کشمیر میںتحریک آزادی پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ سے مشروط
  22  جولائی  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اس وقت سب سے ہاٹ ایشو پانامہ لیکس کا معاملہ ہے۔حکومت کا اب کیا بنے گا؟نواز شریف استعفیٰ دیں گے یا نہیں؟اس معاملے کو ایک طرف رکھتے ہوئے میں قارئین کی توجہ اپنے گزشتہ کالم کی طرف مبذول کرنا چاہتاہوں جس میں میں نے عرض کیا تھا کہ پاکستان کے گرد اسلام دشمن قوتوں کا گھیرا تنگ ہورہا ہے ۔نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا جہاں ان کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا ۔کشمیر یوں کی جاری جدوجہد کے خاتمے کے لئے سرائیل بھی بھارت کی مدد کے لئے تیار ہوگیا ہے۔بھارت اور اسرائیل پہلے بھی ایک تھے لیکن مصلحتاً فاصلے پر تھے ۔اب انہوں نے اپنے ایک ہونے کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔قرآن مجید کی بات پوری ہوگئی کہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہود اور مشرکین ہیں۔نصاریٰ کے بارے میں کہہ دیا گیا تھا کہ وہ بھی یہود کے ساتھ ہوکر یکجان دو قالب بن جائیں گے۔اب یہ دائرہ مکمل ہوچکا ہے او ر سب کی طرف سے ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔جان میکن بھی اپنے گزشتہ دورئہ پاکستان کے دوران دھمکی دے گئے ہیں کہ اگر پاکستان نے ہماری باتیں نہیں مانیں اور افغانستان میں اپنا وہ کردار ادا نہیں کیا جو امریکہ چاہتا ہے تو اسے نتائج بھگتنے ہوں گے۔یہ وہ صورتحال ہے جس سے ہم گزررہے ہیں۔بھارتی فو ج پہلے ہی کشمیریوں پر ظلم و ستم کی مثالیں قائم کررہی تھی اور اب نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے کے بعد یہودی ہندو مشرکین کے ساتھ مل کر درندگی اور بربریت کا مظاہرہ کررہے ہیں اور دنیا نے اس بارے میں پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔حقوق انسانی کا معاملہ کشمیر میں انہیں نظر نہیں آرہا ۔اس عالمی بے حسی پر یا تو زمین پھٹے یا آسمان گرے ، اس کی کسی کو پرواہ نہیں۔پیلیٹ گن سے توکشمیریوں کو اندھا کیا جارہا تھا، اب کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ اسرائیل کی مدد سے اب بھارت کیا کچھ کرے گا اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ کشمیریوں کے لئے ان کی زندگی بے معنی ہوچکی ہے۔بہرحال ان کی تحریک آزادی کی پیشرفت جاری ہے۔''لے کے رہیں گے آزادی '' کے نعرے کے ساتھ وہ یہ نعرہ بھی لگا رہے ہیں کہ ''پاکستان سے رشتہ کیا لا الٰہ الا اللہ''۔ میں دراصل قارئین کی توجہ اس نعرے کی طرف دلانا چاہ رہا ہوں۔وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ سمجھتے ہیں۔اس قلعے کے حصار میں آنے کے لئے انہوں نے بھارت سے ٹکر لی ہوئی ہے۔ہم نے پاکستان کو اسلام کا قید خانہ بنا رکھا ہے۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اسلام اس قیدخانے سے باہر آجائے۔یہ بہت بڑا جرم اور ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔وہ لاالٰہ الا اللہ کے نعرے پر قربانیاں دے رہے ہیں ۔ہمارے ملک کی آبادی 96فیصد مسلمانو ں پر مشتمل ہے لیکن ہمیں یہاں اتنا اسلام بھی حاصل نہیں ہے جو بھارت میں مسلمانوں کو حاصل ہے۔ہمارے مسائل تو اور ہیں۔ کسے اقتدار سے بے دخل کرنا ہے اور کس کی تاج پوشی ہونی ہے؟قومی دولت کس طرح ہڑپ کرنا ہے؟اس کی دوڑلگی ہوئی ہے۔اس حمام میں سب ننگے ہیں۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ کشمیری لاالٰہ کے حوالے سے خود کو پاکستان سے جوڑتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو ہر طرح کے تشدد کا نشانہ بنایا جا تا ہے کیونکہ ان کی آزادی کی تحریک بھارت کے لئے بالکل ناقابل برداشت ہے۔دوسری جانب پاکستان لبرلزم اور سیکولرزم کی طرف بڑھ رہا ہے جو دین اسلام کی مکمل نفی ہے۔یہ نعرہ لگانے کے باوجود اہل کشمیر پاکستان کے طرز عمل پر کس قدر دل شکستہ ہوں گے ۔اندازہ کریں کہ اگر پاکستان میں بھی لاالٰہ الا اللہ ایک حقیقت بن جائے اور یہ ایک فلاحی اسلامی ریاست بن جائے تو کشمیر میں آزادی کی تحریک کیا رخ اختیار کرے گی ۔ اس تحریک کو کامیابی کی ضمانت تو اس وقت ملے گی۔بھارت کی ساری فوج بھی اگر کشمیر میں لگا دی جائے تو بھی اس تحریک کو روکنے میں ناکام رہے گی۔اس مرتبہ اپنی تحریک آزادی کو کشمیریوں نے جو رخ دے رکھا ہے اس پر کوئی بھی انگلی نہیں رکھ سکتا۔پہلے ان پر الزام یہ تھا کہ یہ توڑ پھوڑ کرتے ہیں ۔ بھارتی فوج کو قتل کررہے ہیں وغیرہ ۔اپنے حقوق کے حصول کے لئے اب انہوں نے صرف مظاہروں کو ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ آج پوری دنیا انسانوں کو نہ صرف یہ حق دیتی ہے بلکہ ان کی تائید بھی کرتی ہے۔لیکن ان کے ساتھ معاملہ مختلف ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسلمان ہیں۔میں ایک بار پھر یہ بات دہراتا ہوں کہ پاکستان میں بھی اگر لاالٰہ الا اللہ ایک حقیقت بن جائے اور یہ واقعی ایک اسلامی فلاحی ریاست بن جائے تو کشمیریوں کی تحریک آزادی کامیاب ہوسکے گی۔ہم نے پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست نہ بناکر اسے مفلوج اور ناکام ریاست بنا رکھا ہے بلکہ بالواسطہ ہم کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم کا باعث بھی بن رہے ہیں۔پاکستانی اور کشمیری اس کے ایک اسلامی فلاحی ریاست بننے کے حوالے سے اگریک آواز ہوجائیں تو ظالموں کے ہاتھ توڑے جاسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی سمجھ اور اس کے لئے قرآن کا فہم عطا فرمائے اور ہمارے دلوں میں حقیقی ایمان جاگزیں فرمادے۔آمین یا رب العالمین۔

آخرمیں وہی بات جس پر میں ہمیشہ زور دیتا آیا ہوں کہ ہم اسلام دشمنوں کے خلاف کامیابی صرف ایک صورت میں حاصل کرسکتے ہیں کہ اللہ ہماری مدد کرے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو مقامات پر بہت واضح طور پر فرمادیا ہے کہ اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کو آئے گا۔اللہ کی مدد کا مطلب یہ ہے کہ رب کی دھرتی پر رب کا نظام قائم کیا جائے۔اگر اللہ تمہاری مدد کو آجائے تو تمہیں دنیا کی کوئی قوت زیر نہیں کرسکتی اور ساتھ ہی تنبیہ بھی فرمائی ہے کہ اگراس نے تمہاری پشت پناہی نہ کی تو اللہ دیکھے گا کہ کون تمہاری مدد کرسکتا ہے۔یعنی کوئی تمہاری مد د کو نہیں آئے گا۔ اللہ خود اس راستے میں رکاوٹ بنے گا۔حقائق یہ ہیں لیکن ہم آنکھیں کھولنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved