بھارت کے لئے محب وطن کون؟ غیر محب وطن کون؟
  19  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
بھارت عملاً ایک قوم کی سرزمین نہیں بلکہ اقوام و قبائل اور اسی طرح ادیان و مذاہب کی سرزمین ہے۔ مگر ہندو مذہب پیدائشی طور پر ’’برتر‘‘ اور ’’ کمتر‘‘ انسان کی دائمی تقسیم پر مبنی ہے۔ ’’برہمن‘‘ کو اعلیٰ ترین اور محب وطن ترین کا درجہ حاصل ہے۔ بھارت جو کبھی جھوٹ موٹ کا سیکولر کہلاتا تھا آج مکمل طور پر ہندو مذہب‘ ہندو کلچر اور ہندو بالادستی کا ریاستی خاکہ ہے۔ سکھ مذہب بابا گورو نانک کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ وہ ہندو ذہن میں اسلامی میل و جول سے ارتقاء کا نام ہے۔ سکھ مذہب کے بانیان کا معاشرتی زیادہ تعلق ہندوؤں کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ رہا تھا۔ مقدس عبادت گاہوں کی تعمیر میں سکھ قائدین نے مسلمان مذہبی شخصیات کی رفاقت کو پنجاب کی سرزمین کے لئے امن‘ ترقی‘ سکون اور ارتقاء کا نام دیا تھا یہ تو درمیان میں ہندو سازش تھی کہ سکھ مذہب کو مسلمانوں سے دور کرنے کے لئے مسلمان مغل بادشاہوں کے جبرو ظلم کے قصوں میں دھکیل دیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح تقسیم برصغیر کے وقت نہایت سازشی انداز میں ماسٹر تارا سنگھ کو مسلمان دشمن کردار اپنانے پر آمادہ کرکے سکھوں کی آزادی اور معاشرتی و سیاسی ارتقاء کو تباہ و برباد کر دیا گیا تھا۔ جونہی ماسٹر تارا سنگھ نے برصغیر کی تقسیم میں ہندو سازش میں مبتلا ہوکر پاکستان دشمنی کردار ادا کر دیا تو آزادی کے فوراً سکھوں کا پنجاب ہندو برہمن وزیراعظم نہرو کے ہاتھوں میں تین صوبوں میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے سکھ طاقت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ مدت بعد سکھوں میں احساس آزادی جاگ اٹھا اور اس سکھ قوم جس کے ایک فرد کو بھارت کا صدر بنایا گیا تھا اس سکھ قوم کو محب وطن کی بجائے ’’خالصتانی‘‘ کا نام دیکر دہشت گرد اور غیر محب وطن ثابت کیا گیا ہے آج بھارت کا سکھ ہندو معاشرے ‘ اقتدار وسماج میں محب وطن نہیں بلکہ وہ ’’خالصتانی‘ ہے یعنی جو اپنا ’’خالصتان‘‘ مانگتا ہے کچھ مسلمانوں کو پاکستان تحریک سے دور رکھنے کے لئے جمعیت العلمائے ہند اور مولانا آزاد اور جمعیت العلمائے ہند کا بھارت میں بھی دہشت گرد بتایا جاتا ہے۔ آپ ذرا بھارت کی حالیہ تاریخ کو دیکھ لیں۔ جتنے بھی دھماکے ہوئے۔ آگ لگائی گئیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس ہو یا کچھ اور ‘ یہ سب ہندو تنظیموں اور اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے ہندوؤں کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوئے۔ مگر الزام معصوم بھارتی مسلمانوں پر لگاکر ہزاروں بے گناہ اور معصوم مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں پر مقدمات قائم کیے گئے اور ان کی زندگی جھوٹے الزامات کے ذریعے تباہ کر دی گئی۔ مگر خدا کی شان دیکھیں کہ انہی عناصر جنہوں نے ہندو سازش پر عمل کیا انہی میں سے کچھ نے بالآخر کئی سال بعد اعتراف کیا کہ تباہی و بربادی اور دہشت گردی تو خود ہندو ذہن کی تخلیق تھی مسلمان تو بے قصور اور بے گناہ تھے۔ ان ہزاروں بے گناہوں کی زندگیاں جیلوں کی نذر ہوگئیں۔ خاندان تباہ ہوگئے‘ تب بھی بھارتی ہندو سرزمین میں مسلمان ہی کو دہشت گرد کہا جاتاہے حالانکہ ہندو ذہن‘ ہندو سیاست ‘ ہندو اقتدار سب سے بڑا دہشت گرد اور انسانیت دشمن ہے۔ دلت ہندو ہوکر بھی ذلیل ترین انسان ہیں۔ معاشرتی اور سماجی طور پر ہندو مذہب کے لئے وہ کمی کمین اور کمتر ہیں۔ ان کی معاشرتی جبری خدمت کے باوجود انہیں دہشت گردوں کا ہمدرد کہا اور ثابت کیا جاتا ہے۔ ہندو قبائل جو کمزور ہیں اپنی سرزمین سے اغیار اور ہندو سیاست کے ذریعے ہونے والی لوٹ مار پر احتجاج کرتے ہیں۔ انہیں غیرت مند قبائل تسلیم کیے جانے کی بجائے‘ نکسل باغی کہا جاتا ہے۔ گویا یہ ہندو قبائلی جو اپنی سرزمین پر جینے کا جائز استحقاق مانگتے ہیں وہ باغی اور سرکشی ہیں حالانکہ ان کا دین اور مذہب بھی ہندو ہی ہے۔ کشمیری خواہ مسلمان ہو یا کچھ اور ہو۔ ان کو ’’اکال وادی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ ویسے تو کانگرسی وزیراعظم نہرو نے کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ کیا۔ زبردستی راجہ حکمران کشمیر سے الحاق کروایا حالانکہ ان کا بیٹا آج کھل کر کہتاہے کہ اس کے والد نے ہرگز الحاق بھارت نہیں کیا تھا مگر زبردستی ہندو ذہن کے سنگھ سے الحاق منسوب کرنے والے ہندو ذہن کے سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ اب انہی کشمیریوں کو اکال وادی ثابت کرتے ہیں۔ تاریخ کا سب سے بڑا جبر‘ ظلم ہندو بی جے پی اقتدار کشمیریوں پر کرتا ہے۔ انسانی حقوق کا جہنم آج کشمیر ہے۔ مسلمانوں کی زندگی تباہ۔ چہروں پر فائرنگ کرکے زندگی بھر کے لئے اپنا حق مانگنے والوں کو اپاہج کیا جاتا ہے۔ افسوس امریکی صدر کو اس کے باوجود صرف بھارت دہشت گردی میں مبتلا اور دوچار نظر آتا ہے حالانکہ دہشت گردی میں مبتلا تو بھارت کی سرزمین پر بسنے والے وہ مظلوم ہیں جو مسیحی ہیں۔ انہیں ’’خون چوسنے‘‘ والے کہا جاتا ہے۔ کیا امریکی صدر کو آزادی کے متمنی جنوبی ہند کے قبائل پر ہونے والا ہندو اسٹیبلشمنٹ کا جبر و ظلم نہیں نظر آتا؟ مسلمانوں پر ہونے والا ہندو اسٹیبلشمنٹ اور سیاست کا جبرو ظلم و تباہی نظر نہیں آتی؟ سکھوں کے ساتھ جبرو ظلم کی طویل داستان نظر نہیں آتی؟ دلتوں کے ساتھ سیاسی و معاشرتی و ریاستی جبر نظر نہیں آتا؟ ہندو اسٹیبلشمنٹ اور ہندو سیاست میں اور شاید دنیا ہندو میں بھی صرف برہمن ہی اعلیٰ ترین ہے اور وہی اکیلے محب وطن بھی۔ باقی سب ناقابل اعتبار اور غدار و غیر محب وطن۔ یہ ہے بھارتی سرزمین پر ہندو اسٹیبلشمنٹ اور ہندو سیاست کی مکمل کہانی۔ کیا یہ سب کچھ امریکہ و یورپ کو نظر نہیں آتا؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved