اسلام آباد اور چکوال میں قانون کا دوہرا معیار کیوں؟
  17  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری پر اسلام آباد کے ریڈ زون میں توڑ پھوڑ ‘ پی ٹی وی پر حملے اور ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کو زخمی کرنے کا الزام ہے ۔۔۔ 2014 ء میں حکومت مخالف دھرنوں کے دوران ان دونوں رہنماؤں سمیت ان کے تقریباً70 کارکنوں کے خلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس‘ پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملوں اور کار سرکار میں مداخلت کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔۔۔ عدالت نے اس مقدمے میں عمران خان اور طاہر القادری کو اشتہاری بھی قرار دے رکھا ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ ۔۔۔ ان اشتہاری ملزمان کو اسلام آباد پولیس یا پنجاب پولیس کے شیر جوان گرفتار تو کیا کرتے۔۔۔ الٹا ان کے ساتھ حفاظتی گارڈز کے طور پر چلتے نظر آئے ۔۔۔ عدالتیں عمران خان اور طاہر القادری کو طلب کرتی رہیں ۔۔۔ لیکن نہ یہ عدالتوں میں پیش ہوئے اور نہ ہی شریف حکومت کی پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی جرات کی ۔۔۔ تاآنکہ کہ جمعتہ المبارک کے دن انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی جائیداد قرقی کا حکم دے دیا۔ یہ تو ہوگیا شریف حکومت کی ناک کے عین نیچے قانون سے کھلواڑ کا ایک منظر نامہ۔۔ اب آتے ہیں ایک دوسرے منظر نامے کی طرف یہ منظر نامہ ضلع چکوال کے علاقے بکھاری کلاں کا ہے ’’تحریک لبیک یا رسول اللہ‘‘ کے مقامی راہنما مولانا سید عتیق الرحمن کہ جو اوصاف کے دیرینہ قاری ہیں نے اس خاکسار کے نام لکھے جانے والے خط کے ساتھ تھانہ صدر چکوال میں درج ہونے والی ایف آئی آر کی کاپی بھی بھجوائی ہے ۔۔۔ اس خط اور ایف آئی آر کی روشنی میں دوسرے منظرنامے کو سمجھا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ اوصاف کے قارئین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہم نے ہمیشہ اپنے قلم اور اخبار کے ذریعے فرقہ واریت پھیلانے والے خواہ وہ قینچی خطیب ہوں‘ پھٹہ توڑ مقرر ہوں ۔۔۔ یا خودساختہ جعلی پیر ‘ ان سب کے خلاف ڈٹ کر آواز حق بلند کی۔ ہم نے اوصاف کے ذریعے دیوبندی ہوں‘ بریلوی ہوں‘ اہلحدیث ہوں یا شیعہ ۔۔۔ سب میں جوڑ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مسالک کے اعتدال پسند علماء اور اکابرین سے اس خاکسار کا تعلق اور رابطہ رہتا ہے ۔۔۔ اب آتے ہیں منظرنامے کی طرف ۔۔۔ ’’بکھاری کلاں‘‘ میں تحریک لبیک ’’یارسول اللہ‘‘ کے کارکنوں اور علماء نے حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کی یاد میں کانفرنس کا اہتمام کر رکھا تھا ۔۔۔ جس میں مرکزی خطاب کے لئے معروف عالم دین ۔۔۔ علامہ خادم حسین رضوی کو دعوت دی گی تھی۔ علامہ رضوی جب کانفرنس میں شریک ہونے کے لئے پہنچے تو انہیں چکوال پولیس نے بلکسر انٹرچینج پر یہ کہہ کر روک لیا کہ چکوال کے ڈپٹی کمشنر نے آپ پر ایک ماہ کے لئے چکوال میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے لہٰذا آپ چکوال میں داخل نہیں ہوسکتے۔۔۔ خط کے مطابق ’’مقامی علماء نے پولیس کے ذمہ داران سے ہر ممکن مذاکرات کرنے کی کوشش کی ‘مگر چکوال پولیس کے شیر جوانوں نے کسی ایک کی نہ سنی اور ایک معذور عالم دین کو شدید گرمی میں بلکسر انٹرچینج پر دوگھنٹے تک زبردستی محصور رکھا ۔۔۔ یہ خبر سن کر مقامی کارکنان بھاری تعداد میں وہاں پہنچے اور مولانا خادم رضوی کو زبردستی پولیس کے چنگل سے چھڑا کر اپنے ساتھ جلسہ گاہ لے گئے جہاں خطابات بھی ہوئے ۔۔۔ حاضرین میں لنگر تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں موجودہ پولیس کے جوانوں کی چائے ‘ بسکٹ ہی نہیں بلکہ حلوہ وغیرہ کے ساتھ تواضع بھی کی گئی۔ لوگ خوشی خوشی پرامن طور پر اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے ۔۔۔ رات تقریباً3 بجکر25 منٹ پر چکوال پولیس کے شیر جوان ہمارے گھر میں داخل ہوئے ۔۔۔ چھوٹے مریض بھائی کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ سوئی ہوئی مستورات سے بغیر آواز دیئے چادریں کھینچیں ۔۔۔ اسی طرح سادات گھرانے کی دیواریں پھلانگ کر چادر اور چاردیواری کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ۔۔۔ سادات گھرانے کی عفت مآب خواتین سے بدزبانی اور تلخ کلامی کی گئی۔ ’’جناب والا! کیا یہ لوگ دہشت گرد‘ چور‘ ڈاکو یا قاتل تھے؟ اس طرح کی ظالمانہ حرکتوں کے ذریعے کیا پولیس لوگوں کو خود مجرم نہیں بنارہی؟ جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران پولیس ’’مریم نواز‘‘ کو تو سیلوٹ کرتی ہے ۔۔۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا اور عمران خان کا اشتہاری ہونا ان کے سامنے پولیس بھیگی بلی کیوں بنی رہتی ہے؟‘‘ خط بہت طویل ہے ۔۔۔ اس لئے اس کو یہیں موقوف کرتے ہوئے اب میں براہ راست خادم اعلیٰ شہباز شریف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تبلیغی جماعتوں پر پابندی کے بعد کیا اب پنجاب میں امام احمد رضا کانفرنسوں پر بھی کوئی پابندی عائد کر دی گئی ہے؟ اور پھر پنجاب پولیس ہو یا سی ٹی ڈی کے شیر جوان ان کی ساری بہادری بے چارے مولویوں پر آکر ہی کیوں ختم ہو جاتی ہے؟ جس ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری اشتہاری ہونے کے باوجود دندناتے پھریں ۔۔۔ اور پولیس انہیں پروٹوکول دینے پر مجبور ہو ‘ جس ملک کے بعض ٹی وی چینلز پر بہروپیا نما اور چرب زبان اینکرز جان بوجھ کر ملک میں فرقہ واریت کو بڑھاوا دے رہے ہوں ۔۔۔ اس ملک کے شہر چکوال کے کسی ایک علاقے میں اگر مقامی لوگ پرامن طور پر اپنا مذہبی پروگرام کرنا چاہتے تھے تو ڈپٹی کمشنر نے کس کے کہنے پر ایک معذور عالم دین پر چکوال داخلے پر پابندی عائد کی تھی؟ یا تو ثابت کیا جائے کہ اس کانفرنس میں فرقہ وارانہ گفتگو ہوئی؟ کسی دوسرے مسلک کو مطعون کیا گیا؟ جو کہ کم از کم ایف آئی آر سے تو ثابت نہیں ہو رہا‘ صرف مقامی ڈپٹی کمشنر کے حکم نامے کی خلاف ورزی اور حکومتی اقدامات پر تنقید کرنا اتنا بڑا جرم بن گیا کہ ڈھائی سو علماء ‘ طلباء اور مذہبی کارکنوں کے خلاف پرچہ کاٹ کر ان کے گھروں پر بہیمانہ انداز میں چھاپے مارے گئے‘ جناب شہباز شریف صاحب! ۔۔۔ اسی ضلع چکوال کے علاقے دوالمیال میں مقامی انتظامیہ قاتل قادیانی گروہ کی سرپرستی کرکے ۔۔۔ بے گناہ مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھانے میں کافی ’’نام‘‘ کماچکی ہے‘ آپ آنسو بہاتے ہوئے اپنے بھائی کی دیانت داری کی قسمیں تو کھارہے ہیں ۔۔۔ مگر اس کے باوجود آپ کی ’’قسم‘‘ پر اعتماد کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے تو کیوں؟ جب آپ کی پولیس‘ قاتل گروہوں کی سرپرستی ‘ اشتہاریوں کو پروٹوکول۔۔۔ اور بے گناہ مولویوں اور مذہبی کارکنوں پر خوفناک مظالم ڈھائے گی اور آپ اس کا کوئی تدارک بھی نہیں کریں گے تو پھر رب کی لاٹھی تو حرکت میں آئے گی ہی ‘ اور آخری گزارش میری تمام مسالک کے علماء کرام اور مذہبی جماعتوں کے قائدین سے ہے کہ اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔۔۔ خدا کے لئے فرقہ وارانہ بتوں کو پاش پاش کرکے متحد ہوجائیے ۔۔۔ وگرنہ سیکولر اور لبرل ‘ لادین عناصر اور ان کا ہمنوا میڈیا ۔۔۔ تو پورے اسلام کو ہی ہضم کرنے کے چکر میں ہے‘ اللہ پاک محفوظ رکھے ۔ آمین


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved