صرف الیکٹرانک میڈیا کے لیے
  19  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

* جہاں ہلکا سا دھواں بھی اٹھتے دیکھیں، سازوسامان لے کر فوراً پہنچیں۔ اگر آگ بجھنے کے قریب ہو تو اسے ہوا دے دیں، جل رہی ہو تو بھڑکا دیں، بھڑک رہی ہو تو اس پر مزید تیل ڈال دیں۔ اس دوران تماشبینوں کو بھی اس گھر پھونک تماشے پر اکسائیں۔ اس سارے عرصے کے دوران چیخ چیخ کر حکومت، افسروں اور فائر بریگیڈ والوں کو صلواتیں سنائیں۔ ’’غریبوں کے جھونپڑے راکھ ہو گئے، پانچ منٹ گزرنے کے باوجود فائر بریگیڈ کا ایک افسر بھی موقعہ پر نہیں پہنچا۔ جو فائر بریگیڈ آیا ہے اس کے پانی کی دھار بھی قوم کی حالت کی طرح پتلی ہے (اس کی فکر نہ کریں کہ پہلے جملے میں آپ نے فائر بریگیڈ نہ پہنچنے کا شکوہ کیا تھا، عوام کا حافظہ بڑا کمزور ہے، انہیں دوسرے فقرے تک اکثر پہلا فقرہ یاد نہیں رہتا)۔ لوگ مر گئے افسر اور وزیر چین کی نیند سو رہے ہیں۔ خدا جانے اس ملک کا کیا بنے گا۔‘‘ جونہی آگ آپ کی ساری کوششوں کے باوجود بجھ جائے، ناظرین کو ہر گز اطلاع نہ ہونے دیں (مبادا وہ چند لمحے چین کی نیند سو جائیں) اور کسی دوسرے دھوئیں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں۔ حفظِ ماتقدم کے طور پر جیب میں ماچس کی ڈبیا ضرور رکھیں۔ کیا خبر کہیں اور دھواں نظر آئے یا نہ آئے۔ * ہسپتالوں پر خاص نظر رکھیں۔ جوں ہی کسی مریض کے دم توڑنے کی خبر ملے، آپ بھی نیوز بریک کر دیںْ ڈاکٹروں کی غفلت نے ایک اور جان لے لی ،لواحقین کا ہسپتال کے سامنے دھرنا، ڈاکٹروں کے خلاف نعرے۔‘ اکثر کم عقل لواحقین احتجاج کی بجائے متوفی کے کفن دفن، اقربا کو اطلاع دینے اور رونے دھونے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ انہیں کار آمد کام میں لگائیں۔ ان کے غم کو غصے میں، دکھ کو اشتعال میں، رونے دھونے کو نعرے بازی میں بدل دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ چند لمحوں میں تجہیز و تکفین کو بھول کر ڈاکٹروں کو اگلی دنیا کی سیر کرانے کے پیچھے لگ جائیں گے۔ ڈاکٹر آپ کے آگے پیچھے منتیں کرتے پھر رہے ہوں گے۔ گرما گرم فلم تو بنے گی ہی، آئندہ کوئی مریض دکھانے جائیں گے تو باہر آ کر استقبال کریں گے، جاں بلب مریضوں کو چھوڑ کر آپ کے مریض کے نزلے کے پیچھے پڑ جائیں گے، ٹھنڈا گرم پوچھیں گے اور ہسپتال کی ناکارہ ادویات کی جگہ اندرونِ خانہ سے اعلیٰ Sample بصد ادب پیش کریں گے۔ ساتھ ساتھ طاقت اور مردانگی کے Sample بھی اتنی خاموشی سے آپ کی جیب میں ڈال دیں گے کہ خود آپ کو گھر جا کر بوقت ضرورت، خبر ہو گی۔ اس دوران اگر وہ جاں بلب مریض اللہ کو پیارا ہو گیا تو ایک اور نیو’ز بریک‘ تیار ہے۔ *’نیوز بریک‘ پاکستانی میڈیا کی حیرت انگیز ایجاد ہے۔ اِس سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔ پاکستان میں ’نیوز‘ کا کام ہی ’بریک‘ ہونا ہے، اسے دل کھول کر ایسے بریک کریں کہ اس کے ٹکڑے ہر گھر ،صحن اور محلے میں گرتے ہوئے نظر آئیں ہر ایک یہ گاتا پھرے۔۔ ’اِک خبر کے ٹکڑے ہزار ہوئے،کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا‘ 24گھنٹے، 60منٹ، 60سیکنڈ نیوز بریک ہی نیوز بریک۔ ناظرین کا سانس ایک دفعہ اوپر جائے تو پھر اوپر ہی رہ جائے۔ ’بریک‘ پر ’بریک‘، اتنی ’بریکیں‘ کہ سانس کو نیچے آنے کی مہلت ہی نہ ملے۔ ہمارا معاشرہ خبروں سے بھرا ہوا ہے۔ کہیں بھینس گٹر میں گر گئی ہے، کہیں گٹر سے ابھر رہی ہے، کہیں بجلی آ رہی ہے، اکثر جگہ پر جا رہی ہے، وزیر داخلہ اندر داخل ہو رہے ہیں، وزیر جیل خانہ جات باہر ہو رہے ہیں، میرا مسکرا رہی ہے، کیٹرینہ دانت دکھا رہی ہے، بلی درخت پر چڑھ گئی ہے، کتا نیچے رہ گیا ہے، بینگن سستے ہو گئے ہیں، لوگ آلو کھا رہے ہیں۔ خبریں ہی خبریں اور ہر خبر ایسی کہ ناظرین کھانا کھاتے ہوئے دیکھیں تو بوٹیوں کی بجائے دوسروں کی انگلیاں چباتے جائیں اور انہیں پتہ تک نہ چلے کہ یہ ان کی اپنی انگلیاں نہیں ہیں۔ افسوس ’نیوز بریک‘ کے لیے وقت بہت محدود ہے، پورے دن میں صرف 24 گھنٹے اور ہر گھنٹے میں صرف 60 منٹ اور ہر منٹ میں صرف 60سیکنڈ۔ جس جاہل شخص نے بھی وقت کے یہ پیمانے بنائے تھے، اسے شاید علم نہیں تھا کہ پاکستان میں ’نیوز بریک‘ کے لیے یہ کتنا تھوڑا وقت ہے۔ حیرت ہے ایسی رونگٹے کھڑے کر دینے والی ’نیوز بریک‘ بعض چینلز صرف دو یا تین سو دفعہ چلاتے ہیں۔ حالانکہ بھینس کے گٹر میں گرنے، جیسی چونکا دینے والی ’نیوز بریک‘ اگر 2 یا 3 ہزار دفعہ بھی چل جائے تو گجر برادری اسے دیکھتے ہوئے نہیں تھکے گی۔ ایک اور فائدہ یہ کہ ایک نیوز بریک سے دوسری ’نیوز بریک‘ بغیر سوچے سمجھے نکلتی آئے گی (کیونکہ اگر سوچنے سمجھنے لگی تو کبھی نہیں نکلے گی)۔ اب بھینس باہر نکل آئی ہے، اب وہ اِدھر اُدھر دیکھ رہی ہے کہ میرا مالک مجھے گٹرمیں چھوڑ کر کہاں چلا گیا تھا۔ اب مالک پہنچ چکا ہے، لوگوں کا جم غفیر بھینس کی خیریت دریافت کرنے کے لیے جمع ہے، افسوس حکومت کا کوئی نمائندہ ابھی تک خبرگیری کے لیے نہیں آیا، افسوس غریب بھینسوں کا اس دنیا میں کوئی پرسان حال نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ خبرنامے سے پہلے ایسے معنی خیز اشارے بریک کے طور پر آ سکتے ہیں۔۔۔ کیا بھینس اس صدمے کی تاب لا سکے گی؟ گٹر میں گرنے سے بھینس پر اعصابی اثرات؟ کیا آج بھینس دودھ دینے پر تیار ہو جائے گی؟ کیا وزیر اعلیٰ اس واقعے کا نوٹس لیں گے؟ * ’ٹاک شوز‘ میں بطور میزبان جی بھر کر مہمانوں کو کھری کھری سنائیں۔ مہمان ایسے تلاش کریں کہ جن میں اینٹ کُتے کا ویر ہو او رآتے ہی ایک دوسرے پر جھپٹ پڑیں۔ اگر وہ جھپٹنے میں شرم وحیا سے کام لیں تو بطور میزبان آپ کو ’ششکارنے‘ کا پورا حق حاصل ہے۔ لڑائیں اور حکومت کریں کا محاورہ پرانا ہو چکا۔ ٹاک شوز کا محاورہ ہے ’لڑاؤ اور تماشہ دیکھو‘ آپ نہیں جانتے یہ تماشے دیکھ کر لوگ کتنے خوش ہوتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، دھماکوں اور لوٹ مار کے مارے ہوئے لوگ یہ تماشے دیکھ کر کچھ دیر کے لیے اپنے سارے غم بھول جاتے ہیں۔ ’شو‘ کا مطلب ویسے بھی تو تماشہ ہی ہے۔ مزید خوشی لوگوں کو یہ دیکھ کر ہوتی ہے کہ اتنے بڑے بڑے ناموں والے، بڑے بڑے لوگ، انہی کی طرح ،اندر سے کتنے چھوٹے اور کھوکھلے ہیں۔ مہمانوں کی بے عزتی باری باری کریں۔ ایک مہمان کو سنائیں گے تو دوسرا خوش ہو گا، دوسرے کو رگیدیں گے تو پہلا خوش ہو گا۔ یوں پروگرام کے اختتام پر سارے ہی خوش خوش گھروں کو لوٹیں گے کہ کیسے دوسرے کی پتلون سربازار اتری ہے۔ جوں ہی کوئی مہمان کام کی بات کرنے لگے اسے فوراً کاٹ دیں، اس کے لیے آسان ترین نسخہ چھوٹی سی آدھ گھنٹے کی بریک کا ہے جس کے بارے میں ہم اوپر تفصیلاً کار آمد نسخے بتا چکے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved