عدالتی فیصلے کیخلاف جھوٹ نہ پھیلائیں
  7  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

20 اپریل2017 کے فیصلے کے بعد جے آئی ٹی بنی جس کی رپورٹ کے بعد28 جولائی کو پانچ رکنی بنچ کا تحریری فیصلہ آیا۔ پہلے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ متفقہ نہ تھا، دو جج صاحبان نے نواز شریف کیخلاف فیصلہ دیا اور ان کو آئین کے آرٹیکل62.63 کے تحت صادق اور امین نہ ہونے پر وزارت عظمیٰ بلکہ اسمبلی کیلئے بھی نا اہل قرار دیا۔ تین جج صاحبان نے محسوس کیا کہ مزید تحقیقات کی جائیں تاکہ شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے، لہذا جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، جس نے 60 دن کی مقررہ معیاد کے پورے ہونے پر اپنی انتہائی تفصیلی رپورٹ عدالت عالیہ کے اس تین رکنی بنچ کو پیش کردی جو اُن جج صاحبان پر مشتمل تھی جنھوں نے20 اپریل والے فیصلے میں تحریر کیا تھا کہ مزید تحقیقات کی جائے تو بہتر ہے۔ اس تین رکنی بنچ نے 7 دن تک روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی۔ وکلاء صفائی کو پوراموقع دیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے تفصیلی بحث کی اور بنچ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ یعنی تفصیلی فیصلہ تحریر کرنے کیلئے وقت لیا۔28 جولائی2017 کو وہی پہلا والا پانچ رکنی بنچ بیٹھا، کیوں کہ یہ بنچ ٹوٹا نہیں تھا صرف اس کے تین ممبران مزید تحقیقات چاہتے تھے۔ جب یہ تین جج صاحبان جے آئی ٹی کی رپورٹ پڑھ چکے اور عدالتی کارروائی مکمل ہوگئی تو پھر پانچ رکنی بنچ بیٹھا اور اپنا متفقہ فیصلہ5-0 کی بر تری سے سنایا جس میں وزیر اعظم نواز شریف کو صادق اور امین ثابت نہ ہونے پر آئین کے آرٹیکل62-63 کے تحت نا اہل قرار دے دیا گیا۔ اب آپ بتائیے کہ قانون کے تقاضے کہاں پورے نہیں ہوئے۔ یاد رکھئیے کہ آرٹیکل63-63 کے تحت عدالت عظمیٰ کی طرف سے صادق اور امین نہ ہونے کی بناء پر نا اہلی تاحیات ہے۔ کیوں کہ مذکورہ سزا یافتہ شخص ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے صادق اور امین نہ ہونے کا ثقّہ بند سرٹیفکیٹ لے چکا ہے اور تاحیات اس کے انتخابات کیلئے جمع کردہ کاغذات نامزدگی اسی بناء پر مسترد ہوتے رہیں گے۔ جب عدالت عظمیٰ کا پہلا فیصلہ2 اپریل کو آیا تو نواز لیگ والوں نے مٹھائیاں بانٹیں اور بھنگڑے ڈالے یہ سمجھ کر کہ عدالتی فیصلہ2-3 کی بر تری سے اُن کے حق میں آگیا۔ خوشی اور جوش کے ان لمحات میں وہ یہ بھول گئے کہ اس سے آگے کیا لکھا ہے، پھر جب جے آئی ٹی بنی تو بھی پی ایم ایل(ن) والے خوش تھے کہ چھ ارکان میں سے چار تو سویلین ہیں اور حاضر سروس افسران ہیں، انہیں کیا کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ سب لوگ عدالت عظمیٰ نے بڑی عرق ریزی سے چُنے ہیں اور ان حضرات نے جب دن میں سولہ سولہ گھنٹے کام کرنا شروع کیا اورپوچھ گچھ کیلئے مقتدر خاتون اور حضرات کو طلب کرنا شروع کیا تو مٹھائیوں کے ڈبوں کے منہ بند اور بھنگڑے کے ڈھولوں کی تھاپ بند ہوگئی۔ بد قسمتی سے کیوں کہ ہمارے لوگوں کو بطور خاص سول بیورو کریسی کو کام کرنے کی عادت ہی نہیں رہی ہے، لہذا جب جے آئی ٹی نے کاغذات کے پلندے اور کمپنیوں کے کھاتے اور بینکوں کی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات سامنے رکھنا شروع کیں تو ہا ہا کار مچ گئی، شوشا چھوڑا گیا کہ اتنا سارا کام اور اتنی تفصیلات 7 دنوں کے اندر جمع کرنا ممکن ہی نہیں یہ کام توادارے( پڑھئیے فوج) ایک سال سے کررہے تھے، ایک کے بعد ایک سازشی تھیوریاں ایجاد ہونے لگیں۔ نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز، اسحاق ڈار کیپٹن(ر) صفدراور ان کے حواریوں نے ایک سے زیادہ ایک بد حواسیاں شروع کیں۔ کسی ایک کا بیان دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ بات شروع ہوئی تھی لندن کے چار سُپر لگثرری فلیٹس سے نمبر17-A-17,16-A,16 جو خیر سے لندن کے مہنگے ترین علاقے پارک لین بالمقابل ہائیڈ پارک میں واقع ہیں اور جو آف شور کمپنیوںNescol اورNescom کے ذریعے خریدے گئے۔ ان کیلئے پیسہ کہاں سے آیا اس کی صفائی شریف خاندان نے مختلف طریقوں سے دیں۔ نہ منی ٹریل کا پتہ چلا نہ یہ کہ مختلف اوقات میں سے کسی وقت یہ خریدے گئے۔ اب ہوا یہ کہ جیسے جیسے بات آگے چلتی گئی مزید بیرون ملک جائدادیں سامنے آتی چلی گئیں اور ساتھ ہی مزید آف شور کمپنیاں بھی نکلتی چلی آئیں۔ اس کہانی کاClimax یہ ہوا کہ خود جناب وزیر اعظم دبئی میں قائم ایک آف شور کمپنیCapital Fte کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین نکل آئے جس کیلئے باقاعدہ تنخواہ مقرر تھی، اس بات کی اہمیت نہیں کہ نواز شریف تنخواہ لیتے یا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ جناب وزیر اعظم نے یو اے ای میں کام کرنے اور رہائش اختیار کرنے کیلئے درخواست دی اور انہیں باقاعدہ اقامہ جاری ہوا۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ نکتہ ہے کہ اسی کمپنی کے ذریعے بہت بھاری رقومات ادھر سے اُدھر ہوئیں اور منی لانڈرنگ کی گئی۔ نواز شریف کے علاوہ اور بھی سیاستدانوں کے متحدہ عرب امارات کے اقامے باہر آگئے، آخر ہر شخص یہ اقامے لے کر اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لے رہا تھا؟ شنید ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سوئزرلینڈ کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس کے تحت اگر کوئی ملک سوئزر لینڈ میں اپنے شہری کی دولت کے بارے میں پوچھنا چاہے تو اگر اس شخص کے پاس یو اے ای کا اقامہ ہے تو سوئزرلینڈ میں اس کی دولت کے بارے میں حکومت سوئز لینڈ کوئی تفصیلات بتانے کی مجاز نہیں ہوگی۔ وزیر اعظم کی نا اہلیت کے بارے میں سب سے زیادہ بے ہودہ جھوٹ یہ بولا جارہا ہے کہ میاں صاحب کو صرف اقامہ رکھنے اور آف شور کمپنی کی وجہ سے نا اہل قرار دیا گیا ہے اس سے بڑا جھوٹ اور غلیظ غلط بیانی ہوہی نہیں سکتی۔ میاں صاحب کہتے ہیں کہ میں نے یہ کمپنی اس لئے نہیں ڈکلیئر کی کہ میں اس سے تنخواہ نہیں لیتا تھا۔ میرے بھائی آپ تو شاید تنخواہ لیتے ہوں یا نہ لیتے ہوں سوال یہ ہے کہ یہ کمپنی وہاں کیا کیا گُل کھلارہی تھی۔ صورتحال یوں ہے جب20 اپریل کا فیصلہ آیا تو اس وقت تک میاں صاحب کی یہ آف شور کمپنی اور اُن کے اقامے کا ظہور ہی نہیں ہوا تھا۔ یہ تو بعد میں جے آئی ٹی نے کھود کر نکالیں اس لئے اس کا ذکر28 جولائی کے فائنل فیصلے میں ہوا۔20 اپریل کے فیصلے والے دو جج صاحبان نے تو اس انکشاف سے پہلے ہی انہیں صادق اور امین نہ ہونے پر نا اہل قرار دے دیا تھا۔ یاد رکھئیے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں صاف تحریر ہے کہ20 اپریل اور28 جولائی کے فیصلے ملاکر پڑھے جائیں۔ نہ جانے یہ مسلم لیگ(ن) والے ہر چیز میں لوہا کیوں گھسیڑ دیتے ہیں۔ لوہے کے چنے؟ میرے بھائی! لوہا تو اتفاق فاؤنڈری میں بنتا ہے اور چنے انار کلی کے نکڑ والی دکان میں ملتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
33%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
67%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved