ایک عدد قلم فروش کرائے پر درکار ہے!
  19  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

وطن عزیز کی ایک ملک گیر سیاسی پارٹی کو ایک عدد ایسے کالم نویس کی ضرورت ہے جو عامۃ الناس کو بے و قوف بنانے میں مہارتِ تام رکھتا ہو۔ قومی زبان کے ہر ایک لفظ کا سیاسی ترجمہ کرنے کے فن میں یدِ طولیٰ رکھنے والے کو ترجیح دی جائے گی۔ یہ اشتہار قوم کے وسیع تر مفادات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ایک ایسی سیاسی پارٹی کی طرف سے شائع کیا جا رہا ہے جسے بادی النظر میں ’’الفائدہ گروپ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے! ’’الفائدہ گروپ‘‘ دنیا بھر میں اپنی ایک انوکھی پہچان اور نرالی شناخت رکھتا ہے۔ اثاثہ جات کی تفصیلات اِس مختصر اشتہار میں درج کرنا غیر ممکن ہے۔ مگر اپنی مالی حیثیت کا اظہار اِس لئے ضروری ہے تا کہ امیدواروں کے دِلوں میں کہیں یہ خطرہ اُن کے فیصلوں کو متزلزل نہ کر دے کہ شائد! الفائدہ گروپ قلم فروشی کی قیمت نہیں چُکا سکتا! الفائدہ گروپ ماضی قریب اور ماضی بعید کے بڑے بڑے نامور قلم فروشوں کے دام لگا چکا ہے۔ لہٰذا ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جہاں تک اِس سیاسی پارٹی کی مالی حیثیت کے اوپر اُٹھنے والے غیر ضروری سوالات ہیں وہ ایک بُودے خیال کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ دنیا کا کوئی ایسا بنک نہیں جس میں ’’الفائدہ گروپ‘‘ کے اکاؤنٹس نہ ہوں، اور کوئی ایسا خطۂ ارض نہیں جہاں پر مذکورہ پارٹی کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں نہ ہوں! یہ سیاسی پارٹی اگرچہ ایک غریب ملک سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر اپنی ذات میں مالی حیثیت کے اعتبار سے قطعاً غریب نہیں ہے۔ دولت کے انبار، کوہِ ہمالیہ کو بھی شرمندہ کر دیں۔ بازار کی زینت بننے والی ہر جنس کو خریدنے کی سکت رکھنے والی اِس سیاسی پارٹی کو اب یہ ادراک ہوا ہے کہ اگر کسی معاشرے میں اقتدار کی فصیلیں تعمیر کرنی ہوں تو اُس ملک کے دانشوروں کو خرید لینا چاہئے! چنانچہ اِس ضمن میں ’’الفائدہ گروپ‘‘ کی مجلس شوریٰ کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس میں یہ طے پایا کہ اپنے موقف کے ابلاغ کے لئے ملک کے معروف دانشوروں کی بصیرت اور بصارت کو خرید لیا جائے۔ اِس ضمن میں باقاعدہ ایک قرارداد منظور کی گئی ہے۔ مجلس شوریٰ کے اِس فیصلے کو دو تہائی ممبران کی حمائت حاصل ہونے کے بعد یہ اشتہار شائع کیا جا رہا ہے۔ مجلس شوریٰ کے زیرک ممبران نے چیئرمین کے اِس خیال سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے اِس امر کی شدت سے ضرورت محسوس کی ہے کہ پارٹی کے موقف کو جان دار انداز میں عامۃ الناس تک پہنچانے کے لئے دانشوروں کو کرائے پر حاصل کیا جانا ازحد ناگزیر ہے۔ چنانچہ پہلے مرحلے میں تجرباتی بنیادوں پر ایک عدد کالم نویس کی خدمات حاصل کرنا مجلس شوریٰ کے اکثریتی ممبران نے منظور کر لیا ہے۔ اِسی فیصلے کے پیش نظر بذریعہ اشتہار ہذا ’’الفائدہ گروپ‘‘ اِس امر کو طشت ازبام کر رہا ہے کہ زیر دستخطی سے امیدوار اپنے مکمل کوائف، تجرباتی سرٹیفکیٹس اور تعلیمی اسناد کے ہمراہ بالمشافہ ملاقات کریں۔ امیدوار قومی زبان میں سلاست کے ساتھ تحریر لکھنے کا اہل ہو! کسی بڑے دانشور کے قدموں میں اپنا وقت گزارنے، خدمات سرانجام دینے اور لفظوں کے گورکھ دھندے میں وسیع تجربہ رکھتا ہو۔ امیدوار کی سیرت سے کوئی سروکار نہیں۔ صورت جیسی بھی ہو قابل قبول ہو گی مگر اِس بات پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کہ وہ بددیانتی کے کاروبار میں دیانتداری کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے۔ یہ ایک عالمی سچائی ہے جس سے دنیا کا کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ بددیانتی کے کاروبار سے منسلک ہر ایک فرد کو دیانتداری کے بین الاقوامی قواعد و ضوابط اور اصولوں کی پاسداری کرنا لازم قرار پاتا ہے۔ چنانچہ امیدوار زیردستخطی سے بالمشافہ ملاقات سے پہلے اِس امر کو یقینی طور پر تسلیم کر لیں کہ اُنہیں جھوٹ کو سچ لکھنا ہو گا! دِن کو رات اور رات کو دِن بیان کرنا ہو گا؟ ظلم کو رحم، ڈاکہ زنی کو حقوق اِنسانیت ‘کرپشن کو مجبوری سود کو حلال، قتل کو جائز قرار دینا ہو گا۔’’الفائدہ گروپ‘‘کے چیئرمین صاحب امیدوار سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ زورِ قلم سے مہنگے کپڑوں میں ملبوس سستے لوگوں اور سستے کپڑوں میں ملبوس مہنگے لوگوں کی سوچوں کو زہرآلود کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہ رکھتا ہو۔ وہ الفائدہ گروپ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو نوکِ قلم سے زمین بوس کرنے کا فن جانتا ہو کہ اُس کی تحریر پڑھ کر قاری کا دِل موم ہو جائے اور معاشرے میں رائے عامہ ہموار ہونے لگے۔ ہر کسی کی زبان ’’الفائدہ گروپ‘‘ کے راگ الاپنے لگے۔ نوجوان، بچے، بوڑھے، عورتیں اور مرد جذباتی کالموں کو پڑھ کر لفظ لفظ پر اپنی سوچیں نچھاور کر دیں۔ ہر چہار جانب ایک ہی صدا گونجے، ایک ہی سوچ پروان چڑھے۔ لوگ جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ’’الفائدہ گروپ‘‘ کی حمائت میں سڑکوں پر نکل آئیں جلسوں کا حسن دوبالا ہو جائے اور جلوس طاقت کی علامت بن جائیں۔ امیدوار ’’الفائدہ گروپ‘‘ کے مخالف لکھاریوں اور کالم نویسوں کی بولتی بند کر سکتا ہو۔ لفظوں کی چابک سے وہ مخالف نظریات کے حامل افراد کے سوچ بدن کو اذیت سے ہمکنار کرنے کا فن جانتا ہو۔ وہ قلم کی حُرمت، لفظوں کی تاثیر، روشنائی کے تقدس، سوچ کی تقدیس سمیت بدن اور ضمیر فروخت کرنے کو گناہ نہ سمجھتا ہو۔ وہ بس اتنا جانتا ہو کہ جب دولت سامنے آئے تو اُس کا ایمان متزلزل ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا! وہ سچ بولنے والوں کے افکار کو کافر، اظہار کو مشرک اور انکار کو ملحد قرار دینے میں لچک نام کی کسی چیز سے آشنا نہ ہو۔ وہ قبرستانوں کو آباد بستیاں، ویرانوں کو باغ، خار کو گلاب، آگ کو برف، مقتول کو قاتل، قاتل کو مقہور، مظلوم کو ظالم، ظالم کو مظلوم، درد کو دوا اور دوا کو لادوا بیان کرنے پر کامل دسترس رکھتا ہو۔ وہ ’’الفائدہ گروپ‘‘ کے جعلی منشور کو نیلے پیلے رنگوں میں لپیٹ کر معاشرے میں رواں دواں سوچ سمندر کو کھارا قرار دینے، بصیرت کی پرواز اڑنے والے طائرانِ وطن کے بال و پر کاٹنے اور کترنے کا کردار ادا کرنے کے ہنر سے بھی آشنا ہو! اُس کے نزدیک وطن کی محبت ایک بے ہودہ خیال ہو۔ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ایک جاہلانہ قول ہو۔ سسکتی ہوئی اِنسانیت کو وہ تقدیر بیان کرے۔ بُھوک اور پیاس سے مرنے والوں کو وہ اُن کی اپنی غلطی قرار دے۔ اور الفائدہ گروپ کی ثروت کو وہ محض رحمتِ ایزدی لکھے۔ وہ انصاف کا خون بہانے والوں کو مسیحا قرار دے۔ اور اپنے اسلوب تحریر سے وہ الفائدہ گروپ کے ہر دشمن کو مدلّل انداز میں زیر کر لے یہاں تک کہ دنیا عش عش کر اُٹھے! ایسی خوبیوں کے حامل امیدوار آج ہی زیردستخطی سے بالمشافہ ملیں۔ قابلیت کی بنیاد پر قیمت لگائی جائے گی! سودا کیا جائے گا۔ قلم کا بھی اور ضمیر کا بھی۔ جو بکنا چاہے وہ آ جائے! صلائے عام ہے، یارانِ نکتہ داں کے لئے!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved