نواز شریف، فوج، عمران خان
  9  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

عدالت عظمیٰ سے رُسوا ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے نواز شریف نے'' ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے'' کے مصداق سیاست، سیاستدانوں، سیاسی پارٹیوں اور سیاسی کارکنوں کو عوام کی نظر میں اس قدر بے توقیر کرنے کی ٹھانی ہے کہ مستقبل میں عوام ان کا نام بھی لینا گوارا نہ کریں۔ اس موقع پر عوام کو صحیح آگاہی دینا بہت ضروری ہے اور اس لئے شاید مجھے کچھ ایسی باتیں دہرانا پڑیں جو میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو جھوٹ بولنے اورآمدنی سے زائد اثاثے بنانے پر20 اپریل کے فیصلے میں صادق اور امین نہ ہونے کی بناء پر نا اہل قرار دیا مگر یہ فیصلہ پانچ میں سے دوجج صاحبان کا تھا۔مزید تحقیقات ہوئیں اور28 جولائی کا فیصلہ متفقہ تھا کہ وہ کسی بھی پبلک آفس کیلئے نا اہل ہوگئے کیوں کہ عدالت نے انہیں جھوٹا اور غیر امانتدار ثابت کیا اس لئے یہ فیصلہ تاحیات ہے۔ وہ دن آج کا دن نواز شریف بھولی سی صورت بنائے ہر چینل پر نظر آرہے ہیں اور ہر ایک سے پوچھتے ہیں کہ میں نے کیا، کیا ہے؟ میرا قصور کیا ہے؟ یہ وہی ڈرامائی انداز ہے جب لیلیٰ مجنوں کے ڈرامے میں قیس گلی گلی پھرتا ہر راہ گیر کا دامن تھام کر پوچھتا تھا میری لیلیٰ کہاں ہے اور لوگ اسے پاگل پاگل کہہ کر پتھّر مارتے تھے۔ اُدھرNAB میں درجنوں کے حساب سے نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز، کیپٹن(ر) صفدر اور اسحاق ڈار کیخلاف ریفرنس پر ریفرنس دائر ہورہے ہیں، ادھر نواز شریف کی یہ فریاد کہ میں نے کیا، کیا ہے۔ میاں صاحب! اگر آپ نے کچھ نہیں کیا ہے تو قانون آپ کو با عزّت بری کردیگا اور کچھ کیا ہے تو نہ تو یہ لیلیٰ مجنوں والا ڈائیلاگ ہی آپ کو بچاسکے گا اور نہ ہی فوج اور عمران خان کے کیخلاف طوفان بدتمیزی۔ نواز شریف کی فوج سے کینہ پروری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اوراب تو یہ اگلی نسل میں بھی منتقل ہوگئی ہے، آپ کو دوبار حکومت سے بر طرف کرنے میں فوج کے سپہ سالار کا ضرور کردار رہا مگر ڈرامہ بازی سے فرصت ملے تو ذرا سوچئیے گا کہ اس کی ابتداء کس نے کی اور اسے ناقابل واپسی مقام پر کس نے پہنچایا۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس میں قابل احترام وکلاء برادری کا ایک ٹولہ بھی شامل ہوگیا ہے۔ جنھیں پاکستان بار ایسوسی ایشن اور بار کونسل کے انتخابات ہارنے کے بعد آرام کرنا چاہئے تھا کہ کیوں کہ اب وہ وکلاء برادری کی نمائندگی نہیں کرتے مگر ان کے کالا کوٹ پہن کر فوج کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے سے عوام میں یہ تاثر جاتا ہے کہ وہ تمام وکلاء کی نمائندہ ہیں، اگر محترمہ اپنی ذاتی حیثیت میں فوج کیخلاف زہر اگل رہی ہیں تو انہیں یہ کام کالا کوٹ اتار کر کرنا چاہئے یہ اخلاقی بندشیںہیں جو غالباً ان کو معلوم نہیں۔ محترمہ کا مطالبہ ہے کہ فوج اپنے بجٹ کا حساب دے، میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ پاکستانی فوج( جس کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے) ایک سپاہی پر آنے والا خرچ اس معیار کی دنیا کی تمام افواج میں سب سے کم ہے، وہ نواز شریف کی ہمدرد بنتی ہیں جن پر اربوں ڈالر کرپشن کے الزامات ہیں اور مقدمے دائر ہورہے ہیں اور فوج سے پیسوں کا حساب مانگ رہی ہیں۔ ایک اور الزام جو فوج پر گاہے بگاہے لگایا جاتا ہے اور محترمہ اکثر اس سے لطف اندوز ہوتی ہیں وہ1971 کا سقوط ڈھاکہ ہے، میں نے اسی زمانے میںدو سال مشرقی پاکستان میں ڈیوٹی دی ہے اور یہ ناقابل تردید حقیقت ہے اگر پاکستانی فوج کوFortress Defence کی اسٹریٹجی اپنانے دی جاتی تو ہم ہتھیار نہ ڈالتے مگر اس وقت گھنائونا کھیل یہی تھا جو سقوط ڈھاکہ پر ختم ہوااور یہ کھیل کھیلنے والے فوجی نہیں تھے۔ یہ وہی محترمہ ہیں جنھوں نے ایک موقع پر محرم ہونے نہ ہونے کا سوال اُٹھنے پر اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے اقبال حیدر مرحوم کا بازو پکڑ کر پاٹ دار آواز میں کہا کہ'' محرم نا محرم کیا ہوتا ہے؟ یہ میرے ساتھ بیٹھا اقبال حیدر میرا محرم ہے۔'' ہاں! یاد آیا یہ وہی محترمہ ہیں جن کی بھارت میں ایک ہندو تہوار میں ناچنے والی تصویر ایک زمانے میں وائرل ہوئی تھی، مجھے یہ ذاتی باتیں لکھتے ہوئے افسوس ہے مگر جب آپ کیچڑ میں پتھّر پھینکیں گی تو کیچڑ کے چھینٹے سب سے پہلے آپ ہی کے چہرے اور دامن کو داغدار کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف کو اُن کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے عدالت عظمیٰ نے نا اہل قرار دیا ہے اس میں فوج کہاں سے بیچ میں آگئی۔ میں نے اس سے پہلے کسی کھسیانی بلّی کو اس طرح اور اس قدر کھمبا نوچتے نہیں دیکھا تھا۔ نواز شریف کی سیاست ظلاظت سے ہمیشہ ہی بھرپور رہی ہے،90 کی دہائی میں انھوں نے محترمہ نصرت بھٹّو مرحومہ اور محترمہ بے نظیر بھٹّو شہید کیPhoto Shop تصاویر چلائیں جن کو یاد کرکے ہمیشہ بی بی کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ انھوں نے اپنے اقتدار کی ابتداء جونیجو مرحوم سے غدّاری کرکے کی۔ انھوں نے ہمیشہ گلّو بٹوں کی مددسے انتخابات میں دھاندلی کی۔ اب ان کی ذہنی و اخلاقی گراوٹ کا تازہ ترین شکار عمران خان ہوئے ہیں۔ صرف دو باتیں غور طلب ہیں محترمہ عائشہ گلالئی کے مطابق ان کو عمران خان کا پہلاTEXT سال2013 میں آیا تھا اور آخری بار2016 میں۔ اب اچانک2017 میں نواز شریف کے نا اہل قرار پا جانے کے بعد فاٹا کے ایک باغیرت قبیلے کی اس دختر کا ضمیر ایکدم جاگ پڑااور ایسا جاگا کہ الامان و الحفیظ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جو لوگ نواز شریف کیخلاف اتنے لمبے عرصے تک پارلیمانی کمیٹی نہ تشکیل دے سکے انھوں نے عمران خان کیخلاف چند دنوں کے اندر ہی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی۔

نواز شریف مری کے ٹھنڈے پہاڑوں سے اترے تو راستے میں اُن کا'' شاندار'' استقبال کیا گیا۔ یہی ڈیوٹی اب جی ٹی روڈ یا موٹر وے پر متعلقہ ایم این اے اور ایم پی اے کی لگائی جائے گی۔جگہ جگہ نو ٹنکی لگے گی جیسے بّر صغیر کی تقسیم سے پہلے چھوٹے چھوٹے تھیٹر( نو ٹنکی) قریہ قریہ جاکر ڈرامہ کرتے تھے، یا اللہ! کہاں وہ ٹھاٹ کے ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر سے کم پر بات نہیں ہوتی تھی اور کہاں ایک سابق( حال نااہل) وزیراعظم جگہ جگہ نو ٹنکی لگا رہا ہے۔ رہے نام اللہ کا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
100%


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved