی ایلیمنٹ ڈالا گیا ہے وہ فرشتوں سے بھی اونچی شے ہے۔ نبی اکرم ۖ اسی اعتبار سے جملہ مخلوقات میں سب سے اونچا مقام رکھتے ہیںحالانکہ وہ بھی نوع انسانی کے ایک فرد تھے۔ ''(اے نبیۖ !) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو بس تمہاری ہی طرح کا ایک انسان ہوں' مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبودہے۔''(الکہف۔٠١١) انسان کے اصل مقام و مرتبے کا انحصار روح کی بیداری پر ہے لیکن ہم روح کی طرف بالکل توجہ ہی نہیں دیتے۔ روح کے تقاضے ہی کچھ اور ہیں۔ اس کے اندر نیکی کے وہ سارے رجحانات موجودہیں جو کبھی کبھی ہمارے اندرسے اُبھرکر سامنے آتے ہیں کہ کبھی کسی غریب کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ، مسجد جانے کے لیے بھی کبھی کبھی توفیق مل جاتی ہے ۔ لیکن وہ رجحانات انسان کے اندر ہیں جبکہ انسان کی ساری توجہ جسمانی وجود کے لیے ہو رہی ہوتی ہے۔ اسی کی پرورش، اسی کی دیکھ بھال، سب کچھ اسی کے لیے ہورہا ہے اور روحانی وجود سے انسان غافل رہتا ہے۔اس طرح روح بھی ایک بے حس پنجرے کے اندر بند ہوکر رہ جاتی ہے ۔ چنانچہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دن کا روزہ رکھنے سے جسم ذرا کمزور پڑتا ہے تو روح کو اُبھرنے کاکچھ موقع ملتا ہے ۔ اس حالت میں اگر اس پر قرآنی آیات کا فیضان ہوگا تو یہ توانا اور مضبوط ہوگی ۔ روح کی غذا وہ نہیں جو ہم کھاتے ہیں ۔جسم کی غذا روح کے لیے کاؤنٹر productionہے ۔ اس غذا کی زیادتی سے روح اور دبے گی اور سسکتی رہے گی۔ چنانچہ جو لوگ روحانیات کی طر ف جاتے ہیں ان کا ایک بہت اہم اصول ہے کہ کم کھاؤ اورکم سوؤ ۔ اپنے جسمانی تقاضوں کو کم کرو تو تمہاری روح بیدار ہوگی۔ چنانچہ روزے کے ذریعے روح بیدار ہوتی ہے اور روح کی اصل غذا چونکہ قرآنی آیات ہیں جو اللہ ہی کی طرف سے اُتری ہیں تو ان کے ذریعے روح مضبوط و توانا ہوگی ۔چنانچہ انسان کی روح کو ترقی دینے کا ایک جامع پروگرام ہے۔ رمضان کا پروگرام: دن کا روزہ اور رات کا قیام مع القرآن ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پروگرام سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved