ایک اور بابر ی مسجد ! تاج محل کے خلاف مہم
  18  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ایران اور بھارت کی چپقلش بڑھتی جارہی ہے۔ گزشتہ کالم میں بتایاگیا تھا کہ ایران کی حکومت نے گیس کے بہت بڑے ذخیرہ' فرزاد گیس فیلڈ'کا ٹھیکہ بھارت کی بجائے روس کو دے دیا اور چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی اطمینان کے مطابق نہ ہوسکنے پر قطر بھیجے جانے والے فنڈز روک لیے ہیں۔ اس پر بھارتی حکمران اورمیڈیا سیخ پا ہو رہے ہیں۔ تازہ خبر یہ ہے کہ بھارت کے ریزرو بینک آف انڈیا ( سٹیٹ بینک) نے ایران کو بھارت کی طرف سے کوئی بھی رقم بھیجے جانے پر پابندی عائد کردی ہے، اس میں بھارت کی طرف سے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار پر ہونے والے کام کے لیے بھارتی سرمایہ بھی شامل ہے۔ بھارت نے ایران میں سڑکیں بنانے اور بندرگاہوں کی ترقی کے لیے پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کررکھاہے۔سرمایہ کاری کا یہ عمل رک گیا ہے۔ دوسری طرف ایرانی میڈیا نے ماضی میں بھارت کی طرف سے ایران کے خلاف متعدد اقدامات یاد دلانا شروع کردیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بھارت نے 1979ء میں ایران میں امام خمینی کے انقلاب کی شدید مخالفت کی ، سکیورٹی کونسل میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر پابندیوں کی حمائت میں ووٹ دیا، ایران بھارت کی سات سالہ جنگ میں عراق کا بھرپورساتھ دیا، ایران نے ہمیشہ اسرائیل کی مخالفت کی مگر بھارت نے اسرائیل کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات قائم کئے اور اسرائیل نے بھارت کوجدید ترین سراغ رساں ریڈار، جنگی طیارے اور گولہ بارود فراہم کیا۔ صرف چارسال پہلے2013ء میں ایران نے بھارت کے سب سے بڑے تیل برادر جہاز کو روک لیاتھا۔بھارتی میڈیا ایران کی حد سے زیادہ ناز برداری پر نریندر مودی کی ناکام خارجہ پالیسی پربرس رہاہے۔ دوسری طرف امریکہ کی منافقت ! ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر کااسلحہ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا۔ ایران کے خلاف تقریر کی اورایران کے ساتھ قطر کے تعلقات کی سخت مذمت کرتے ہوئے عرب ممالک کی طرف سے اس کی زمینی اور سمندری ناکہ بندی کی بھرپور حمائت کی اور .... اور اب قطر کے ساتھ مشترکہ بحری جنگی مشقوں کے لیے دوبڑے جہاز قطر بھیج دیئے ہیں۔ قطر کے مقام 'العوید' میں امریکہ کا مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے۔ اس میں امریکی فوجیوں کی تعداد9ہزار سے بڑھ کر 11ہزار ہوگئی ہے۔ اس اڈے سے جنگجو طیاروں کی 100 سے زیادہ پروازیں ہوتی ہیں۔ ٭ملک کی سیاست میں ایک دوسرے کے خلاف گالیوں ، طعنوں نے کھلے طورپر ہرزہ سرائی کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ اورشرم ناک محاورے بولے جارہے ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ محض اپنے والد کے ایک نجی 'آرڈی ننس' کی بنا پر کم سنی میں پیپلز پارٹی کی جاگیر کاوارث بن جانے والے بلاول زرداری ( پتہ نہیں نام کے ساتھ بھٹو کیوں لکھاجاتا ہے؟) نے گزشتہ روز رومن رسم الخط میں لکھے جانے والے ایک بیان میں وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں صاحب! آپ چور ہیں، آ پ کو چوری کی سزا بھگتنا پڑے گی۔یہ بدتمیزی کی انتہا ہے۔سیاسی طورپر انتہائی نابالغ اس نوجوان کو شائد کسی نے نہیں بتایا کہ میا ں نوازشریف کی عمر اس کے والد آصف زرداری کی عمر سے پانچ سال زیادہ ہے۔ سیاست مہذبانہ حکمت عملی کا نام ہے مگر اسے محض گالی گلوچ بنادیاگیا ہے۔ بلاول اس سے پہلے برسراقتدار آکرمیاں نوازشریف کو جیل بھیجنے کا اعلان بھی کر چکا ہے۔ میاں نوازشریف کی سیاست جو بھی ہے، اس پر جوبھی اعتراضات کئے جائیں، ان کا معاملہ اس وقت عدلیہ کے روبرو چل رہاہے۔ یہی 'بدنامی' کیا کم ہے کہ وقت کا نہائت طاقت ور وزیراعظم کااپنے ہی ماتحت افسروں کے سامنے ایک 'ملزم' کی حیثیت سے پیش ہورہاہے اور اپنی صفایاں دے رہاہے۔وزیراعظم کا بھائی، دونوں بیٹے اور داماد بھی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ ان لوگوں کی حکمرانی اور دوسری باتوں پر سخت تنقید ہورہی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بیٹھے بٹھائے خودبخود ایک سیاسی پارٹی کا 'لیڈر' بن جانے پر جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش والا ایک نوجوان بزرگوں کا اس انداز سے تمسخر اڑانے لگے۔ ویسے کیا قابل ذکر بات ہے کہ ٹھیک دوسال پہلے16 جون 2015ء کو برخوردار کے والد آصف زرداری نے انتہائی طیش ،انتہائی خشونت کے عالم میں پورا منہ کھول کر چنگھاڑتے دہاڑتے ہوئے فوج کو مخاطب کرتے ہوئے جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے اور کراچی سے طورخم تک پورا ملک بند کردینے کی خوفناک دھمکی دی تھی( اس کے بعد یہ صاحب دبئی بھاگ گئے )۔ برخوردار بلاول زرداری! یہ تو بتاؤ کہ اس کے بعد قبلہ والد صاحب نے اپنے اس چیلنج پر عمل کیوں نہ کیا؟ یہ کیسی سیاست ہے کہ بیرون ملک اپنا مستقل ٹھکانہ بنالیا ہے؟ مگر ایک بلاول ہی کیا ، دوسرے خاندانوں کے ولی عہد اور شہزادے بھی ایسی ہی زبان بول رہے ہیں۔ ٭بھارت کی ایک خبر: انتہا پسند ہندو ایک عرصے سے پراپیگنڈا کرتے آرہے ہیں کہ تاج محل ہندوؤں کے ایک مندر کو مسمار کرکے اس کی جگہ بنایاگیا تھا اس مندرکونئے سرے سے اسی جگہ پر تعمیر کرنا ضروری ہے۔ اب یہ معاملہ زیادہ سنجیدہ رُخ اختیار کرگیا ہے۔ یوپی کے کٹڑ انتہا پسند ہندو وزیراعلیٰ یوگی نے وربھنگہ کے مقام پر ایک تقریر میں کہا ہے کہ تاج محل کا بھارت کی تہذیب اور ثقافت سے کوئی تعلق نہیں، یہ عمارت بھارتی ثقافت کی کوئی نمائندگی نہیں کرتی۔ بھارت پراس وقت انتہا پسند بی جے پی کی حکومت ہے۔ بھارت کا دورہ کرنے والے غیر ملکی مہمانوں کو تاج محل اور قطب صاحب کی لاٹ کے نمونے (REPLICA) پیش کئے جاتے تھے۔ نریندر مودی کی حکومت نے احکام جاری کئے ہیں کہ آ ئندہ ان اشیاء کی بجائے غیر ملکی مہمانوں کو ہندوؤں کی کتاب بھگوت گیتا اور رامائن کے نسخے پیش کیے جائیں گے۔ آئندہ غیر ملکی مہمانوں کو تاج محل دکھانے میں بھی احتیاط برتی جائے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2015ء میں انتہا پسند ہندو وکلاء کے ایک گروپ نے عدالت میں درخواست دائر کررکھی ہے کہ تاج محل کی جگہ پر شودیوتا کا مندر ہوتا تھا، جسے راجا پرم داری نے تعمیر کیاتھا۔ اس خبرپر بھارتی وزیر مہیش شرما نے لوک سبھا(اسمبلی) میں بیان دیا کہ مکمل تحقیقات سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ تاج محل کو کسی مندر کی جگہ پر تعمیر کیاگیا ہے۔ ٭آج پاکستان اور بھارت کا عالمی سطح کا کرکٹ چمپئن بننے کا مقابلہ ہورہاہے۔ پاکستان بھر میں پاکستانی ٹیم کی کامیابی کی دعائیں مانگی جارہی ہیں۔ دونوں ملکوںمیں اس وقت بے پناہ جو ش وخروش کا مظاہر ہ ہورہاہے۔ کھیلوں میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے مگر پاکستان کی ٹیم نے پے در پے بڑی بڑی ٹیموں کو واضح شکست دے کر کرکٹ کے حلقوں کو حیرت زدہ کررکھا ہے۔ خداتعالیٰ اسے کامیابی عطا فرمائے! مگر خدا جانے ایک سابق کپتان عامر سہیل کو بیٹھے بٹھائے کیا تکلیف ہوئی ہے کہ پاکستانی ٹیم کی ان شاندار کامیابیوں کو دھند لاتے ہوئے اس کے کپتان سرفراز احمد پر میچ فکسنگ کا گالی نماالزام لگا دیا ہے کہ اس کی کامیابیوں کے پیچھے کسی تیسری قوت کا ہاتھ ہے۔ اس پر بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف آسمان سر پر اٹھالیا ہے۔ پتہ نہیں عامر سہیل کے اس مذموم بیان کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ کرکٹ بورڈ نے عامر سہیل کے اس بیان کا سخت محاسبہ کیا ہے۔ ٭ایک دلچسپ واقعہ: قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والی حالیہ سربراہی کانفرنس کے موقع پر ان کے ملکوں کے جھنڈوں اورنقشوں کا جو پمفلٹ شائع کئے کیاگیا۔ اس میں دہلی کے لال قلعہ پر بھارتی پر چم لہراتے ہوئے اسے لاہور کے شالا مار باغ کا حصہ دکھایاگیا۔ اس پر بھارتی سفارت کار برہم ہوگئے اور انتظامیہ کی توجہ اس طرف دلائی۔ پاکستان کے سفیر نے بھی بتایا کہ لال قلعہ شالا مارباغ کا حصہ نہیں ہے۔ اس کھلی توہین پر بھارتی میڈیا برس رہا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
100%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved