ایک تھا بادشاہ۔ ہمارا تمہاراخدا بادشاہ
  22  جون‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اس کالم کا یہ عنوان دیکھ کر نوجوان نسل سوچے گی کی یہ کیا بات ہوئی، مگر میری جیسی پکّی عمرکے بزرگ یہ پڑھ کر مسکرادیں گے۔ اب سے کوئی ساٹھ ستّر سال پہلے کی بات ہے جب ہم جیسے لوگ بچّے تھے اُس زمانے میں نہ ٹی وی ہوتا تھا نہ تو موبائل بلکہ لینڈ لائن ٹیلیفون بھی کسی کسی گھر میں پایا جاتا تھا، ایک لے دے کے ریڈیو تھا وہ بھی رات دس گیارہ بجے ترانہ سُناکر خاموش ہوجاتا تھا۔ تو رات گزارنے کیلئے نانیاں اور دادیاں گھر کے تمام بچّوں کو اپنے پلنگ پر جمع کرلیتیں اور انہیں مزے مزے کی کہانیاں سناتی تھیں، کیوں کہ ہر کہانی میں ایک شہزادہ اور ایک شہزادی ضرور ہوتی تھی اس لئے کہانی اسی اوپر دئیے گئے جملے سے شروع ہوتی تھی، ایک تھا بادشاہ کہنے کے بعد بزرگ خواتین اس خیال سے کہ کہیں بچّے احساس کمتری کا شکار نہ ہوجائیں انہیں بتاتی تھیں کہ ہم بادشاہ نہ ہوئے تو کیا ہوا ہمارا بادشاہ ہمارا خدا ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوںگے کہ اس آج کل کی تیزی سے دوڑتی بھاگتی زندگی میں یہ کالم نویس صاحب کیا بادشاہ کی کہانی لے کر بیٹھ گئے ہیں تو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس بائیسویں صدی میں بھی کچھ لوگ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتے ہیں اور بادشاہوں ہی کی طرح برتائو رکھتے ہیں، چلیں آپ کہانی تو سُنیں۔ ہاں تو بچّو! ایک تھا بادشاہ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، دراصل وہ بادشاہ نہ تو پہلے بادشاہ تھا نہ اس کا کوئی شاہی خاندان تھا وہ بیچارہ تو ایک سیدھا سادہ کاروباری انسان تھا، پھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اس کی دوستی ملک کے سپاہ سالار سے ہوگئی، اس سپاہ سالار کی بڑی بڑی آنکھیں اور یہ لمبی مونچھیں ہوتی تھیں، سب لوگ اس کے کنٹرول میں تھے اس لئے جب اس سپاہ سالار نے اس کاروباری کو اپنے دربار میں جگہ دی تو کوئی کچھ نہ بولا۔ اللہ تمہارا بھلا کرے ایک دن یہ سپہ سالار اپنے اڑن کھٹولے پر بیٹھ کر اپنی فوج کا معائنہ کرنے جارہا تھاتو اس کا اڑن کھٹولا دھڑام سے زمین پر گرگیا اور بے چارہ سپہ سالار مرگیا۔ ادھر یہ کاروباری دربار میں رہ کر کچھ کچھ چالاک ہوگیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے وہ بادشاہ بن گیا۔ نئے بادشاہ کو اس کے وزیروں اور درباریوں نے بتایا کہ اس کے ملک میں لوگ بہت غریب ہیں ایک وقت کی روٹی مل جائے تو دوسرے وقت کا پتہ نہیں ہوتا، گھروں میں چراغ جلانے کیلئے تیل نہیں اس لئے ساری رات پورا ملک اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے، پینے کیلئے پانی نہیں، پڑھنے کیلئے مکتب نہیں اور مکتب ہیں تو ان کی عمارت نہیں۔ پڑھانے کو استاد نہیں بیمار پڑ جائیں تو دوا خانوں میں طبیب ہیں نہ دوائیں۔ ہاں میں یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ اس نئے بادشاہ کو کھلونوں سے کھیلنے کا بڑا شوق تھا، وہ درباریوں کی یہ باتیں سُن سُن کر کچھ پریشان ہوگیا اچانک اس کی نظر اپنے کھلونوں پر پڑی تو اس کے دماغ میں فوراً تمام مسائل کا حل نکل آیا۔ دوسرے دن اُس نے دربار میں اعلان کیا کہ ملک کے تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ ہم لوگوں کو قسطوں پر پیلے رنگ کی گھوڑا گاڑیاں ہزاروں کی تعداد میں دیں گے۔ وہ ان زرد رنگ کی گاڑیوں میں لوگوں کو ایک سے دوسری جگہ لے جائیں اور کرایہ وصول کریں ملک کی ساری تکالیف دور ہوجائیں گی، درباری بڑے خوش ہوئے کچھ نے پیلی گھوڑا گاڑیاں اپنے نوکروں،خادموں اور کنیزوں کے نام سے لے لیںکچھ نے ان گاڑیوں کو کسی دوسرے کے نام سے بیچنا شروع کردیا اور کچھ نے تو پیلا رنگ اتار کر نیا رنگ کروالیا اور گاڑیاں اپنے استعمال میں لے آئے۔ ظاہر ہے اس سے شاہی خزانے کو بہت نقصان ہوا اور کچھ لوگ دبی زبان میں بادشاہ کیخلاف باتیں کرنے لگے۔ کچھ عرصے کے بعد لوگوں میں پھر شور اُٹھا کہ ہمارے بچوں کے پڑھنے کیلئے کتابیں اور کاپیاں نہیں ہیں، بادشاہ پھر پریشان ہوگیا اُس نے اپنے چھوٹے بھائی سے مشورہ کیا جسے اس نے بڑے صوبے کا حاکم بنایا ہوا تھا، چھوٹے بھائی کو بھی کھلونوں کا بڑا شوق تھا وہ اپنے کھلونوں کے کمرے میں گیا اور اچانک اس کی نظر اس کے کھلونے پر پڑی جو اس کو پڑھانے والے استاد نے اس کو شاہی خزانے سے خرید کر دیا تھا، یہ کھلونا واقعی بڑا مزیدار تھا، چاہو تو اس سے کھیل لو اور ضرورت پڑے تو اس سے تعلیم بھی حاصل کی جاسکتی تھی، بس پھر کیا تھا شاہی حکمرانوں نے سوچا کہ مکتب تعمیر کرنے، استاد ملازم رکھنے اور کتابیں کاپیاں خریدنے کی کیا ضرورت ہے ہم ہونہار طلباء کویہ کھلونا دیں گے جس کا نام کسی مسخرے نے'' ٹپ ٹاپ'' رکھا تھا، مگر ایک مشکل تھی کہ یہ کھلونا ملک میں نہیں بنتا تھا باہر کے ملکوں سے منگوانا پڑا۔مگر بادشاہ جب بھی یہ ٹِپ ٹاَپ کھلونا ہونہار طلبہ میں خوشی خوشی تقسیم کرتا اس کے ملک کی رعایا یہی سوچتی رہ جاتی کہ ہونہار طالب علم بننے کیلئے تو پہلے چھوٹے مکتبوں میں پڑھنا پڑتا ہے جن کی حالت بہت خراب تھی مگر بادشاہ کو یہ بات کون بتائے۔ مگر عوام میں چلی ہوئی بات چھپی کہاںرہتی ہے، بادشاہ کے جاسوسوں نے یہ شکایت دربار تک پہنچادی، بادشاہ نے اپنے بھائی سے مشورہ کیا اور ایک بار پھر بادشاہ کے بھائی نے مشکل حل کردی، اُس نے ملک کے چند بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے مکتبوں کیلئے بڑی بڑی عمارتیں بنائیں اور ان کا نام'' عقل مکتب'' رکھا مگر ان مکتبوں میں صرف ہونہار طلباء ہی داخلہ لے سکتے تھے، رعایا کی مشکل وہیں کی وہیں رہی۔ بچّو! یہ رعایا بھی عجیب مصیبت ہے بادشاہ کچھ بھی کرے اس کے مسائل حل نہیں ہوتے، دراصل ہوا یہ کہ اتنے سال کی بادشاہت نے بادشاہ کو بہت امیر بنادیا اور وہ ہمیشہ اوپر یعنی آسمان کی طرف دیکھ کر چلتا تھا لہذا منصوبے بھی اونچے اونچے بناتا تھا جبکہ رعایا زمین پر رہتی تھی اور گردن بھی سیدھی رکھتی تھی اس لئے اس کو وہ مسائل نظر آتے تھے جو زمین پر ہوتے تھے، ایک بار پھر شاہی جاسوسوں نے رعایا کی شکایت لگادی کہ یہ لوگ آپ کی دولت پر اعتراض کررہے ہیں اور تو اور سلطنت کے قاضی کی اتنی ہمت ہوگئی کہ اُس نے آپ کو اپنی عدالت میں طلب کیا ہے، یہ سُن کر بادشاہ نے غصّے سے اپنا سر پیٹ لیا اور چلّا کر بولا۔ اس جاہل رعایا کو بتائو کہ شاہی خزانہ ہی بادشاہ کا اپنا خزانہ ہوتا ہے، کیا شاہ جہاں نے اپنی چہیتی بیگم کی یاد میں تاج محل شاہی خزانے سے نہیں بنوایا تھا؟'' یہ سُن کر بادشاہ کے وزیر دربار سے چپ چاپ منہ لٹکاکر ایک ایک کرکے باہر نکل گئے کیوں کہ وہ بادشاہ کے سامنے اپنا سر نہیں پیٹ سکتے تھے۔ کہانی ختم۔ پیسہ ہضم!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved