میں منتخب وزیراعظم ہوں؟
  17  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اسوقت میاں نواز شریف کے مبینہ کریشن کے خلاف نہ صرف تمام بڑی سیاسی جماعتیں یکجا ہو کر ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہیں، جے آئی ٹی کی ضخیم رپورٹ میں شریف خاندان سے تحقیقات کے ذریعہ یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس خاندان نے گذشتہ تیس سالوں کے دوران سیاست اور اقتدار کے ذریعہ نہ صرف کاربار کیا ہے بلکہ پاکستان کے وسائل کو ذاتی تصرف میں لاکر پاکستان کو اقتصادی طورپر کمزور بھی کیا ہے، اداروں کو تباہ کرنے اور نہ کارہ بنانے کے علاوہ میڈیا کے بعض عناصر کو بھی کرپٹ کیا ہے، اسوقت صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم نے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا ہے، اور کہا ہے کہ ان کے خلاف ’’سازش‘‘ ہورہی ہے، سازش کی تھیوری پاکستا ن میں نئی نہیں ہے، جب بھی اقتدار پر فائز افراد کے خلاف مبینہ کرپشن کے سلسلے میں تحقیقات ہوتی ہیں تو یہ عناصر اپنے آپکو بچانے کے لئے سازش تھیوری کا سہارا لیتے ہیں، عوام کو کھلا دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے خلاف سڑکوں پر نہ آسکیں، لیکن موجودہ صورتحال کے پس منظرمیں عوام کی اکثریت اور بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان نواز شریف سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ پر ایک پیج پر آگئے ہیں، اب یہ دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں حقائق کا جائزہ لے کر اپنا کیا فیصلہ صادر کریگی؟ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے خوشامدیوں نے پہلے ہی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو متنازعہ بنانے کے سلسلے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی، ان کے ایک خوشامدی نے جے آئی ٹی کو قصائی کی دکان سے تعبیر کیا تھا، جبکہ ایک اور خوشامدی نہال ہاشمی نے جے آئی ٹی کے ارکان کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے انہیں عبرتناک انجام سے دوچار کرنے کا عندیا دیا تھا، اور جو زبان استعمال کی تھی اسکو غنڈوں اور بدمعاشوں کی زبان سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، ان کے خلاف اسوقت مقدمہ کورٹ میں زیر سماعت ہے، پنجاب کے صوبائی وزیر رانا ثنا اللہ نے بھی جے آئی ٹی سے متعلق انتہائی نازبیا الفاظ استعمال کئے تھے، اور بر ملا کہا تھا کہ مسلم لیگ(ن) ان کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کریگی، چنانچہ آج میاں نواز شریف نے جے آئی ٹی کو جو متنازعہ بنانے کی کوش کی تھی، اسکا پردہ چاک ہوگیاہے، جے آئی ٹی نے 60دن کی شب وروز محنت، تحقیق اور تفتیش کے بعد یہ ضخیم رپورٹ مرتب کی ہے جس میں میاں صاحب اور ان کے خاندان کی مبینہ کرپشن کو بے نقاب کیا گیا ہے، خود میاں صاحب کے قریبی ہمدرد اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ شریف خاندان نے کرپشن کے ذریعہ اپنی امپائر کھڑی کی ہے، ہر چند کہ انہیں مرحوم جرنل جیلانی سیاست میں لائے تھے، اور جنرل ضیاء الحق نے انہیں سیاسی طورپر مضبوط کیاتھا، لیکن ان مرحومین کو اس بات کا ادراک و احساس نہیں تھا کہ یہ شخص آگے چل کرکرپشن کے ذریعہ اپنی اور اپنے خاندان کی دولت میں بے پناہ اضافہ کریگا، پاکستان کو کمزور کریگا، عوام سے ان کی فلاح وبہبود کے سلسلے میں کئے جانے والے وعدوں کو پورا نہیں کریگا، چنانچہ میاں صاحب تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور عوام کے مطالبے کہ وہ مستعفی ہوجائیں اسکے برعکس انہوں نے استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کیا ہے ان کی اس سوچ اور طریقہ کار کے خلاف چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف کے علاوہ سندھ کے گورنر بھی ان سے اتفاق نہیں کررہے ہیں کیونکہ اسطرح ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے، ان کے بعض سمجھ دار دوستوں نے میاں صاحب کو مشورہ دیا ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں، اور اداروں سے ٹکرانے کے ارادے کو ترک کرکے سپریم کورٹ کے ذریعہ جو بھی فیصلہ آئے گا، اسکو تسلیم کرلیں، ورنہ اداروں سے تصادم کا راسہ اختیار کرنے سے حالات مزید دگرگوں ہوسکتے ہیں جسکی ذمہ داری میاں نواز شریف اور ان کے بعض ساتھیوں پر عائد ہوگی جو اداروں سے ٹکراؤ کی صورت میں پاکستان کے مستقبل سے کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں، اس سے قبل بھی میاں نواز شریف نے اداروں سے ٹکر لینے کی کوشش کی تھی، لیکن سابق آرمی چیف وحید کاکڑ نے اس معاملہ کوخوش اسلوبی سے طے کردیا تھا، میاں صاحب بڑے رسوا ہوکر ایوان اقتدار سے رخصت ہوئے تھے، موجودہ حالات میں میاں نواز شریف یہی چاہتے ہیں کہ آرمی مداخلت کرکے انہیں مظلوم بنادے تاکہ پاکستان کے عوام کو یہ تاثر دیا جائے کہ فوج انہیں کام کرنے نہیں دیتی ہے، حالانکہ گذشتہ چار سالوں کے دوران جس طرح میاں نواز شریف کو کام کرنے کا موقع ملا تھا اسکو انہوں نے اپنی دولت میں اضافے اور سیر سپاٹے کرنے میں گذار دیا، دراصل میاں نواز شریف یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے، ان کی جو مرضی آئے کریں گے، بلکہ کر گذرے ہیں، لیکن پاناما پیپرز کے ذریعہ ان کا اصل چہرہ سامنے آگیا ہے، کس طرح میاں صاحب اور ان کے خاندان نے ملک کے وسائل کو لوٹ کر اپنی دولت ، سرمائے اور سیاسی طاقت میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے، بلکہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ اپنے ذاتی تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں بھی پہل کی ہے، نریندرمودی جو مسلمانوں کا قاتل ہے اور اسوقت بھی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا قتل عام کررہاہے، وہ گذشتہ سال ان کے گھرجاتی امراآیا تھا، میاں صاحب کو ان کی سالگرہ کی مبارک باد بھی دی تھی، لیکن پاکستان کی خیر خواہی کے لئے ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا تھا، اس سے قبل جب وہ نریندرمودی کی رسم حلف وفاداری کے موقع پر دہلی گئے تھے،تو انہوں نے اپنے بیٹے حسین نواز کو بھارت کے صنعت کاروں سے متعارف کرایا تھا، ان کے اس طریقہ کار کو پاکستان کے عوام اور اسٹیبلشمنٹ دونوں نے پسند نہیں کیا تھا، غالباً میاں صاحب پاکستان کے عسکری اداروں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ مجھے اب کسی کی پرواہ نہیں ہے، میں جوبھی چاہوں گا کرونگا، میں ایک منتخب وزیراعظم ہوں ،چنانچہ کیا منتخب وزیراعظم ملک کی سا لمیت اور آئین کے خلاف کام کرسکتاہے؟ کیا وہ اپنے منصب کو تجارت اور ناجائز دولت بنانے میں استعمال کرسکتا ہے؟ کیا وہ اپنی ذاتی سوچ کے مطابق قر اداروں کو بائی پاس کرکے بھارت سے تعلقات استوار کرسکتاہے؟ کیا وہ پارلیمنٹ کو نظر انداز کرکے اپنے چند حواریوں اور خوشامدیوں کے کہنے پر اداروں سے ٹکر لینے کی جسارت کرسکتا ہے؟ میاں نواز شریف ایک خطرناک ڈگر پر چل رہے ہیں، ریاست اور اداروں کو تباہ کرنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں، اسکا انجام خود ان کے لئے اچھا نہیں ہوگا، وہ ٹھنڈے دل سے غور کریں اور ٹکراؤ کی سیاست سے اجتناب برتنے کی کوشش کریں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved