امریکہ، عرب اور مسلم ممالک
  15  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پچھلے چند ماہ میں مسلم اور عرب ممالک میں تین بڑے واقعات ظہور پذیر ہوئے جن کی ترتیب یہ ہے 1 اسلامی عرب فوجی اتحاد2 امریکہ عرب مسلم کانفرنس 3 عرب ممالک کا قطر سے ہر قسم کا رابطہ توڑنا یوں تو یہ تین واقعات ایک دوسرے سے چند دنوں یاہفتوں کے وقفے سے وقوع پذیر ہوئے مگر بین الاقوامی سیاست میں'' ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ'' والی بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے۔ جب اسلامی عرب فوجی اتحاد بنایا گیا اور اس کی سربراہی کیلئے جنرل(ر) راحیل شریف کا نام پاکستانی حکومت نے منظور کرلیا تو ملک عزیز میں دو اعتراضات کھل کر اٹھائے گئے، اول یہ کہ یہ اتحاد ایران کیخلاف استعمال ہوگا اور پاکستان کو عرب ایران مخاصمت سے دور رہنا چاہئے۔ سعودی عرب سے ہمارے نہ ٹوٹنے والے مذہبی رشتے ہیںاور ایران ہمارا پڑوسی ہے اور پاکستان کی شیعہ آبادی ایران سے عقیدت اور محبت کے جذبات رکھتی ہے، دوسرا اعتراض یہ تھا کہ جنرل راحیل شریف کو اللہ تعالیٰ نے بے حد عزت و احترام سے نوازا ہے انہیں اس طرح کے سیاسی طور پر مشکوک فوجی اتحاد کی سربراہی سے گریز کرنا چاہئے، یہ دونوں اعتراض حکومتی حلقوں اور ان کے حواریوں نے یہ کہہ کر مسترد کردیے کہ عرب مسلم فوجی اتحاد ایران کیخلاف استعمال نہیں ہوگا اور جنرل( ر) راحیل شریف کو فوجی سربراہ کی حیثیت سے مکّمل اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ریاض میں امریکہ عرب مسلم کانفرنس منعقد ہوئی جہاں عرب ممالک نے اپنے آپ کو مکمل طور سے امریکہ کے حوالے کردیا، سعودی عرب نے نہ صرف تین سو اٹھّاون ارب ڈالر کی خریداری کیلئے آرڈر امریکہ کو دئیے جو خود امریکہ کی تاریخ میں سب سے بڑے آرڈر ہیں بلکہ سعودی بادشاہ نے اپنے ملک کی تیل کی کمائی سے ایک سو ارب ڈالر صدر ٹرمپ کی بیٹی کی چیریٹی کو عطا کئے، مگر جو اس کے بعد ہوا اس نے پاکستان سمیت بہت سے ان ممالک کی آنکھیں کھول دیں جو وہاں مہمان اداکاروں یا فلمی زبان میںایکسڑاز کی شکل میں موجود تھے، صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں صاف صاف کہا کہ یہ اتحاد ایران اور تمام دہشت گرد تنظیموں کیخلاف کام کرے گا،گویا ایران کو بلا کسی شک وشبہہ کے دہشتگردوں کی لائین میں کھڑا کردیا گیا، سعودی عرب کے شاہ نے اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ کی ہی کہی گئی بات دہرائی۔ اس کانفرنس کے ہر مرحلے میں پاکستان کے وزیر اعظم کو اس حد تک نظر انداز کیا گیا کہ انہیں تقریر بھی نہیں کرنے دی گئی۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ عرب مسلم فوجی اتحاد کی پالیسی اور حکمت عملی امریکہ کے ہاتھ میں ہوگی اور جنرل( ر) راحیل شریف کیلئے حکم نامے کہیں اور سے آئیں گے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ وہ ابھی اور اوپر جاسکتا ہے حالانکہ عزّت وتوقیر کی بلند ترین چوٹی پر پہنچنے کے بعد جو واحد راستہ رہ جاتا ہے وہ پستی کی طرف جاتا ہے، جنرل راحیل شریف بھی اسی انسانی فطرت سے مار کھاگئے۔ اس سلسلے کا تیسرا واقعہ ہوا وہ زیادہ تر ممالک کیلئے غیر معمولی تھا، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی اخلاقی اور مالی امداد اور پشت پناہی کررہا ہے لہذا اس سے ہر قسم کے تجارتی اور سفارتی تعلقات ختم کئے جارہے ہیں، بعد میں اس میں لیبیا کے مشرقی حصّے میں قائم حکومت اور کچھ اور چھوٹے ممالک بھی شامل ہوگئے، ان تمام ممالک نے اپنی زمینی، فضائی اور سمندری حدود قطر پر بند کردیں اور قطری باشندوں کو پندرہ روز کے اندر ملک چھوڑنے کیلئے حکم دے دیا گیا، اس سے پہلے2015 میں بھی عرب ممالک کا قطر سے اختلاف ہوا تھا مگراس وقت صرف اپنے اپنے سفیر واپس بلائے گئے تھے، قطر پر ایران کی حمایت کا بھی الزام لگایا گیا دراصل جھگڑا اخوان المسلمین کی حمایت ہے جو قطر کرتا ہے، اس پر مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو سخت اعتراض ہے، مصر کا اعتراض سیاسی ہے کیوں کہ مصر بہت عرصے سے اخوان المسلمین کا گڑھ رہا ہے اور مصر کے موجودہ صدر جنرل(ر) سی سی اخوان المسلمین کی حکومت بر طرف کرکے اقتدار میں آئے ہیں۔ سعودی عرب کا جھگڑا اسلامی فرقے کا اختلاف ہے، بحرین میں اور سعودی عرب کے مشرقی حصے میں شیعہ آبادی خاصی تعداد میں آباد ہے اور ایران تو ہے ہی شیعہ آبادی کا ملک۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اورایران کے اختلافات سینکڑوں سال کی تاریخ کے صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں دونوں کو اپنے تاریخی ورثوں پر اور اپنے مذہبی فرقوں پر غرور ہے، اس تمام جھگڑے میں اسلام بیچ میں پس ہی نہیں گیا بلکہ غائب ہی ہوگیا ہے۔ اس سیاسی( اور شاید فوجی)تنازعے کے دور رس تجارتی اثرات ہوں گے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قطر کو چینی سپلائی روک دی ہے، اس کے علاوہ بھی قطر اشیاء خوردونوش کیلئے ان ہی ممالک پر انحصار کرتا ہے اور اگر یہ معاملہ کچھ عرصہ مزید جاری رہا تو قطر مشکل میں پڑ جائے گا، قطر ایئر لائن کو اپنی فلائٹوں کی بڑی تعداد کینسل کرنی پڑی ہیں، صرف دو باتیں قطر کے حق میں جاتی ہیں اوّل تو یہ کہ سعودی عرب اور مصر دونوں ہیLNG کیلئے قطر پر انحصار کرتے ہیں دوئم یہ کہ امریکہ کا مشرقی وسطیٰ کا سب سے بڑا فوجی اڈا قطر میں ہے جہاںCentcom کی غالباً دس ہزار فوجی تعینات ہیں، امریکی فوج اور امریکی اڈے کو اپنے آپ کو متحرک رکھنے کیلئے بہت وسیع وعریض لاجسٹک سپلائرز کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی قسم کی امریکی فوجی تنصیب کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کار دارد ہے، جب صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں محض ایران کو نشانے پر رکھا تھا تو شاید یہ صورتحال ان کے تصور میں نہیں ہوگی کہ امریکی حمایت اپنے حق میں یقینی بنالینے کے بعد سعودی، مصری اور متحدہ عرب امارات کچھ اپنے پرانے حسابات بھی چُکتے کرلیں گے۔ اس کی دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ایران اور اسلامی سیاسی تحاریک مثلاً اخوان المسلمین کو تنہا اور کمزور کرنے کیلئے یہ پہلا وار ہو اور اس کو امریکی حمایت حاصل ہو کیوں کہ امریکی حکومتی اور فوجی طاقت قطر میں اپنے فوجی اڈّے کو یقیناً کچھ بھی نہ ہونے دے گی، اس بارے میں امریکہ مطمئن ہے۔ پاکستان کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ سعودی عرب اور امریکہ پر واضح کردے کہ وہ اس کھیل کا حصّہ نہیں بنے گا اور ایران سے وابستہ اپنے مفادات کا تحفط کرے گا، جنرل( ر) راحیل شریف کی واپسی شاید اتنی آسان نہ ہو جتنی یہاں سے روانگی تھی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
50%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved