جے آئی ٹی' اعتراضات اور جوابات
  12  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ اگر جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان نہیں ریکارڈ کیا تو ہم جے آئی ٹی کی کاروائی نہیں تسلیم کریں گے''۔ (چار وفاقی وزرائ) 20اپریل2017 کو جب سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سُنایا تھا تو یہی وفاقی وزراء اور ان کے حواری عدالت سے وکٹری کا نشان بناتے اور بھنگڑے ڈالتے باہر نکلے تھے۔ وہ سب کیا تھا؟ جے آئی ٹی کو تو ن لیگ نے اُسی دن تسلیم کرلیا تھا جس دن عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں اس کی تشکیل کا حکم جاری کیا تھا، اب تقریباً سوا دو ماہ کے بعد ایسا کیا ہوگیا کہ جے آئی ٹی کی کاروائی مسترد کرنے کا الٹی میٹم دیا جارہا ہے۔ ظاہر ہے جے آئی ٹی کی تحقیقات نے بہت سوں کی پیشانی پر بَل ڈال دئیے بلکہ ایک سینیئر وزیر تو عوام کے سامنے مسلسل پسینہ پونچھتے رہے۔ ٭ '' ہمیں جے آئی ٹی میں شامل حساس اداروں کے نمائندوں پر اعتراض ہے''(خادم اعلیٰ پنجاب) عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے میں جسے سُن کر ن لیگ نے مٹھائیاں بانٹی تھیں جے آئی ٹی میںمختلف سرکاری اداروں کے افراد شامل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے جن میں وہ بھی شامل ہیں جن پر جے آئی ٹی کی کاروائی مکمل ہونے کے قریب اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں، یاد آیا سوشل میڈیا پرایک لطیفہ وائرل ہے جو کچھ اس طرح ہے کہ عدالت عظمی سے التماس ہے کہ اس بار فیصلہ اردو میں لکھا جائے تاکہ مٹھائیاں پھر غلط نہ بٹ جائیں۔ ٭ '' اگر بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں امریکی صحافی کا بیان ویڈیولنک پر لیا جاسکتا ہے تو قطری شہزادے کا کیوں نہیں''۔ (وفاقی وزرائ) یہ اعتراض اس لئے مضحکہ خیز ہے کہ معترض حضرات خود بھی جانتے ہیں کہ وہ غلطی پر ہیں، جیسا کہ سب کو معلوم ہے جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو خط بھیج کر اُنہیں تین آپشن دئیے تھے، اوّل یہ کہ وہ پاکستان آکر بیان ریکارڈ کرا جائیں۔ دوم یہ کہ اگر وہ یہ پسند نہ کریں تو ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرائیں سوم یہ کہ خود جے آئی ٹی چل کر قطر آجائے گی محترم شہزادہ پاکستانی سفارت خانے تشریف لاکر بیان دے، واضح رہے کہ بین القوامی سفارتی قوانین کے تحت کسی ملک کے سفارت خانے کی زمین اُسی ملک کی زمین ہوتی ہے یعنی اگر پاکستانی سفارت خانے میں بیان ریکارڈ کیا گیا تو وہ ایسا ہی تصّور ہوگا گویا بیان پاکستانی سرزمین پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس مضمون کے کم از کم دو خطوط شہزادے کو لکھے گئے مگر وہ مُصر ہیں کہ جے آئی ٹی قطر میں ان کے دفتر میں حاضر ہوکر بیان ریکارڈ کرے، سوال یہ کہ ہے قطری شہزادے کا وہ خط جس میں منی ٹریل شہزادے اور بڑے میاں صاحب مرحوم تک جاتی ہے آخر کس نے جے آئی ٹی میں پیش کیا تھا؟ نواز شریف کے وکلاء نے! تو بھائی جو شہادت آپ نے پیش کی ہے اس کو سچ ثابت کرنے کی زمّہ داریوں سے بھی بڑھ کر قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کی۔ ٭ '' جے آئی ٹی کا انتظام آئی ایس آئی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے''۔( ن لیگ) جو لوگ حکومتی مشینری سے واقف ہیں اُنہیں معلوم ہے کہ اس طرح کے کیسز میں پہلے دن پہلی میٹنگ میں ہی یہ طے کرلیا جاتا ہے کہ ٹیم کی کارکردگی کو لیک ہونے سے بچانے، سیکیورٹی اورLogistics اور اسی طرح کی تمام ایڈمنسٹریشن کی زمّہ دای کسی ایک ممبر اور اُس کے ادارے کی ہوگی تاکہ کچھ گڑ بڑ ہونے پر ممبّران ذمّہ داری ایک دوسرے پر نہ ڈال سکیں۔ اتفاق رائے سے یہ طے ہوا کہ یہ ذمّہ داری آئی ایس آئی کی ہونی چاہئے یہ بالکلSOP کے مطابق ہوا۔ اس بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا پھر اسی بات کی غمازی کرتا ہے کہ ن لیگ کو فوج سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ ٭ '' جے آئی ٹی کی مکمل کاروائی پبلک کی جائے''۔ وفاقی وزرائ) اوّل تو یہ کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت عظمیٰ کو پیش کی جائے گی اوریہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل یا جزوی طور پر اپنے فیصلے کے ساتھ منسلک کردے یا فیصلے میں ہی اس کے کچھ حصّے شامل کرلے۔ مگر قارئین بات اتنی سیدھی نہیں ہے جتنی نظر آرہی ہے دراصل ن لیگ میں دراڑیں پڑرہی ہیں اور کچھ ن لیگیوں کو یقین کی حد تک شک ہے کہ ان کے کچھ لوگوں نے جے آئی ٹی کے سامنے بھانڈے پھوڑ دئیے ہیں۔ اب ان کالی بھیڑوں کا پتہ لگانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ایک سیاسی نعرہ لگاکر مطالبہ کیا جائے کہ جے آئی ٹی کی تمام کی تمام ٹیپ شدہ اور فلم کی گئی کاروائی عام کردی جائے۔ یہ مطالبہ کرکے ن لیگ نے خود اپنی ہی گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکّا اور دے دیاہے۔ ٭ '' میں جے آئی ٹی کے سامنے آگئی ہوں حالانکہ میرا نام کہیں شامل نہیں ہے''۔( مریم نوز) بی بی! اگر آپ نے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ پڑھا ہے، تو اس میں مدعہ علیہ نمبر چھ آپ ہی کی ذات شریف ہیں۔ ٭ '' آج میں نے وہ قرض بھی اتاردیا ہے جو مجھ پر واجب بھی نہیں تھا''۔( مریم نواز) محترمہ! اگر وزیر اعظم کے مشیر جنھوں نے آپ کو یہ جملہ رٹایا تھا اگر پھر آپ کے سامنے آئیں(اور روز ہی آتے ہوں گے) توان سے پوچھئے گا کہ اس دُور رس نتائج کے حامل ڈائیلاگ نے اگر ایک پٹارہ کھول دینا تھا تو انھوں نے آپ کویہ جملہ کیوں یادکرایا۔ شریف خاندان پر اس قوم کے اتنے قرض واجب ہیں جنھیں ان کی آنے والی نسلیں بھی نہ اتار سکیں گی۔ '' شریف خاندان کی عورتوں کو جے آئی ٹی میں بلاکر ہمارے کلچر اور تہذیب کی دھجیاں بکھیر دی گئیں ہیں۔( شہباز شریف اینڈ کمپنی) بات سیدھی سی ہے کہ جب آپ کے گھر کی خواتین کے نام پر جعلی اکائونٹس کھولے جارہے تھے اور بھی بہت کچھ ہورہا تھا اس وقت آپ کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ حرکتیں ایک دن آپ کی خواتین کو تحقیقات میں گھسیٹ سکتی ہیں۔ نواز شریف نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے اگر اپنے بچوں اور مرحوم والد کو آگے کردیا ہے تو اس میں قصور جے آئی ٹی کا کیسے نکل آیا؟ اور آپ کو وہ دن کیسے بھول گئے جب محترمہ بے نظیر بھٹو کیخلاف نواز شریف کی پچھلی دونوں حکومتوں میں کس طرح اور کتنے مقدمے بنائے گئے اور کس طرح انہیں ملک کے ایک شہر کی عدالت سے دوسرے شہر کی عدالتوں میں گھسیٹا گیا۔ انگریزی کی ایک بڑی ہی اچھی کہاوت یاد آئی۔What Goes Around,Comes Around. قارئین! پچھلی صدی کی تیسویں اور چالیسویں دہائیوں میں ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر کا وزیر اطلاعات ہِملر ہوتا تھا جس کا کہنا تھا کہ جھوٹ بولو اتنا بولو اور اتنی بار بولو کہ عوام اسے سچ سجھنے لگیں۔ افسوس ہملر مسلمان نہیں تھا اس لئے اسے قرآن مجید کی یہ آیت یاد نہ ہوگی جس کا اردو ترجمہ ہے'' جھوٹوں پر اللہ کی لعنت''۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved