فوج اور مقبوضہ کشمیر کی شہادتیں اور … جشن!
  11  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭اسلام آباد لاہور تک سڑکیں ، مارکیٹیں ، دکانیں بند رکھنے کے تفریحی ' میلے' میں ایک دن اور بڑھادیاگیا ۔350 کلومیٹر سے زیادہ طویل سڑک پر لاکھوں عوام رُل گئے مگرعین اس وقت جب تیمر گڑھ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے جانبار افسراور جوانوں کے جنازے پڑھے جارہے تھے اور فوج کے اعلیٰ کمانڈر فوجی جوانوں کے ساتھ آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ اپنے جانے والے ساتھیوں کو الوداعی سلامی دے رہے تھے، اور عین اس وقت جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی اندھا دھند فائرنگ کے باعث ایک ہی روز میں چوتھے نوجوان کشمیری کی شہادت کی خبریں بھی آرہی تھیں، عین اسی وقت اسلام آباد میں ڈھول دھمکے اور بھنگڑوں کے ساتھ ایک ' جشن سوگ' منایا جا رہاتھا۔جشن کی وجہ یہ تھی کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے پانچ ججوں نے وزیراعظم کے منصب پر فائر ایک مستقل حکمران کو اس بناپر اس منصب سے الگ کردیا تھا کہ وہ اپنے ملک کا وزیراعظم ہو کر ایک دوسرے ملک میں اپنی کمپنی چلا رہا تھا۔ اس کے خاندان نے آئین و قوانین سے ماورا کسی جادو کے ذریعے لندن میں چارشاہی فلیٹس ، مانچسٹر اور لندن میں کئی منزلہ پلازے بنالئے تھے۔بیٹے اربوں ، کھربوں کا کاروبار کررہے تھے۔ ان کی پراپرٹی کا کاروبار کرنے والی کمپنی دنیا میں ایسی پانچویں بڑی کمپنی بن چکی ہے۔ یہ لوگ جب پاکستان آئے تھے تو لاہور کی نشتر روڈ ( پرانی برانڈرتھ روڈ) پر ایک بارہ دس فٹ کے کمرے میں کاروبار شروع کیا تھااور اب صرف پاکستان میں ہی ان کی مختلف فیکٹریوں کی تعداد دہرے ہندسے عبورکرچکی ہیں۔ گزشتہ روز ٹیلی ویژنوں پر جشن جیسے بھنگڑے اور ڈھول دھمکوں کے ساتھ شہنائی بھی بجتی سنی ہے۔ یہ سب کچھ تو خوشی کے موقع پر کیا جاتا ہے؟ پھر اسلام آباد اور راولپنڈی میں یہ کیسا جشن منایاگیااور اب سڑکوں پر منایاجارہاہے؟ ہندوؤں میں البتہ ایسا ہوتاہے کہ کوئی بوڑھا شخص اپنی جان سے گزر جائے تو وہ ڈھول دھمکے اور موسیقی کے ساتھ اسے الوداع کرتے ہیں!! ٭مگر یہ صرف شریف خاندان کا ہی معاملہ نہیں، عمران خاں نے اپنے 'دشمن' کو زیر ہوتے دیکھ کراس طرح سے جشن منایا جس طرح پہلوان لوگ اکھاڑوں میں منایا کرتے ہیں۔ ویسے میاں نوازشریف اور اس سے پہلے عمران خاں نے اپنے جشنوں کی لمبی لمبی تقریروں میں ایک بار بھی مقبوضہ کشمیر اوراس کے عوام پر ہونے والے انسانیت سو ز ظلم و ستم کا ذکر کرنا بھی گوارانہ کیا۔ ان میں سے کسی کو وطن عزیز کی خاطر پاک فوج کی قربانیاں یاد نہ آئیں۔ ان کالموں میں طاہر القادری اور عمران خاں کے زیر استعمال کنٹینروں کی داستانیں چلتی رہی ہیں۔ اب سابق وزیراعظم کے کنٹینر کا کچھ حال سن لیجئے۔ 38فٹ لمبے اس پورے ایئر کنڈیشنڈ کنٹینر میں ایک شاندار بیڈ روم، ایک میٹنگ روم، واش روم، ٹیلی ویژن وغیرہ کی اعلیٰ سہولتیں ، تقریر کے لیے کنٹینر کے ساتھ نیچے آنے والا ایک پلیٹ فارم اور اردگرد روشنیاں اور 37سپیکر!پورے صوبے میں سڑکوں پر سرم عام لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے پر پابندی ہے۔ اس کنٹینر پر یہ پابندی غالباً عائد نہیں ہوتی۔میں نے مقبوضہ کشمیر کا ذکر کیا ہے تو دو روز قبل لاہور کے ناصر باغ میں ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی گھن گرج والی تقریر میں کتنی بار اس مظلوم خطے کا ذکر کیا؟ اور اس پر ہونے والے ظلم و ستم پر آنسو بہائے؟ بلاول زرداری کو چترال میں دوسروں کی لکھی ہوئی تقریر پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ اس کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک بار آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر کھڑے ہوکر پوری بلندآواز سے بھارت کو للکارا تھا؟ آصف زرداری نے تو پاکستان ہی چھوڑ دیا، کشمیر کہاں یاد آسکتا ہے! ہاں ایک نیم مردہ بلکہ بالکل مردہ کشمیر کمیٹی بھی ہے، کنٹرو ل لائن تو کیا مظفر آباد، باغ ، راولا کوٹ یا کوٹلی بھی نہ جاسکی۔ ٭میں میاں نوازشریف کے اس اچانک مطالبہ پر شدید حیرت کے عالم میں ہوں کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے نیا عمرانی معاہدہ بنناچاہئے۔ گویا 1973ء کے آئین کو ختم کرکے مختلف ڈھیلی ڈھالی آزاد خود مختار ریاستوں پر مبنی ایک بالکل ڈھیلا ڈھالا وفاق بنایا جائے جس کے پاس عملی طورپر کوئی اختیار نہ ہو ۔ میں یہ بات ایسے ہی نہیں کررہا۔ عمرانی معاہدہ کو انگریزی میں سوشل کنٹریکٹ اور عام اصطلاح میں آئین کہاجاتا ہے۔ 1973ء کے آئین پر ملک کی تمام جماعتوں نے دستخط کئے تھے۔ اس طرح یہ تمام اکائیوں کا متفقہ آئین کہلایا۔ بعد میں سندھ کے قوم پرست اور بلوچستان کے علیحدگی پسند عناصر نے اس آئین کو ختم کرکے ایسا نیا 'عمرانی معاہدہ' طے کرنے کا مطالبہ کیا جس میں شامل تمام اکائیوں کو آزاد اور خودمختار ملکوں کی حیثیت حاصل ہو اور وفاق کی حیثیت محض دولت مشترکہ جیسی ڈھیلی ڈھالی تنظیم کی رہ جائے! محب وطن سیاسی حلقوں نے اس مطالبہ کی ہمیشہ سخت مخالفت کی اور اسے ملک دشمن رویہ بلکہ 'غداری' قرار دیا گیا۔ مجھے حیرت ہے کہ میاں نوازشریف نے محض ایک عہدہ چھن جانے پر ایسا خطرناک نعرہ لگادیا ہے۔ ان سے ہزار اختلافات ہوں مگر یقین نہیںآرہا کہ وہ اس حد تک بھی جا سکتے ہیں! افسوس کہ انہوں نے یا ان کے کسی ترجمان نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔

٭حالیہ تقریروں میں میاں نوازشریف نے عدلیہ کے علاوہ پاک فوج پر بھی مسلسل طنز کیا ہے مثلاً یہ کہ ''پنڈی'' کافیصلہ پورے ملک کا فیصلہ ہوتا ہے۔فوج کے بارے میں کچھ اور طنزیہ باتیں بھی ہیں۔ میں بڑے احترام کے ساتھ میاں صاحب سے پوچھناچاہتا ہوں کہ میاں صاحب آپ کو اور آپ کے سارے خاندان کو کو ن ساادارہ سیاست میں لایا اور خزانوں کامالک بنادیا؟ پھریہ بات جنرل ضیاء الحق نے کب اور کیوں کہی تھی کہ ''میری دعا ہے ، میری عمر بھی نواز شریف کو لگ جائے؟ ''( عجیب بات ہے کہ دعا فوراً قبول ہوگئی ایک طیارہ نیچے گرااور جس کے لیے دعا مانگی تھی وہ سب سے اونچے تخت پر جا بیٹھا)۔ویسے تاریخ بتاتی ہے کہ یہ معاملہ صرف شریف لوگوں کا ہی، ماضی میں کوئی بھی معروف سیاست دان فوج کے سایہ اور مدد سے محفوظ نہ رہ سکا۔ جمہوریت کے چیمپین ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کی ابتدا ہی جنرل ایوب خاں کے مارشل لاء کے وزیر کے طورپر کی۔ جنرل یحییٰ خاں کے وزیر خارجہ بنے اور پھردنیا کی تاریخ کا پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن کر حکومت شروع کی۔ ایوب خاں کے دور میں بحال ہونے والی سرکاری مسلم لیگ کے عبوری صدر مخدوم خلیق الزماں نے جنرل ایوب خاں کو تاحیات صدر بنوانے کی قرارداد پیش کی۔ جنرل یحییٰ خاں نے اپنا نیا آئین جاری کردیا جو ٹیلی پرنٹروں پر آدھا بھی نہیں آیا تھا کہ جماعت اسلامی کے امیر مولاناطفیل محمد نے اس کے اسلامی ہونے کا فتویٰ جاری کردیا مگر یہ آئین نصف حالت میں واپس لے لیاگیا۔ امیر جماعت اسلامی تو اس حد تک چلے گئے کہ ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران پہلی عید پر صحافیوں اور احباب کو عید کا رڈ بھیجا اس پر مشہورقرآنی آئت ''جاء الحق وزھق الباطل'' کے الفاظ اس انداز میں لکھے گئے کہ 'جاء الحق' کا لفظ واضح طورپر 'ضیاء الحق' پڑھاجاتا تھا۔بے نظیر بھٹو کو حکومت ہی چار شرطوں پر دی گئی کہ وزیر خارجہ فوج کا ہوگا۔ محترمہ کبھی کہوٹہ نہیں جائیں گی ، خود بخود جی ایچ کیو بھی نہیں جاسکیں گی نہ ہی جی ایچ کیو کے معاملات میں دخل دیں گی۔ اورپھر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ این آر او کس نے کیا؟ اس کے زیر سایہ شیخ رشید، خورشید محمود قصوری اور دوسرے سیاست دانوں نے فوجی آمریت پھیلانے میں کیا کردار ادا کیا۔ جگہ کم ہے اور یہ موضوع طویل مضمون کامتقاضی ہے۔ حیرت صرف یہ کہ جس فوج نے تخت پر بٹھایا اسی کے بارے میں نوازشریف طنزیہ شاعری پر اتر آئے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved