مشرق وسطیٰ میں سیاسی مدّو جزر
  2  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

2015 میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد شاہ عبدالعزیز کے سب سے چھوٹے صاحبزادے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی عرب کا تخت سنبھالا تو وہ اپنے بھائیوں کی قطار کا آخری سرا تھے، شہزادے تو اور بھی بہت سے ہیں مگر شاہ عبدالعزیز کی سینئر بیوی کے یہ سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ ان کے تمام بڑے بھائی اپنا اپنا شاہی وقت پورا کرکے انتقال کرچکے۔ سعودی عرب میں اب بھی بیعت کرنے کی روایت چلتی آرہی ہے اور تمام بڑے اور اہم قبیلوں کے سردار بیعت کونسل کے ممبر ہیں جن کی تعداد34 ہے، شاہ سلمان نے اپنے سوتیلے بھتیجے شہزادہ محمد بن نائف کو اپنا ولی عہد بنایا تو سعودی عرب کے عوام نے اطمینان کا سانس لیا اور بیعت کونسل نے فوراً ہی منظوری دے کر بیعت کرلی مگر اس کے ساتھ ہی شاہ سلمان نے اپنے لاڈلے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد بنادیا۔ ولی عہد کو وزارت داخلہ ملی جو سلطنت کی انتہائی اہم وزارت ہے۔ وزارت دفاع کا قلمدان نائب ولی عہد کے حصّے میں آیا۔ شہزادہ محمد بن نائف جن کی عمر57 سال ہے۔ امریکہ کی ڈیمو کریٹک حکومت کے قریب تھے اور شاید ان کو ولی عہد بنانے میں صدر بارک اوماما اور سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کا ہاتھ تھا۔ وہ اپنی عمر اور مزاج کے لحاظ سے سنجیدہ اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں جبکہ شہزادہ محمد بن سلمان اپنی31 سال کی عمر اور تیز مزاج کے ساتھ انتہائی زیرک، جلد فیصلہ کرنے والے اور پھر اس پر قائم رہنے والے شخص ہیں، اس وقت غالباً ہائوس آف سعود میںان سے زیادہ تیز طرار شخصیت اور کوئی نہیں پائی جاتی۔ وزیر دفاع کی حیثیت سے انھوں نے اپنے والد کے پلان کو تیزی سے آگے بڑھایا اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ ہُوطی فیصلے سے جنگ کو بہت تیز کردیا۔ نائب ولی عہد کی حیثیت میں انھوں نے سعودی عرب کی معیشت کو مختلف سمتوں میں بڑھاوادینے اور سعودی عرب کی سوسائٹی کو زیادہ قابل قبول بنانے کیلئےVision 2030 کو کامیاب کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا، وہ اس بات کے بھی حامی ہیں کہ اسرائیل، فلسطین تنازع بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے چاہے اس کیلئے اسرائیلی حکومت سے براہِ راست گفتگو کرنی پڑے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی قسمت کے تارے نے عروج پر جانا تھا اور اس کی شکل یہ بنی کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں حیرت انگیز طور پر ریپبلکن امیدوار آشفتہ صفات کے مالک ڈونلڈ ٹرمپ فتح یاب ہوگئے جو نہ صرف ایران کے سخت مخالف ہیں بلکہ جن کی بیوی، بیٹی اور داماد یہودی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ایران اور اسرائیل دونوں کے منصوبے آگے بڑھانے کیلئے شہزادہ محمد بن سلمان سے بہتر کون مل سکتا تھا۔ اسی سال مارچ میں شہزادے کو نائب ولی عہد کی حیثیت میں صدر امریکہ سے ملاقات کی دعوت دی گئی،جہاں ایک سربراہ مملکت کی طرح انھوں نے صدر امریکہ سے وائٹ ہائوس کے اوول آفس میں تفصیلی ملاقات کی جس کے بعد ان کے اعزازمیں پر تکلف ظہرانہ دیا گیا، دوسرے دن شہزادے نے چار گھنٹے تک پینٹاگون میں سیکرٹری دفاع سے ملاقات کی۔ شہزادہ محمد بن نائب کو یہ سب کچھ ناگوار گزرا اور انھوں نے اپنی شکایت سفارتی ذرائع سے امریکہ کی حکومت تک پہنچائی مگر ابھی یہی پر بس نہیں ہوا، صدر ٹرمپ کی صاحبزادی ایونکا ٹرمپ اور ان کے داماد جیریڈ کشُنر نے اپنے گھر پر شہزادے کے اعزاز میں ڈنر کا اہتمام کیا۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ پہنچتے ہی اپنے پہلے بیرونی دورے کو انتہائی کامیاب قراردیا جو کہ ایک حقیقت تھی اور جس کے اثرات کچھ ہفتوں کے اندر ہی دنیا کے سامنے آگئے سعودی عرب میں جس امریکہ مسلم عرب کانفرنس میں صدر امریکہ تشریف لائے تھے اس کے اعلامیے میں ہی ایران کی مخالفت اور دہشتگردوں کی پشت پناہی کچھ ممالک کی طرف سے کرنے کے جو اعلانات شامل تھے وہ زمینی حقائق بن کر دنیا کے سامنے آگئے۔ ایران نے تو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات حقارت سے رد کردئیے اور فوراً ہی وہاں دو بڑے دہشتگرد حملے ہوگئے جن میں ایک امام خمینی کے مزار پر تھا۔ دوسری طرف قطر کو ایران کی حمایت اور دہشتگردوں کی پشت پناہی اور مالی امداد کرنے کے الزام میں سزا کا مستحق ٹہرایا گیا اور سعودی عرب، مصر بحرین، متحدہ عرب امارات اور چند دوسری مملکتوں نے قطر کی زمینی، سمندری اور فضائی ناکہ بندی کردی۔ یاد رہے کہ اوسط انفرادی آمدنی کے لحاظ سے قطر دنیا کا امیر ترین ملک ہے اور پیٹرول اور گیس کی دولت سے مالا مال ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصرLNG کیلئے چالیس فی صد حد تک قطر کے محتاج ہیں اور یہLNG بجلی بنانے کیلئے استعمال ہوتی ہے دوسری طرف قطر اپنی غذائی ضروریات کیلئے ان ہی ممالک پر بھروسہ کرتا ہے، قطر میں نہ صرف امریکن ایئر فورس کاسب سے بڑا اڈہ ہے بلکہ وہاں ترکی کی افواج بھی موجود ہیں۔ ان تمام عوامل کومدّ نظر رکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ قطر کا معاملہ انتہائی اُلجھا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یمن میں ہُوطی قبیلے( شیعہ فرقہ) کیخلاف سعودی جنگ اور ایران کی مزاحمت میں مزید تیزی آسکتی ہے اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ عراق، شام اور یمن میں اسلامی عرب اتحاد کی فوجوں کی کمان کوئی اور نہیں ہمارے اپنے جنرل( ریٹائرڈ) راحیل شریف کررہے ہیں، مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا یہ کہنا کہ جنرل راحیل شریف وہاں ذاتی حیثیت میں گئے ہیں ایک احمقانہ وضاحت ہے۔ صدر ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کی دوسری کامیابی شہزادہ محمد بن سلمان کی بطور ولی عہد تعیناتی ہے۔ اللہ شاہ سلمان کو لمبی صحت اور زندگی عطا فرمائے وہ ایک82 سالہ بوڑھے اور بیمار شخص ہیں جن کیلئے زیادہ دیر بغیر سہارے کھڑے رہنا بھی مشکل ہے۔جب بھی شہزادہ محمد سلمان شاہی تخت پر براجمان ہوئے وہ ایک لمبے عرصے تک سعودی عرب پر حکومت کرسکتے ہیں۔ کیا مکمل اقتدار ملنے اور عمر کے کچھ اور آگے بڑھنے کے بعد ان کے مزاج اور عمل میں اعتدال کا عنصر شامل ہوسکتا ہے، اس کیلئے شاید طویل انتظار درکار ہوگا اور بین الاقوامی سیاست کی بساط پر طویل عرصے تک سوچنے اور سنجیدہ فیصلے کرنا ہی کامیاب چال ثابت ہوتے ہیں ورنہ جنرل( ریٹائرڈ) راحیل شریف کی عرب اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی سنبھالنے کی طرح شہہ مات کھانے کا شدید خطرہ ہمیشہ سامنے رہتا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved