جنرلوں۔ججوں۔ لیڈروں کو گھروں میں سوالات کا سامنا
  17  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

’’کہو کہ اے اللہ۔ اے بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا اور تو ہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے اور تو ہی جس کو چاہتا ہے بے شُمار رزق بخشتا ہے۔(آل عمران۔ آیت 27-26) بر حق ۔ برملا۔ وہی ہم سب کا مالک ہے۔ وہی سب فیصلے کرتا ہے۔ وہی فیصلے کرنے والوں سے فیصلے کرواتا ہے ۔ کتنی قومیں کیسے برباد ہوئیں۔ کتنے شداد ۔ قارون۔ فرعون۔کیسے رُسوا ہوئے۔ قرآن پاک میں بار بار سب حقائق بیان کیے گئے۔ تاریخ کے اوراق سارے جہانوں۔ سارے ملکوں۔ ساری قوموں کی داستانیں کھل کر ہمارے سامنے لاتے ہیں۔ آپ کی اور میری سمجھ میں تو آتا ہے کہ کب رُسوائی کا مقام آگیا۔ کہاں ایک شخص کو دستبردار ہوجانا چاہئے۔ کہاں ڈٹ جانا چاہئے۔ لیکن یہ محلّات میں رہنے والوں کو ان کے مصاحبین اور دربار والے آخری لمحے تک گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ طویل عبوری وقفے کا حکم دے۔ میرے مضمون کے حق میں ملک بھر سے پیغامات آئے ہیں۔ ان پر اگلے کالم میں بات ہوگی۔ اس وقت پاکستان کے 70سال کے سارے تاریخی ڈرامائی لمحے میری نگاہوں کے سامنے سے گزر رہے ہیں۔ بعض ادوار میں تو مجھے ان نازک دنوں میں ان ایوانوں میں جانے کا اور حکمرانوں کو قریب سے دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا ہے۔ بعض کی آنکھیں کھلی دیکھی ہیں۔ بعض کے ذہنوں اور آنکھوں پر تالے پڑے بھی دیکھے ہیں۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرے۔ سب سے عارضی چیز زندگی ہے۔ اور اس سے بھی عارضی اقتدار۔ جو زندگی میں ہی چلا جاتا ہے۔ اور جو لوگ اقتدار سے چمٹے رہتے ہیں وقت پر فیصلے نہیں کرتے۔ یا ان کے جہاز ہوا میں پھٹ جاتے ہیں۔ یا وہ اٹک جیل سے معافی مانگ کر دس سال کی بن باسی مان کر سب کو چھوڑ کر نکل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی توبہ کریں۔اور وہ خلق خدا کی خدمت کریں۔ لیکن وہ یہ سنہری مواقع بھی ضائع کردیتے ہیں۔ شخصیات آنی جانی ہیں۔ مملکت رہتی ہے۔ مملکت کا مقدر عوام سے وابستہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت دیکھ رہا ہوں کہ ہم سب کو یہ شکوہ تھا کہ سیاسی پارٹیاں لمیٹڈ خاندانی کمپنیاں بن گئی ہیں۔ اس بار پارٹی کو نہیں۔ سربراہ کو پارٹی لیڈر کی حیثیت سے نہیں۔ بلکہ خاندان کے سربراہ۔ شہزادوں اور شہزادیوں کو رُسوا کیا جارہا ہے۔ پارٹیوں کے لیڈروں اور کارکنوں کی آنکھیں کھولی جارہی ہیں کہ خاندانی ۔ موروثی سیاست ملک کے لیے کتنی خطرناک ہے۔ اگر پارٹی میں جمہوریت نہیں ہے تو ملک میں بھی جمہوریت نہیں آسکتی۔ پارٹی کے سربراہ پارٹی اور ملک کے لیے نہیں۔ اپنی ذاتی دولت بڑھانے کے لیے پارٹیاں بناتے ہیں۔ حکومت میں آتے ہیں۔ ابھی تو پارٹی کے سربراہ کی ناجائز دولت کے انکشافات ہورہے ہیں۔ دوسری سیاسی پارٹیاں تاجر۔ صنعت کار خاندان بھی تیار رہیں۔ ان کا یوم حساب بھی آنے والا ہے۔ اللہ نے 20کروڑ پاکستانیوں کی سن لی ہے۔ خانہ کعبہ۔ مسجد نبوی۔ روضہ رسول ؐپر ہونے والی دُعائیں قبول ہورہی ہیں۔ سب نے جس طرح پہلے خزانہ لوٹنے کی باریاں لی ہیں۔ اب ان کی جامہ تلاشی کی باریاں بھی آئیں گی۔ تاریخ نے سب کو یکساں مواقع دیے۔ فوج کو بھی ۔ عدلیہ کو بھی ۔ سیاسی جماعتوں کو بھی۔ مگر کوئی بھی اس امتحان میں سر خرو نہیں ہوا۔ کوئی بھی عوام کے دلوں کا یکساں فاتح نہیں بن سکا۔مجھے یہ حقیقت لکھنے دیجئے۔سب کرپشن سے کسی نہ کسی طرح اتفاق اتفاق کرتے رہے۔ خود کرپشن نہیں کی تو اپنے رشتے داروں دوستوں کی کرپشن پر آنکھیں بند کرتے رہے۔ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہئے۔ سب سے زیادہ ناانصافی اور ظلم پاکستان کی زمینوں پر ہوا ہے۔ اب یہ زمینیں انتقام لے رہی ہیں۔ چاہے وہ رائے ونڈ کی ہوں ۔بلاول ہاؤس کلفٹن کی۔ ڈی ایچ اے کی۔ بحریہ کی۔یہ زمینیں خلق خدا کے سر چھپانے کے لیے تھیں۔ زمین مقدس ماں ہوتی ہے۔ مملکت خدا داد میں یہ سب سے بڑا کاروبار بن گئی ہے۔ سب ادارے اس کاروبار میں پڑ گئے ہیں جنہیں دشمن کی زمینیں فتح کرنا تھیں۔ وہ بھی اپنی زمینوں میں پلاٹ بناکر بیچنے میں لگ گئے۔ آنکھیں رکھنے والو عبرت حاصل کرو۔ یہ نہ سمجھو کہ صرف ایک خاندان پر قدرت کا عذاب نازل ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا انصاف ایک سا ہوتا ہے۔ آپ جب یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے ملک کی سب سے بڑی عدالت۔ تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ کرنے والی ہوگی۔ تاریخ کٹہرے میں ہے۔ جغرافیہ کٹہرے میں ہے۔ عدالت عظمیٰ بھی وقت کے کٹہرے میں ہے۔ اس وقت جو ہوائیں چل رہی ہیں ان کے تیور بہت بگڑے ہوئے ہیں۔ چھاؤنیوں میں بھی سپہ سالار سے سوال جواب ہورہے ہیں۔ پاکستان کی آئندہ نسلیں۔ ہمارا مستقبل بہت سے سوال کررہا ہے۔ جنرلوں کے بچے ان سے بہت کچھ پوچھ رہے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے جج بھی بیٹے بیٹیوں والے ہیں۔ ان کو بھی اپنے گھروں میں سوالات کا سامنا ہے۔ تاجروں۔ صنعتکاروں کی اولادیں بھی ان سے پوچھتی ہیں کہ آپ کس کے ساتھ ہیں۔ غریبوں کے بچے بھی ان سے تقاضا کررہے ہیں کہ کب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہو گے۔ سوال کوئی کرے تو جواب آتا ہے طلب ہو خلق میں تو انقلاب آتا ہے خدا بھی یونہی کبھی مہرباں نہیں ہوتا خدائی چیخے تو یوم حساب آتا ہے ستم زدوں نے اٹھائے ہیں مل کے جب بھی قدم ستم گروں پہ اسی دن عتاب آتا ہے ستم گر صرف ایک نہیں ہے۔ سب ہیں۔ پنجاب میں حکومت کرنے والے بھی۔ سندھ میں وڈیرہ شاہی والے بھی۔ خیبرپختونخوا میں انصاف کا دعویٰ کرنے والے بھی۔ بلوچستان میں امن کا نعرہ لگانے والے بھی۔ گلگت میں حقوق بحال کرنے کا دھوکہ دینے والے بھی۔ آزاد کشمیر میں کشمیریوں کے خون کا سودا کرنے والے بھی۔ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کا فریب دینے والے بھی۔ سب ایک خاندان کے خلاف شور مچاکر اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں۔ ان کے بیانات۔ تصویریں۔ ٹاک شوز میں گفتگو سب ہمیں گمراہ کرنے کے لیے ہیں۔ ہر فرد کو اپنی ذات سے باہر نکلنا ہوگا۔ پروفیسروں۔ اساتذہ۔ دانشوروں۔ تجزیہ نگاروں۔ میڈیا مالکان۔ تاجروں۔ صنعت کاروں۔ علمائے کرام کو۔ ہر پاکستانی کو کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ پاکستان کو 70سا ل بعد جہاں ہونا چاہئے تھا وہاں نہیں ہے۔ عام پاکستانی کو زندگی کی وہ آسانیاں میسر نہیں ہیں۔ جو دوبئی ۔ استنبول۔ تہران۔ بیجنگ میں ہیں۔ بلکہ 1977سے پہلے ہمارا جو معیار زندگی تھا۔ ہمارے ادارے جس سطح پر تھے۔ اس سے بہت نیچے چلے گئے ہیں۔ہمیں یہ سب کچھ بحال کرنا ہے۔ موجودہ سیاسی لیڈر شپ یہ نہیں کرسکتی۔ یہ سب آزمائے جاچکے ہیں۔ انہوں نے جو ماحول جو نظام بنایا ہے۔ جو انتخابی قوانین بنائے ہیں۔ وہ ناکام ہوچکے ہیں۔ نیا نظام۔ نئے قواعد ہی صادق اور امین قیادت دے سکتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved