ایک غیر ملکی سازش
  17  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جب سے پانامہ ایشو شروع ہوا تب سے اس بارے مختلف آرا اور تبصرے جاری ہیں گزشتہ سال جب سپریم کورٹ نے از خود اس کیس کی سماعت شروع کی تو ایک تو کمرہ عدالت میں شنوائی ہوتی رہی دوسرے کورٹ کے باہر ایک سٹیج لگتا اور ہر کوئی اپنی اپنی بساط اور علم کے مطالب اخذ کرکے عوام کو متاثر و مستفید کرتا رہا پھر سرشام آزاد میڈیا سے عوام کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا جو رات گئے جاری رہتا۔ پھر جے آئی ٹی بن گئی۔ جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد باہر بھی مائیک اور دیگر انتظامات رہے اور ہر کسی نے اپنے طور پر یہی بتانے کی کوشش کی کہ ہم نے جے آئی ٹی سے پوچھا کہ ہم پر الزام کیا ہے مگر جے آئی ٹی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ گویا ٹرائل جے آئی ٹی کا تھا پھر وہی میڈیا پر تعلیم بالغان کا پروگرام جاری رہا جو کہ اب بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ بھی عوام کے استفادہ کے لئے پریس کانفرنس اور میڈیا شوز بھی جاری ہیں۔ ابھی دو روز پہلے دو وزراء نے کف افسوس ملتے ہوئے کہا کہ پانامہ کیس ایک سپانسرڈ سازش ہے جس کا ہدف پاکستان کو بھکاری بنانا ہے۔ ایک اور وزیر صاحب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑا تو سی پیک کو بھی استعفیٰ دینا ہوگا۔ وزراء نے یہ بھی سوال کیا کہ پٹیشن عدالتوں میں لانے والوں نے کس کا بھلا کیا۔ سارے معاملے میں سیاستدانوں کا امیج خراب ہوا ہے۔ گلہ تو ان کا بجا ہے۔ پانامہ کیس میں تو اڑھائی سو سے زائد افراد کے نام تھے ان کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی گئی لیکن یہ ذمہ داری بھی حکومت اور حکومتی اداروں کی ہے کہ وہ اس بارے کارروائی کرتے۔ آج سے جے آئی ٹی رپورٹ پر عدالت عظمیٰ میں پھر سے شنوائی شروع ہورہی ہے حکومتی پارٹی اور حکومتی خاندان اگرچہ دو الگ اکائیاں ہیں مگر دونوں نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے اور اس رپورٹ کو ردی قرار دیتے ہوئے اس کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم مستعفی ہوجائیں اور ان کی جگہ انہی کی پارٹی کا کوئی فرد وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لے اور اگر عدالتی فیصلہ وزیراعظم کے حق میں آجاتا ہے تو وہ دوبارہ عہدہ سنبھال لیں۔ مگر اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے حکومتی پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ اب فیصلہ تو عدلیہ نے کرنا ہے مگر ان نو ماہ کے دوران بعض حکومتی اداروں کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اگر تو یہ سازش ہے تو یقینی طور پر حکومت کو علم ہوگا کہ کون ہے جو یہ سازش کررہا ہے اور کیوں یہ سازش کی جارہی ہے حکومت کو واضح طور پر بتا دینا چاہئے کہ حقیقت کیا ہے محض بیانات دینے اور الزام لگانے سے تو کچھ حاصل نہ ہوگا سیاست اور بزنس میں ساکھ کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے اگر ایک بار ساکھ ختم ہوجائے تو نہ سیاست نہ بزنس کامیاب ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ان نو ماہ کے دوران جہاں سیاست اور بزنس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے وہاں میڈیا کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوگئی ہے۔ الزامات کے تواتر سے حقیقت نہ جانے کہاں پیچھے رہ گئی ہے۔ اتنا شور برپا ہوا ہے کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی۔ کبھی کہا جاتا ہے یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے کبھی کہا جاتا ہے ملکی خوشحالی کے خلاف سازش ہے۔ اگرچہ یہ کیس عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے قانون کے تحت اس کا فیصلہ ہونا ہے۔ قانون کی بالادستی کیلئے یہ قانونی جنگ اگر عدالت تک ہی محدود رکھی جاتی تو ملک کیلئے بہتر ہوتا عدلیہ کے ریمارکس کو زیر بحث لانا اور ان پر تبصرے کرنا کسی طور پر مناسب طریقہ کار نہ تھا۔ عدالت نے جب جے آئی ٹی بنائی تواسے ویلکم کیا گیا مگر اس کی فائینڈنگز کے بعد اس پر تحفظات کسی طور بھی مناسب نہیں۔ اداروں کا تحفظ‘ بالادستی قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اسی طرح جمہوریت اور حکومت مستحکم ہوتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ جے آئی ٹی میں دو فوجی اداروں کے نمائندے کیوں ہیں اگرچہ اس سے پہلے کئی جے آئی ٹیز بنی جن میں انہی ادارے کے نمائندے شامل رہے۔ سی پیک کسی ایک حکومت کے ساتھ معاہدہ نہیں بلکہ یہ دو ریاستوں کے درمیان ایک منصوبہ ہے۔ اس پر ابتدائی مذاکرات اور کام تو شاید ایک دہائی پہلے شروع ہوچکا تھا۔ نہ ہی یہ کوئی بھکاری بنانے کی سازش ہے بلکہ جتنی جلدی یہ مسئلہ اپنے انجام کو پہنچے اتنا ملک کیلئے بہتر ہوگا کیونکہ کسی بھی غیر یقینی صورت حال کا پہلا شکار ملک کی اکانومی ہوتی ہے۔ وطن عزیز کو ایک مستحکم حکومت کی ضرورت ہے کیونکہ جتنی تیزی ے جیوسٹریٹیجک حالات بدل رہے ہیں ہمیں بھی اپنے تحفظ اور استحکام کیلئے فیصلے کرنے ہونگے۔ عدلیہ کے فیصلوں پر تحفظات کی بجائے انہیں تسلیم کرنا ہوگا تاکہ ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ہو۔ پارلیمنٹ کو فعال اور آزاد بنا کر ہی ملکی اور عوامی مفاد میں فیصلے لئے جاسکتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
100%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved