اسلام دشمن قوتوں کا پاکستان کے گرد گھرائو
  16  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

آپ بھی کہیں گے کہ میں ہر مرتبہ حالات کا مرثیہ پڑھتا رہتا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب پاکستان کے گرد گھیرا تنگ سے تنگ ہورہا ہے۔ہم تو اپنے اندرونی مسائل میںا لجھے ہوئے ہیں البتہ پوری دنیا کو ہماری بڑی فکر ہے۔ہماری بربادیوں کے مشورے آسمان امریکہ ہو،تل ابیب ہو یا بھارت ہر جگہ ہورہے ہیں۔ ان سب کا ایجنڈا نمبر ایک پاکستان ہے۔امریکہ کے دورے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل پہنچ گیا ۔اسرائیل یہودیوں کی ریاست ہے۔یہودی کبھی اسرائیل کے چنید ہ بندوں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے بہت سے انبیاء ورسل آئے لیکن قرآن نے واضح کردیا کہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہود ہیں۔قرآن میں دو بڑے دشمن کا ذکر ہے۔''مسلمانو! تم اپنی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پائوگے ۔اب دیکھیں کہ ان دونوں میں کیسا گٹھ جوڑ ہورہا ہے اور یہ گٹھ جوڑ پاکستان کے خلاف ہورہا ہے۔نریندر مودی پہلی مرتبہ امریکہ پہنچا ہے۔امریکہ کے تمام مستند ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ بھارت کی ساری توانائیاں پاکستان کے بارے میں امریکہ کو گمراہ کرنے میں صرف ہوئیں قرآن کی یہ پیشنگوئی پوری ہوگئی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے خلاف ایک ہوجائیں گے۔اب وہ ٹو ان ون بن چکے ہیں۔نریندر مودی کا اسرائیل میں بڑا والہانہ استقبال کیا گیا اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ہم آپ کا ستر سال سے انتظار کررہے تھے۔پس منظر میں پاکستان دشمنی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔شاید یہ آپ کو یاد ہو کہ جب اسرائیل نے 1967ء کی جنگ جیتی تھی تو اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم بن گوریان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ہمیں اصل خطرہ عرب دنیا سے نہیں بلکہ پاکستان سے ہے۔پاکستان اسرائیل کی نگاہوں میں سب سے زیادہ چبھتا ہے۔اس لئے کہ اسے معلوم تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لہٰذا اسے سب سے زیادہ خطرہ اسی مملکت سے تھا۔اب پاکستان ایٹمی قوت بھی بن چکا ہے۔اب اسرائیلیوں کے اندیشے اور زیادہ بڑھ چکے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم کو اسرائیل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کشمیر میں جو مداخلت کا ر داخل کرکے وہاں بھارت کے خلاف دہشتگردی کی کاروائیاں کررہا ہے ، وہ بھارت کی اس حوالے سے عملی مدد کرے گا۔حالانکہ بھارت اب تو کشمیر میں ظلم و تشدد کی نئی مثالیں قائم کررہا ہے ۔اسرائیل نے پاکستان کے خلاف پہلی مرتبہ میدان میں آنے کا واضح اشارہ دے دیا ہے۔پاکستانی قادیانیوں نے بھی اسرائیل میںنریندر مودی کا شاندار استقبال کیا ہے۔قادیانی پاکستان کی پشت پر خنجر گھونپنے والے ہیں۔ہم نے انہیں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔انہیں غیر مسلم قرار دے تو دیا گیا لیکن اس کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے جس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔وہ ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں جو بڑی تیزی سے قادیانیت کی طرف جارہے ہیں کیونکہ اسلام کا تو انہیں پتہ ہی نہیں ہے۔بڑے تعلیمی اداروں میں قادیانیوں کی منظم تنظیمیں کام کررہی ہیں۔وہ نوجوانوں کو بڑے بڑے خواب دکھاتے ہیں ۔انہیں کہا جاتاہے کہ ہمیں بیرون ملک بڑی مراعات ملتی ہیں۔ ہم تمہیں بھی باہر بھجوادیں گے۔بیرون ملک ساری اسلام دشمن قوتیں انہیںسپورٹ کررہی ہیں۔ سینیٹر جون میکن جو امریکی سینیٹ کی ڈیفنس کمیٹی کے چیئر مین اور وہاں کی ایک با اثر شخصیت ہیں اور اسلام دشمنی کے حوالے سے بھی بڑی شہرت رکھتے ہیں ،پاکستان کے تین روزہ دورے پر آئے۔ان کا تذکرہ چند ماہ قبل ہوا تھا جب حالیہ امریکی انتخابات ہورہے تھے ۔اس موقع پر انہوں نے اوبامہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان جیت گئے ہیں اور اوبامہ ہار گیا ہے۔اس ہار کوجیت بنانے کے لئے اب پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔یہاں سے افغانستان پہنچ کر امریکہ کے اس اہم عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر پاکستان اپنا رویہ نہیں بدلتا تو ہم اپنا رویہ بدلیں گے۔یہ پاکستان کے لئے دھمکی تھی۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی ، مذہبی بلکہ ہر قسم کے اتحاد کی شدید ضرورت ہے لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے دل آپس میں پھٹے ہوئے ہیں۔ہمارے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں تک پہنچے ہوئے ہیں۔ہمیں اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ بیرونی قوتیں ہمارے خلاف کیا منصوبے بنارہی ہیں۔ہم اس فکر سے ماورا ہوچکے ہیں۔یہ ساری صورتحال ہماری اللہ کی نافرمانی اور دین سے سرکشی کا نتیجہ ہے۔ہم نے خود کو اللہ کی تائید ونصرت سے محروم کیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ستر سال مہلت دی اور یہ مہلت اب تک جاری ہے ۔اسلام کی طرف ایک انچ بھی پیشرفت ہوجائے۔ اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تو اللہ نے بھی ہمیں دشمنوں کے حوالے کررکھا ہے۔حالات بتارہے ہیں کہ شدید تر وقت آنے والا ہے۔اللہ ہمیں ایمان ویقین کی دولت عطا فرمائے ۔ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو اللہ کا دامن تھامنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ کی نصرت و تائید ہوگی تو کوئی بڑی سے بڑی قوت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔اگر ہمیں یہ حاصل نہیں ہوتی تو اللہ نے ہمیںتنبیہ کی ہے کہ اے مسلمانو! اگردین سے غداری کی بناء پر اللہ نے تمہارا ساتھ چھوڑ دیا تواللہ دیکھے گا کہ کون ہے جوتمہاری مدد کرسکے ۔اگر کوئی مسلمانوں کی مدد کرنا چاہے بھی تو اللہ درمیان میں رکاوٹ بنے گا۔یہ قرآن کا پیغام ہے۔ہم نے بدقسمتی سے خود کو اس مقام تک پہنچا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ پوری قوم کو اللہ کے حضور سچی توبہ اور اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved