دو حادثے ایک پیغام
  5  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

رمضان کا مبارک مہینہ اپنے اختتام کی جانب رواں دواں تھا، عبادتوں کے ساتھ ساتھ عید کیلئے خریداری بھی زور پکڑ رہی تھی کہ اچانک پارا چنار میں ایک اور دہشت گردی کی واردات ہوگئی۔ پارا چنار میں بہت بڑی تعداد میں شیعہ برادری کے لوگ آباد ہیں اور اس سے پہلے بھی محّرم کے مہینے میں اور اس کے علاوہ بھی اس فقہ کے لوگ پارا چنار میں دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ محرم میں بطور خاص یہاں بہت تنائو کی کیفیت رہتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یہاں پہلے سے ہی تیار رہتے ہیں۔ اس دہشتگردی کے واقعہ میں ایک عجیب وغریب بات یہ ہوئی کہ حادثے کے بعد وہاں جمع ہونے والے ہجوم پر فائرنگ کردی گئی، جلتی ہوئی آگ پر تیل ڈالنے کے اس واقعے کے بعد لوگ دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور احتجاج کرنے لگے۔ خیبر پختون خواہ میں مسلم لیگ ن کی حکومت نہیں ہے بالکل اسی طرح جیسے سندھ میں ان کی حکومت نہیں ہے۔ اگر آپ حساب لگانے بیٹھیں تو آپ حیران ہوجائیں گے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے غیر ملکی دُوروں کی تعداد اُن کے پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں کے مجموعی دُوروں سے زیادہ بنتی ہے اگر ان کے سرکاری اور غیر سرکاری دُوروں کی تعداد کو جمع کرلیا جائے۔ بہرحال بات ہورہی تھی سانحہ پارا چنار کے لوگ سڑکوں پر بیٹھے رہے، دن اور رات اسی طرح گزر گئے۔ اُن کا ایک معمولی مطالبہ تھا کہ حکومت کا کوئی سینئر عہدیداران کے زخموں پر مرہم رکھنے نہیں آیا۔ ہوتے ہوتے مطالبہ یہاں تک پہنچا کہ دھرنا اس وقت ختم ہوگا جب وزیر اعظم خود تشریف لائیں گے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اسی نوع کے دھرنے کوئٹہ کی سردی اور برف باری میں ہزارہ قبائل کے لوگوں نے بھی دئیے تھے جب پاکستان میں دہشت گردی عروج پر تھی، بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو نے ہزارہ برادری پر پے درپے دہشت گردی کے حملے کرانے کی ذمّہ داری قبول کی ہوئی ہے۔ آپ کو یہ تو معلوم ہی ہوگا کہ ہزارہ قبائل کا تعلق بھی شیعہ برادری سے ہے۔ بہرحال نواز شریف اور ان کے حواری تو پارہ چنار نہیں پہنچے کہ اس وقت ان کو اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی کوششوں سے فرصت نہیں۔ ہوسکتا ہے آنے والے دنوں میں شریف( یہ سر نیم ہے) فیملی کو اب سے کچھ عرصے بعد پاکستان صرف اس حوالے سے یاد رہے کہ یہ وہ ملک ہے جہاں اُن پر کرپشن کے الزامات لگے تھے، بہرحال عید آئی اور گزر گئی۔ غم وغصّے سے نڈھال لوگ پارہ چنار کی سڑکوںپر دھرنا دئیے بیٹھے رہے، وزیر اعظم عید منانے لندن چلے گئے۔ بھلا ہو چیف آف آرمی اسٹاف کا جو عید کے بعد پارہ چنار پہنچے۔ غم زدہ لوگوں سے تعزیت کی اور یوں دھرنا ختم ہوگیا۔ یاد رہے کہ پارہ چنار اب بھی دہشت گردی کا نشانہ بن سکتا ہے، اس شہر سے چند کلو میٹر دور افغانستان کے تورہ بورہ پہاڑ ہیں جن میں بے شمار قدرتی اور انسانی ہاتھوں سے بنائے ہوئے غار اور خندق ہیں اور یہاں اسامہ بن لادن بہت عرصے مقیم رہا اور امریکیوں نے یہاں ٹنوں کے حساب سے اس قدر زیادہ بم برسائے کہ تورہ بورہ کے الفاظ محاورہ بن گئے، تشویشناک بات یہ ہے کہ تورہ بورہ پر داعش کا قبضہ ہونے کی خبریں اب پرانی ہوچکیں۔ اس کے علاوہ پارہ چنار افغانستان کے تین صوبوں سے قریب ہے جس میں ننگر ہار کا علاقہ بھی شامل ہے جس پر طالبان کا قبضہ ہے، یہی وجہ ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف نے یہاں مزید فوج بھیجنے کا اعلان کیا اور ایف سی کی کمانڈ فوری تبدیل کردی۔ یہ اقدامات یقیناً احتجاج کرنے والے دُکھی دلوں کیلئے باعث اطمینان ہوں گے مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ اقداماتReactive ہونے کی بجائےProactive ہوتے کیوں کہReactive ہونے کی عادت تو ہماری سول قیادت کو ہے بلکہ وہ اس کے ماہر ہیں۔ چاند رات قریب تھی کہ ایک اور دل دہلا دینے والا حادثہ ہوگیا۔ احمد پور شرقیہ کے علاقے میں نیشنل ہائی وے پر ایک گائوں کے نزدیک پیٹرول سے بھرا ہوا ایک ٹینکر الٹ گیا اور ہزاروں لیٹر پیٹرول بہہ کر تالاب کی شکل اختیار کرگیا۔ نہ صرف گائوں کے لوگ خالی برتن، بوتلیں اور برتن لے کر مفت پیٹرول لینے کیلئے جمع ہوگئے بلکہ شاہراہ پر چلنے والے تقریباً ڈیڑھ سو موٹر سائیکل اور چند کار والے بھی اس لُوٹ میں شامل ہوگئے۔ یہ انتہائی خطرناک کھیل اپنے عروج پر تھا کہ بہتے تیل میں آگ لگی اور ایک زوردار دھماکہ ہوگیا، دھوئیں کے بادل ہٹے تو189 افراد موت کے منہ میں جاچکے تھے۔147 موٹر سائیکلیں اور کئی کاریں تباہ ہوچکی تھیں۔ کچھ وقت کے بعد جب1122کی ایمبولینس جائے وقوع پر پہنچیں تو اندازہ ہوا کہ بات1122 کے ہاتھ سے باہر ہے۔ پھر وہی ہوا جو اس ملک میں ہوتا ہے یعنی فوجی ہیلی کاپٹر نے زخمیوں کو اٹھا اٹھاکر بہاولپور اور ملتان پہنچانا شروع کیا۔ ایئر فورس کےC-130 طیارے زخمیوں کو لیکر لاہور کی طرف اڑے۔ مرنے والوں میں بیشتر کی شناخت نا ممکن تھی۔ چند لاشیںDNA کی مدد سے پہنچانی گئیں۔ سیاستدانوں میں صرف پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی پکچر سیشن اور ٹی وی سیشن کیلئے آئے وہ بھی اس لئے کہ یہ اُن کے سیاسی اثر ورسوخ کا علاقہ ہے۔ قارئین! آپ نے غور فرمایا کہ ان دو حادثات میں جو ایک دوسرے سے سینکڑوں کلو میٹر کے فاصلے پر ہوئے، مماثلت کیا ہے۔ مماثلت یہ ہے کہ ان حادثات سے قوم کی اجتماعی جہالت ظاہر ہوتی ہے۔ چاہے وہ جہالت فرقہ پرستی کی صورت میں پارہ چنار میں ہو یا احمد پور شرقیہ کے اس علاقے میں جہاں لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں تھا کہ پیٹرول میں آگ لگانے کیلئے صرف گاڑی کا الٹناہی کافی ہے۔ بغیر کسی دیا سلائی اور سگریٹ کے جلانے کے۔ ہوسکتا ہے اس حادثے کا سبب وہ موبائل فون بنے ہوں جو لگاتار تصویریں بنارہے تھے۔ دوسری مماثلت یہ کہ حکومتی کارندے نہیں بلکہ یہ فوج ہے جو ایک بار پھر پارہ چنار کے غمزدہ لوگوں کو دلاسہ دینے اور پیٹرول ٹینکر سے جُھلسنے والے زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کیلئے پہنچی۔ یاد رہے کہ ہمارے ہر گورنر اور ہر وزیر اعلیٰ کو ایک ایک ہیلی کاپٹر اور گورنر کو ایک ایک ہوائی جہاز'' ڈیوٹی'' کیلئے دیا جاتا ہے۔ مماثلت کے علاوہ ان دونوں حادثات میں تضادات بھی پایا جاتا ہے۔ وزیر اعظم پارہ چنار کے حادثے کے بعد بغیر پارہ چنار گئے عید منانے لندن چلے گئے۔ جنوبی پنجاب میںپیٹرول ٹینکر کا حادثہ ہونے پر عید کا پروگرام ملتوی کرکے واپس آگئے۔ پارہ چنار کے شہیدوں کیلئے جو بالکل بے قصور تھے فی کس دس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان ہوا۔ پیٹرول ٹینکر کے ہلاک ہونے والوں کیلئے بیس بیس لاکھ فی کس امداد کا اعلان ہوا۔ کس فارمولے کے تحت؟؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved