لوٹو پاکستان‘ کونسا ڈبہ کھولوں
  19  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

آپ بھی یہ آواز روز سن رہے ہوں گے جیتو پاکستان کونسا ڈبہ کھولوں لوگ خوش ہو رہے ہیں‘ خالی ہاتھ آتے ہیں‘ جاتے میں لدے پھندے‘ موٹر کاریں‘ موٹر سائیکل‘ فرج‘ جنرنیٹر۔ بچے بزرگ خواتین‘ نوجوان‘ بہت خوشی خوشی‘ چمکتے دمکتے چہرے۔ ادھر جے آئی ٹی چل رہی ہے۔ تاریخ رقم کی جارہی ہے۔ جمہوریت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اربوں روپے کہاں سے آئے۔ لندن کے فلیٹس کس طرح خریدے‘ کٹھ پتلیاں‘ منتخب حکمرانوں کے خلاف سازشیں وغیرہ وغیرہ جیتو پاکستان پانامہ لیکس‘ الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتوں کی غیر ملکی فنڈنگ‘ سب میرے ذہن میں گڈ مڈ ہو رہے ہیں۔ ذہن کے پردے پر پاکستان کے 70سال چلنے لگتے ہیں۔ لے کے رہیں گے پاکستان‘ بٹ کے رہے گا ہندوستان پاکستان بن گیا ہے۔ اکابرین اپنی سی کوشش کر رہے ہیں۔ نئی مملکت‘ نئے چیلنج‘ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے کارکن‘ بزرگ تو اپنا سب کچھ پاکستان پر لٹا چکے ہیں۔ قائداعظم پاکستان کے دوسرے سال کے آغاز میں ہی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ تیسرے سال کے آخر میں قائد ملت لیاقت علی خان کو بھرے جلسے میں شہید کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد تو محسن بھوپالی کے شعر کی عملی تاویل شروع ہوگئی ہے نیئرنگئی سیاست دوراں تو دیکھئے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے یہ جو شریک سفر نہیں تھے۔ جو قیام پاکستان کے وقت پہلی صفوں میں کہیں نظر نہیں آتے ہیں۔ وہ اب آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کا نعرہ ہے لوٹو پاکستان‘ اینکرپرسن کبھی سیاسی ہے ۔ کبھی فوجی‘ کبھی بیوروکریٹ آواز یہی آتی ہے ۔ لوٹو پاکستان پہلے منظر میں پوچھا جاتا ہے۔ کون ڈبہ کھولوں۔ اس میں متروکہ املاک نکلتی ہیں۔ ہندوؤں اور سکھوں کے چھوڑے ہوئے بنگلے‘ زرعی زمینیں ‘ کارخانے‘ کلیم داخل کئے جارہے ہیں ۔ سٹیلمنٹ ہو رہی ہے۔ اب اسے این آر او کہا جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے مکانوں کے عوض کئی کئی ہزار گز کی کوٹھیاں لی جارہی ہیں۔ مملکت خداداد پاکستان میں یہ ابتدا ہے۔ ناجائز ذرائع سے آمدنی کے حصول کی۔ اس میں سب شامل ہیں۔ مہاجر بھی انصار بھی یہ تو متروکہ املاک کو اپنی ملکیت بنانے کی ہوشربا داستان ہے۔ متروکہ املاک ٹرسٹ آج بھی پروگرام پیش کرتا ہے۔ لوٹو پاکستان‘ اس ٹرسٹ کا سربراہ ہر حکومت سیاسی ہو یا فوجی‘ اپنی مرضی کا اینکر لگاتی ہے۔ پھر ڈبے کھلنے کا پروگرام جاری رہتا ہے۔ نیا ملک ہے‘ صنعتی کارخانے لگانا ضروری ہیں‘ زیادہ تر صنعتیں بھارت میں رہ گئی ہیں۔ پھر پروگرام شروع ہوتا ہے۔ کارخانوں کے پرمٹ‘ اپنے منظر ونظر افراد کو‘ کونسا ڈبہ کھولوں‘ ڈبہ کھلتا ہے ٹیکسٹائل مل کا پرمٹ‘ پٹ سن مل کا پرمٹ‘ سیمنٹ کے کارخانے کا پرمٹ‘ لوگ خالی ہاتھ آتے ہیں۔ لدے پھندے چلے جاتے ہیں پرمنٹ ان کو ملتے ہیں جن کا صنعت و حرفت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اس پرمٹ پر کارخانے کوئی اور لگاتا ہے۔ ایک اور پروگرام شروع ہوتا ہے ۔ اب ڈبے کھلتے ہیں تو ان میں لڑکوں کے چیسز کے پرمٹ نکلتے ہیں کاروں کے پرمٹ نکلتے ہیں۔ دوپرمٹ مل جائیں تو ایک گاڑی مفت پڑ جاتی ہے۔ آواز وہی ہے ۔ لوٹو پاکستان‘ اینکرپرسن بدل جاتا ہے ۔ شرکا بدل جاتے ہیں۔ ایک پروگرام یہ بھی ہوتا ہے کہ نوکریوں کے امیدوار موجود ہیں ۔ ڈبہ کھلتا ہے کسی کو انکم ٹیکس کی ملازمت ملتی ہے ‘ کسی کو کسٹم کی ‘ یہ سب محکمے اپنے اپنے ہاں ’’لوٹو پاکستان‘‘ کے پروگرام چلاتے ہیں کہیں ڈبے کھلتے ہیں۔ کہیں بریف کیس‘ انکم ٹیکس والے نے قائداعظم کی تصویر لگا رکھی ہے اور ساتھ (رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنم میں جائیں گے) اپنے ناجائز مسائل حل کروانا والا انکم ٹیکس آفیسر کو مطلوبہ رقم دے کر بہت خوشی سے اٹھتا ہے آفیسر سے ہاتھ ملاتا ہے OK SEE YOU IN HELL اچھا‘ پھر جہنم میں ملیں گے۔ یہ ملک ان دونوں کے لئے جنت اور جن کا مال لوٹا جارہا ہے۔ ان کے لئے جہنم بن رہا ہے۔ ایک روز منظر دیکھتے ہیں۔ نئی بستیاں آباد ہو رہی ہیں ‘ اب ڈبے کھلتے ہیں تو رہائشی پلاٹ نکل رہے ہیں 240گز‘1000گز کہیں انہیں ایک کنال‘ دو کنال کہا جاتا ہے بے چارے سویلین بھی اس پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں۔ پھر ہماری سرحدوں کے محافظ بھی اس نیک کام میں شریک ہو جاتے ہیں۔ ہاؤسنگ اتھارٹیاں قائم ہونے لگتی ہیں۔ مٹی سونا بن رہی ہے۔ پلاٹ ملتے کسی کو ہیں۔ خریدتا کوئی ہے اور بالآخر ان میں رہتا کوئی اور ہے۔ 1970ء کے الیکشن سے لے کر اب تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ہر رکن نے کئی کئی پلاٹ کوڑیوں کے دام لئے ہیں۔ پھر جب زمین تنگ ہو جاتی ہے ‘ نئے پلاٹ نہیں کٹ سکتے‘ تو کہیں چائنہ کٹنگ ہوتی ہے کہیں اور کتربیونت‘ من حرامی حجتاں ڈھیر‘ ایم این اے‘ ایم پی اے کو مرضی کے پلاٹ نہ ملیں تو وہ ناراض ہو کر فاروڈ گروپ بنا لیتا ہے یا کسی دوسری جماعت میں جانے کی دھمکی دیتا ہے۔ سویلین حلفیہ طور پر صرف ایک قطعہ زمین رکھ سکتے ہیں۔ عسکری حلقوں میں ایسی پابندی نہیں ہے ان کو مختلف مراحل پر ایک ایک پلاٹ ملتا ہے۔ پلاٹ کم پڑ گئے ہیں ’’لوٹو پاکستان‘‘ میں اب ڈبے کھلتے ہیں ۔ زرعی زمینوں کو رہائشی بنانے کے لئے۔ رہائشی کو کمرشل پلانے کے ‘ سب سے قیمتی ڈبے میں۔ ایس آر اوز کے ‘ ایک ایس آر اوز سے اربوں روپے اپنی تجوری میں آجاتے ہیں۔ صنعت کار سیاست میں آئیں تو ایس آر او سے کھیلتے ہیں۔ اب اینکر پرسن ڈبے کھولتا ہے ۔ کلیدی عہدوں کے ‘ کون سا ڈبہ کھولوں‘ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا ایکسائز ٹیکیشن کا‘ نیب کا‘ ایف بی آر کا‘ کے پی ٹی کا‘ او جی ڈی سی کا‘ کسی ڈبے میں نیشنل بنک آف پاکستان نکل آتا ہے کسی میں پیمرا‘ کسی میں پاکستان کرکٹ بورڈ۔ یہ پروگرام وفاقی چینلوں پر بھی ہوتے ہیں اور صوبائی چینلوں پر بھی‘ پھر نیچے مقامی چینلوں پر ہی قدرت پاکستان پر مہربان ہے۔ ڈبے ہمیشہ بھرے رہتے ہیں۔ ڈیل کارڈ بھی کم نہیں ہوتے۔ جیتو پاکستان اور لوٹو پاکستان میں فرق یہ ہے کہ یہاں جو بچے بزرگ خواتین آتے ہیں انہیں پتہ نہیں ہوتا‘ ڈبے میں کیا ہے۔ ’’لوٹا پاکستان‘‘ میں جو آتے ہیں انہیں اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کس ڈبے میں کیا ہے اور یہ ڈبہ نکلوانے کے لئے اینکر پرسن سے کس طرح ڈیل کرنی ہے‘ جیتو پاکستان زیادہ رمضان میں چلتا ہے۔ ’’لوٹو پاکستان‘‘ ہر موسم میں چلتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved