دو جنازے اُٹھے ۔۔۔ایک ہی شان سے
  17  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں نے گزشتہ بیس برسوں میں ان گنت نقرئی صبحیں، چلچلاتی دوپہریں، شفق شامیں اور اندھیری راتیں اُس کے ساتھ گزاری ہیں۔ وہ خلوت و جلوت میں اِک گوہر نایاب تھا۔ اُس نے ہمیشہ اپنے قلم کی طاقت سے ظالموں کا محاسبہ کیا۔ مظلوموں کی داد رسی کی۔وہ مجبوروں کی ڈھارس بنا۔ وہ اپنے ہم عصروں کے لئے بھائی، چھوٹوں کے لئے باپ اوربڑوں کے لئے بیٹے کا کردار ادا کرتا رہا۔ وہ مسیحا نفس ہمہ وقت اپنی بساط سے بڑھ کر دوسروں کی فکر میں ریزہ ریزہ ہوتا رہا ۔ اور بالآخر 10 جولائی 2017ء کی وہ بدنصیب گھڑی بھی آگئی کہ میرے کانوں نے مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے اُس کی موت کی خبر سُنی۔ میرا وجود کپکپا اُٹھا۔ میری روح سجدے میں گر گئی۔ میرے آنسو دُعا بن کر بہنے لگے اور میری سسکیاں خدا کے حضور التجا کرنے لگیں کہ کاش یہ خبر جھوٹی ہو کہ پاکستان ٹائمز کے سابق ایڈیٹر اور مشرق اسپیشل کے چیف ایڈیٹر عبدالوحید بٹ اِس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ وہ مسافروں کے بوجھ اُٹھانے والا خود رختِ سفر باندھ گیا ہے۔ وہ بیماروں کے لئے دوا ڈھونڈنے والا آج حرکتِ قلب بند ہونے سے اِس دنیا سے ناطہ توڑ گیا ہے۔ مگر یہ میری حسرتیں تھیں، یہ میری سسکیاں تھیں جو بارگاہ ایزدی میں قبولیت کا شرف پانے سے محروم رہیں۔ اور میری سسکیوں کو رضا بھائی اور فیصل بھائی کی سسکیوں میں ضم ہونا پڑا۔ میری حسرتیں ماں جی کے سینے کا درد بن گئیں۔ میری بے بسی اُن یتیموں کے پاؤں پڑ گئی جن کا خدا کے بعد واحد سہارا وحید بٹ صاحب تھے۔ زندگی کی 60 بہاریں دیکھنے والا وحید بٹ اُس دِن عین سہ پہر کے وقت خزاں رسیدہ موسموں سے ہم کلام ہو گیا۔ وہ مجھے بدمعاش کہہ کر پکارنے والا، وہ مجھے اپنی اولاد کہہ کر پکارنے والا، وہ مجھے اپنی طاقت کہہ کر پکارنے والا، وہ مجھے اپنا آپ کہہ کر پکارنے والا مجھ سے یوں بچھڑ گیا جیسے شام کے وقت دِن کی روشنی سورج سے بچھڑ جاتی ہے۔ وہ زندگی کا ہر کام کرنے سے پہلے مجھ سے مشورہ ضرور لیا کرتے تھے، اور میرے مشورے کے سامنے اپنی سگی اولاد کے مشورے کو بھی ردّ کر دیا کرتے تھے۔ اُنہوں نے ہمیشہ مجھے اپنی اولاد سے زیادہ پیار دیا۔ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سمیت رضا بھائی کو بھی میرے پیار کی مثالیں دے دے کر سمجھایا کرتے تھے۔ وہ رضا بھائی اور فیصل بھائی کو کہا کرتے تھے کہ میں تجھے مبشر الماسؔ کی طرح کا بنانا چاہتا ہوں۔(حالانکہ میں ایک بندہ ناچیز اور وحید بٹ ایک مسیحا) مجھے اُس کے پیار پر فخر ہے۔ مجھے اُس کی محبتوں پر ناز ہے۔ مجھے اُس کی عنائتوں پر مشکور ہونا ہے۔ مگر کیسے؟؟ وہ تو اب اِس دنیا میں نہیں رہا۔ 11 جولائی کی صبح کو میں تڑپتی روح، ہچکیاں لیتے بدن اور سسکیاں لیتی حسرتوں کے ساتھ اُس کے جنازے میں شریک ہوا تھا۔ وہ موت کی چار پائی پر بڑی متانت سے لیٹا ہوا تھا۔ اُس کے چہرے پر 6 دہائیوں کی ایک تاریخ رقم تھی۔ جو دفن ہونے جا رہی تھی۔ کسی نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ مبشر الماسؔ یہ اُسی شخص کا جنازہ ہے ناں جو زمین کے خداؤں کے گریبان پکڑنے سے بھی نہیں گھبراتا تھا۔ یہ وہی ہے ناں جو ظالموں کیلئے شمشیر بے نیام تھا۔یہ اُسی شخص کا جسدِ خاکی ہے ناں جو فرعونوں اور نمرودوں کے آگے سینہ تان لیا کرتا تھا۔ میری سسکیاں بندھ گئیں۔ میرے آنسو پکار اُٹھے کہ ہاں، ہاںیہ وہی وحید بٹ ہے جو زمین کے خداؤں کا گریبان پکڑنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا۔ ہاں یہ وہی مردِ خدا ہے جس نے ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیا۔میں غموں کی جاگیر پر بوجھل قدموں سے اُس کے چہرے کی طرف جھک کر اُسے سلام پیش کرنے کے لئے جھکا تو کسی مہربان نے میرے شانے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ اس کے جانے کے بعد مظلوموں کا ساتھ کون دے گا؟ مجبوروں کی ڈھارس کون بنے گا؟ غریبوں کے لئے دستر خوان کون بچھائے گا؟ بھوکوں کے لئے روٹی کا بندوبست کون کرے گا؟ بوڑھوں کے لئے عصا کا کردار کون ادا کرے گا؟ بیماروں کے دُکھ کون بانٹے گا؟ زخمیوں کے زخموں پر مرہم پٹی کون رکھے گا؟ یتیموں کے سر پر پیار کون دے گا؟ پیاسوں کو پانی کون پلائے گا؟ ناکردہ گناہوں کی سزا پانے والوں کا پُرسانِ حال اب کون ہو گا؟ اب کون ایک تحریک بن کر ظالموں سے ٹکر لے گا؟ کون ہو گا جو زمینی خداؤں کا گریبان پکڑے گا؟ کون وقت کے فرعونوں سے اُلجھے گا؟ کون نمرودوں کے ظالم ہاتھوں کو روکے گا؟ میں نے آب شار آنکھوں میں بھیگتے خیالات ، منتشر سوچوں اور مضمحل جذبوں کو یکجا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اُس مہربان کو جواب دیا کہ وحید بٹ کے بدن پر موت آئی ہے۔ اُس کے کردار پر نہیں۔ وہ تا قیامت ہمارے دِلوں میں زندہ و جاوید رہے گا۔ ہم وہ سب لوگ جو وحید بٹ سے محبت کرنے کے دعویدار ہیں اُس کے نام کو بھی زندہ رکھیں گے اور اُس کے کام کو بھی۔ ہم ’’وحید بٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن‘‘ کے نام سے ایک ایساادارہ بنانے جا رہے ہیں جس کے تحت بیماروں کو مفت علاج معالجہ فراہم کیا جائے گا۔ زخمیوں کے زخموں پر مرہم عیسیٰ رکھنے کی سعی کی جائے گی۔ مظلوموں کو انصاف دلانے کے لئے ایک لیگل سیل کا قیام کیا جائے گا۔ بھوکوں کے لئے دستر خوان، پیاسوں کے لئے فرات کے نام سے پانی، بوڑھوں کے لئے اولڈ ہوم، بے روزگاروں کے لئے قرض حسنہ، یتیموں کے لئے رہائش، خوراک اور تعلیم کا انصرام، مصیبت زدگان کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق امداد کا بندوبست کیا جائے گا۔ یوں وحید بٹ مر کر بھی ہمارے درمیان زندہ رہے گا۔ میں زیر لب اپنے پیارے وحید بٹ کی روحانی زندگی کے منصوبے بنا رہا تھا کہ اتنے میں آواز آئی کہ اندر بھی زمیں کے روشنی ہو مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے میں روتی آنکھوں، کرلاتی دھڑکنوں، سینہ پیٹتے جذبوں، نوحہ پڑھتے مرثیوں اور چٹختی ہڈیوں پر چمٹے ہوئے گوشت پوست کے لباس میں ملبوس گھر لوٹ آیا۔ مجھ سے میرے گھر والوں نے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو؟ میں نے کہا کہ دو جنازے پڑھ کر آ رہا ہوں۔ آج دو جنازے اُٹھے۔۔۔ایک ہی شان سے۔۔۔ ایک وحید بٹ کا اور دوسرا میرا۔ لوگوں نے وحید بٹ کو قبر میں دفن کر دیا اور میں نے خود کو وحید بٹ کی محبت میں مدفون کر دیا۔ وحید بٹ کا جنازہ لوگوں نے اٹھایا۔ میں نے اپنی میت کو خود کندھا دیا۔ خدا اُس کے درجات بلند کرے اور مجھے اُس کا نام اور کام بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثُم آمین)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved