آستیں کا لہو پکار اُٹھا!
  16  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭آستین کا لہو بول اٹھا ''جناب وزیراعظم! اب آپ کو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے! میںنے آپ کو مشورے دیئے، آپ نے کوئی قدرنہ کی۔ آپ کے خوشامدی مشیروں نے اپنی نااندیشانہ تقریروں سے معاملہ اس حد تک پہنچادیا ہے کہ اب کوئی معجزہ ہی …!! ''۔ میڈیا میں شور مچ رہا تھا کہ چودھری نثار علی پانامہ کیس کے سارے ہنگامے میں کہیںنظر نہیںآ رہے۔ وزیراعظم کے مشاورتی اجلاسوں میں بھی نہیں دیکھے جارہے۔ تب وزیراعظم نے ترکیب نکالی کہ کابینہ کااجلاس بلایاجائے، اس میں تو آناہی پڑے گا۔ اورچودھری صاحب آئے اور برس پڑے کہ اب میری باتوں کا کیا فائدہ؟ میں نے جتنے مشورے دیئے ان میں سے کسی پر عمل نہیں کیاگیا۔ وزیراعظم نے اس بات کو اپنی توہین سمجھا اور تلخ انداز میں کہا کہ آپ یہ باتیں مجھ سے علیحدگی میں بھی کرسکتے تھے۔ اس پر 'چودھری' نے کہا کہ میں منافق نہیں ہوں جودل میں ہوتاہے صاف اور سامنے کہہ دیتا ہوں!چودھری نثار علی دیر سے آئے تھے۔گرم گرم تقریر کی اور کسی دوسرے کی تقریر سنے بغیر اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے! راوی بیان کرتا ہے کہ ان کی باتوں سے اجلاس کی فضا کافی بدمزہ رہی۔ ٭اوردوسری طرف! سپریم کورٹ نے پیر کے روز جے آئی ٹی کی رپورٹ کا جائزہ لینا ہے۔ تحقیق و تجزیہ کا اصل کام اب شروع ہوناہے اور امپائر کی انگلی اٹھ جانے کا سر عام اعلان کرنے والے عمران خاں نے ایک اور بڑھک ماردی ہے کہ اگلے ہفتے نیا پاکستان شروع ہورہاہے! یہ نہیںبتایا کہ کیسے شروع ہورہاہے؟ ہر وقت ہر قسم کی پیش گوئیاں کرتے رہنے والے سُپریم دانشور نے کبھی آئین یاقانون کا معائنہ کرنے کی زحمت گوارانہیں کی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ ظاہر ہے سپریم کورٹ آئین اور قانون کے تحت لازمی طورپر اس درخواست کے علاوہ جے آئی ٹی کے ارکان اور تمام دوسرے متعلقہ فریقوں کا مؤقف سنے گی۔ اس پر تمام فریقوں کی قانونی ٹیمیں لمبی بحثیں کریں گی۔ جے آئی ٹی کی طویل رپورٹ کے ایک ایک نکتہ پر بھرپور بحث ہوگی جوکئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک پھیل سکتی ہے۔ ایسے حالات میں اگلے ہفتے نیا پاکستان کیسے شروع ہو جائے گا؟ ایسی بڑھکیں تو افلاطونی لال حویلی کئی بار مار چکی ہے! دوسری طرف نائب وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب بھی ایک فرض کے طورپر عجیب و غریب بیانات دیتی جارہی ہیں۔ اب فرمایا ہے کہ جے آئی ٹی تو ختم ہوچکی وہ اب بھی دکھائی کیوں دے رہی ہے؟ اس کا جواب تو یہ ہے کہ بی بی ! جے آئی ٹی کا رپورٹ جمع کرانے کا کام ختم ہوگیا مگر جے آئی ٹی کیسے ختم ہوگئی؟ اسے تو پیر کے روز سپریم کورٹ میں پیش ہونا ہے اور اپنے کام کے بارے میں سوالات کے جوابات دینے ہیں۔ ویسے مریم صاحبہ! عاصمہ جہانگیر کی بات ہی پڑھ لیجئے کہ سپریم کورٹ کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں۔ وہ کوئی اور جے آئی ٹی بھی بناسکتی ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے معقول بات کہی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ تو سپریم کورٹ نے سنانا ہے مگر اپوزیشن اور میڈیا والے خودہی فیصلے سنارہے ہیں۔ اس طرح فیصلے آنے ہیں تو پھرعدالتوں کوبند کردیاجائے! ٭خبر ہے کہ سٹاک ایکس چینج کمیشن کے تین بڑے ڈائریکٹروں نے ایف آئی اے کے روبرو کمیشن کے ریکارڈ میں گڑ بڑ کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔ اس ریکارڈ کا تعلق شریف خاندان سے ہے۔ یہ سنگین جرم ہے۔ جے آئی ٹی کی باقی ساری رپورٹ نظر انداز کردی جائے تو یہ ایک انکشاف ہی کسی بڑی کارروائی کے لیے کافی ہے۔ ٭ان کالموں میں ایک سے زیادہ بار شریف فیملی کے لندن کے فلیٹوں کی خریداری کے بارے میں قاضی فیملی کے کردار کے بارے میں لکھ چکا ہوں۔ اب ذوالفقارعلی کھوسہ نے ان باتوں کی تصدیق کردی ہے کہ لندن کے فلیٹس 1996ء میں خریدے گئے تھے۔ حیرت ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اس بات کا کوئی اہم جائزہ ہی موجود نہیں۔ ان فلیٹوں کی خریداری کی تفصیل لند ن کے اُردو اخبار نیشن نے چھاپ دی تھی۔1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے غیر قانونی طورپر میاں نوازشریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں قید کر دیا۔ اس کے بعد میرے پاس لندن سے بہت سی دستاویزات کے ساتھ فلیٹوں کی خریداری کی ساری داستان آگئی۔میں ان دنوں جہاد کا دعویٰ کرنے والے ایک بڑے اخبار میں اہم عہدے پر کام کررہا تھا۔میں نیشن لندن میں شائع شدہ داستان پڑھ کر حیران رہ گیا۔ اس کے مطابق میاں نوازشریف جب وزیراعظم تھے تو لاہور کے ایک بڑے بنک نے ' 2۔ ساندہ روڈ لاہور' کی ایک قاضی فیملی کے دوافراد کے نام سے دو بڑے فرضی اکاؤنٹ کھولے اور اسی روزکسی قسم کی ضمانت یا تصدیق کے بغیر ان افراد کے حق میں دو فیصد سالانہ سادہ سو د پر فارن کرنسی میں بھاری قرضہ جار ی کردیا گیاجو اسی روز ایک دوسرے بڑے غیر ملکی بینک میں گیارہ فیصد مرکب سود پر جمع ہوگیا۔ دوسرے بنک نے23ماہ کے بعد پہلے بنک کو اس کی ساری رقم واپس کردی اور دو فیصد سادہ سود اور گیارہ فیصد مرکب سود کے درمیان بھاری فرق سے حاصل شدہ رقم سے لندن میں فلیٹس خرید لئے گئے۔ اس 'نوازش' پر اس غیر ملکی بنک کو چار بڑے وفاقی سرکاری اکاونٹ مل گئے۔ یہ داستان ایک سے زیادہ بار چھپ چکی ہے۔ میں نے یہ سٹوری اخبار میں دستاویزات کے ساتھ فائل کی تو سٹوری تو نہ چھپ سکی البتہ مجھے آئندہ شریف خاندان کے بارے میں کوئی بھی خبر دینے سے روک دیاگیا ۔ مزید یہ کہ دو تین روز بعد لندن سے یہ سٹوری بھیجنے والوں نے مجھ پر گالی نماالزام لگا دیا کہ میں نے بد دیانتی کرکے یہ سٹوری شریف خاندان کے سربراہ میاں محمدشریف کو بھاری رقم کے عوض فروخت کردی ہے!! مجھے اخبار سے فارغ ہوناپڑا۔ ٭لاہور میں چند روز قبل ن لیگ کی ایک ایم پی اے شاہ جہاں بیگم کے گھر میں اس کی بیٹی نے کم سن ملازم اختر کو بری طرح تشدد کرکے ہلاک کردیا۔ اس کی چھوٹی بہن عطیہ پر بھی سخت تشدد کیا۔ پولیس نے دونوں ماں بیٹیوں کو تحفظ دینے کی ہر ممکن کوشش کی ماں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ کیا اور بیٹی کو ایک دو گھنٹے کے اندر عدالت سے ضمانت بھی کرادی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس غریب مظلوم بچے کے جسم کے ہر حصے خاص طورپر نازک حصوں پر شدید انسانیت سوز تشدد ظاہر کیا گیا ہے۔ شاہ جہاں بیگم نے پہلے تو بیان دیا کہ اس کے گھر میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوااور اس بچے پر تشدد کسی دوسری جگہ ہواہے۔ اب بیان دیا ہے کہ کوئی تشدد نہیں کیاگیا، بچہ بیمار تھااور بیماری سے فوت ہوگیا۔ ظلم یہ ہے کہ صوبے کا کوئی حکمران، کوئی وزیر ، کوئی بڑا پولیس افسر اس مظلوم غریب خاندان کے پاس نہیں گیا۔ وزیراعظم یا وزیر داخلہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ صرف بچوں کے تحفظ کے بیورو کی انچارج خاتون صبا صادق نے اس سانحہ کانوٹس لیا اور اس کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ پولیس نے شاہ جہاں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ' جب کہ قانون کہتا ہے کہ کسی جگہ جرم ہورہاہو اور وہاں موجود کوئی شخص جرم کو روکنے کی کوشش نہ کرے تو وہ بھی یکساں شریک جرم سمجھاجائے گا۔ اب یہ کہ شاہ جہاں بیگم کے سامنے یہ ہولناک جرم ہوا۔ اس نے بیٹی کو روکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس واردات کے بعد بیٹی کو بچانے کے لیے اسے لے کر کہیں بھاگ گئی۔اب ماں بیٹیاں آزاد پھر رہی ہیں! اور قانون مُنہ دیکھ رہاہے!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved