فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی اسلام دشمن قوتوں کی سازش
  9  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اس وقت امت مسلمہ کو عالمی سطح پر جن حالات کا سامنا ہے ، وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔عالمی استعمار جو ممالک اسلامیہ میں انتشار اور اختلافات کے جو بیج بورہا ہے یہ ہماری اپنی نااہلی کا نتیجہ بھی ہے اور ان کی بھی کوشش ہے کہ ان کو تقسیم در تقسیم کرکے باہم دست و گریباں کیا جائے ۔عراق میں فوجی مداخلت کرکے ایک عرصے سے شیعہ سنی مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے۔شام میں بھی یہ عمل جاری ہے۔مسلمانوں کے درمیان قتل و غارتگری کا بازار گرم ہے۔سعودی عرب اور ایران کے اختلافات کو ہوا دے کر انہیں ایک دوسرے کا بدترین دشمن بنا دیا گیا ہے۔اب سعودی عرب اسرائیل سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔قرآن کا فرمان ہے کہ یہودی مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔یہ انتہا درجہ کا المیہ ہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ دشمنوں نے پچھلی دہائی میں سب سے زیادہ اس حوالے سے پاکستان میں کوششیں کی ہیں کہ دونوں مسالک کے پیروکار ایک دوسرے گردنوں پر وار کریں۔ایک دوسرے کے بقائے باہمی کا احترام کرتے ہوئے شیعہ سنی کے اختلافات کا معاملہ تو تاریخی طور پر چلا آرہا ہے۔اپنے اپنے مسلکی عقائد کی پیروی پر کسی کو اعتراض نہیں۔لیکن دونوں پر امن طور پر مل جل زندگی گزارتے چلے آرہے ہیں۔لیکن ایک دور میں بڑی سازش کے تحت ان کو آپس میں لڑایا گیا جس میں عالمی قوتیں ملوث تھیں۔بظاہر بڑی خونریزی نظر آرہی تھی جس کے پیچھے را اور امریکہ کا ہاتھ تھا۔یہ وہ حقائق ہیں جو سامنے نہیں لائے جاتے اور ان کی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔لیکن حقائق اپنی جگہ موجود ہیں۔ پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے یہ سب کچھ یہاں بھی کیا گیا ۔کبھی مسجد میں دہشتگردی کی واردات ہوتی اور کبھی امام بارگاہ میں ۔یہ معاملہ تسلسل کے ساتھ چل رہا تھا۔لیکن الحمد للہ ثم الحمد للہ پاکستانی عوام نے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنایا۔آج بھی شیعہ سنی وطن عزیز میں پر امن طور پر رہ رہے ہیں۔حال ہی میں دشمنوں نے اس سلسلے میںاپنی کوششوں میں اضافہ کردیا ہے۔پارا چنا ر جو افغانستان کی سرحد سے متصل واقع ہے ، وہاں دہشتگردی کا ایک بڑا واقعہ ہوا ہے ۔سو سے زیادہ جانیں گئی ہیں۔یہ صورتحال بہت ہی تشویشناک ہے۔ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔اس حوالے سے عید سے اگلے دن ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر منصورہ میں ہوا تھا اور میں بحیثیت کونسل کے رکن کے وہاں حاضر تھا۔ وہاں یہ طے ہوا کہ اس معاملہ پر مذمت کا اظہار کیا جائے اور اسلام دشمن قوتیں جو ہمیں لڑانے کی کوششیں کررہی ہیں، انہیں ناکام بنایا جائے۔اس موقع پر قرار داد مذمت پاس کی گئی ۔الحمد للہ ، تمام مسالک کے علماء کرام اور ملی جہتی کے ارکان اس موقع پراکٹھے ہوئے تھے۔وہاں یہ واضح کیا گیا کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور جو غیر ملکی قوتوں نے یہاں سازشوں کے گڑھ بنارکھے ہیں ، یہ سانحہ بھی اس کے نتیجے میں برپا ہوا ہے اور ہمیں اس وقت باہم دست و گریباں ہونے کی بجائے ، ہمیںآپس میں اتحاد کا مظاہر ہ کرکے ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنادینا چاہئے۔ہمیں اپنے باشعورقوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا ہے۔میڈیا نے مختلف ذرائع سے خبردی ہے کہ پاکستان کو مشترکہ ہدف بنانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔یہود کے بعد قرآن میں مشرکوں کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن قراردیا گیا ہے۔فرمایا گیا کہ اے مسلمانو! تم اپنی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پائوگے۔نصاریٰ کلی طور پر یہود کے آگے سرنڈر کرچکے ہیں ۔اب یہود و نصاریٰ ایک قوت بن چکے ہیں۔ان کے ساتھ مشرکین مل کر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔اسلام کے سارے دشمن پاکستان کے خلاف ایک جگہ اکٹھے ہوچکے ہیں۔ ٹرمپ جو امریکہ کا صدر بننے سے پہلے افغانستان سے فوجیں نکالنے کی بات کرتا تھا ۔اس کا موقف یہ تھا کہ ہماری افغانستان میں موجودگی کا کوئی فائدہ نہیں ۔ہم نے وہاں بہت نقصان برداشت کیا ہے۔ہم نے اپنے ہزاروں فوجی بھی مروائے ہیں اور ہمارے بجٹ کا بہت بڑا حصہ افغانستان میں لگا ہے۔اب اس نے افغانستان میں مزید امریکی فوجی بھیجنے اور وہاں پاکستان کے خلاف بھارتی کاروائیوں کی کھلم کھلا حمایت شروع کردی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ پورے طور پر یہود کا تابع ہے۔پنٹاگون میں یہود کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ یہ ادارہ معاملات کو ادھر سے ادھر ہونے نہیں دیتا۔اسلام کو مٹانے کے لئے افغانستان ان کا پہلا ہدف ہے۔لہٰذا وہاں بجٹ کا جتنا حصہ بھی خر چ ہوجائے،اسے ہدف بنائے رکھنا ہے۔ ٹرمپ الیکشن سے پہلے جو بھی دعوے کرتے رہے ہوں ، اسے انہی خطوط پر آنا ہوگا اور وہ آچکا ہے۔یہ اصل حقائق ہیں۔ ہم پر ایک بار پھر مطالبات میں اضافہ ہوچکا ہے۔حقانی نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جائے جس کی پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں۔یہ درحقیقت پاکستان کوکھلی دھمکی دی جارہی ہے۔ایک زمانے میں ہم ان کے فرنٹ لائن اتحادی بنے تھے اور ان کے محبوب ممالک میں سے ایک تھے۔لیکن اہل بصیرت کو علم تھا کہ اس کا انجام کیا ہونا ہے۔وہ انجام جو آج ہم بھگت رہے ہیں۔اس وقت ہم امریکہ کے سب سے بڑے دشمن گردانے جارہے ہیں۔یہ اعلان بھی سامنے آیا کہ پاکستان میں ڈرون حملوں میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔یہ گویا ہماری قومی سالمیت پر کھلا حملہ ہوگا۔قوم اور حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ان قوتوں کے مقابلے میں صرف اللہ کی مدد ہی ہمیں بچاسکتی ہے۔اللہ کے مدد کے حصول کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے، میں اسے ان کالموں میں بارہا پیش کرچکا ہوں۔ راستہ صرف ایک ہے وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات ہم وہ ایک سجدہ اپنے رب کے سامنے کرنے کے لئے تیار نہیں چاہے ہمیں غیروں کے سامنے ہزار سجدے کرنے پڑیں۔یہ ہمارا المیہ ہے۔ حال ہی میں ریمنڈ ڈیوس کی ایک کتاب منظر عام پر آئی ہے ۔اس کتاب میں اس نے جو انکشافات کئے ہیں وہ ہمارے منہ پر طمانچہ ہے۔جان کیری نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔نواز شریف، زرداری ، حسین حقانی اور سب سے بڑھ کر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا نے اس کی رہائی میں مدد کی ۔یہ ہماری امریکہ کی غلامی کے مظاہر میں سے ایک ہے۔کتاب میں درج ہے کہ جنرل پاشا امریکی سفیر کو لمحہ بہ لمحہ پیش رفت سے فون پر آگاہ کرتے رہے۔ریمنڈ ڈیوس کا جرم بالکل واضح تھا۔ وہ کہتا ہے کہ دو افراد کو جنہیں میں نے قتل کیا، اس پر مجھے کوئی افسوس نہیں۔اس کے یہ دو قتل تو منظر عام پر آگئے ورنہ اس نے کیا کچھ نہ کیاہوگا۔ہمیں کچھ نہیں پتہ۔ میڈیا کے ذریعے لوگوں کی ذہن سازی کی جاتی رہی ہے۔سو فیصد وہی کچھ کیا گیا جو امریکہ چاہتا تھا۔ریمنڈ ڈیوس کو کس طرح چھڑایا گیاسب کو معلوم ہے۔دوسری طرف ہماری مظلوم بہن اور قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی ہے جس کا زیادہ سے زیادہ جو جرم ثابت ہوا بھی ہے تو وہ یہ کہ اس نے ایک امریکی فوجی پر بندوق تانی تھی۔اس کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے اور اس حوالے سے ہمارے حکمرانوں کا کیا رویہ ہے ، وہ پوری قوم کے سامنے ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ہم امریکہ کے بدترین غلام بن چکے ہیں۔بدقسمتی سے ہم اس غلامی سے نکلنے کے لئے تیار نہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved