ٹھیک 70 سال پہلے قائداعظم نے روڈ میپ دے دیا تھا
  11  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں ڈررہا تھا کہ انتہائی اہم مسئلے یعنی نوجوانوں کی تربیت کے بارے میں کالم معلوم نہیں آپ کو اچھا بھی لگے گا کہ نہیں۔ لیکن پورے پاکستان سے بہت ہی حوصلہ افزا پیغامات ملے ہیں۔ عارف وال سے ایم ایوب لکھتے ہیں کہ بہت اچھا کیا آپ نے نئی نسل کو اصل راستہ دکھایا۔ بنوں سے نصراللہ صاحب نے شکوہ بھی کیا ہے کہ انہوں نے نیو ٹیک کا پروگرام کیا ہے مگر انہیں آج تک نوکری ملی نہ کسی نے انعام دیا۔شہداد پور سے عرفان کہتے ہیں کہ جو کام چیمہ صاحب کررہے ہیں قابل ستائش ہے۔ مگر یہ کام 8 ویں کلاس سے شروع کیا جائے تو بہتر ہے۔ کہ ہمارا نوجوان میٹرک پاس کرنے کے ساتھ ساتھ ہی ہنر مند بن کر ہائی اسکول سے فارغ ہو۔ اس طرح قوم کو کسی بھی شعبے سے وابستہ ہزار ہا تربیت یافتہ ہنر مند مل سکیں گے۔ میر پور آزاد کشمیر سے پروفیسر جویریہ یاسمین لکھتی ہیں آج صبح سویرے آپ کا کالم پڑھ کر مزا آگیا۔ جزاک اللہ۔ یقین کیجئے قوم کی اکثریت یہی دیکھنا اور پڑھنا چاہتی ہے۔ لیکن ان کو صرف مایوسی اور دکھ دینے والی باتیں بتائی جاتی ہیں۔ اللہ کرے قومی سطح پر چیمہ صاحب جیسے پاکستانی لیڈر ہمیں مل جائیں۔اس قوم میں بہت صلاحیتیں ہیں بس ایک درد مند لیڈر کی کمی ہے۔ یقین واثق ہے کہ اللہ ہمارے قائداعظم کی محنت کا ثمر ضرور دے گا۔ راجہ جمیل جونیر سائنس ٹیچر باغ آزاد کشمیر کو بھی یہ تحریر اچھی لگی ہے۔ مری سے فیصل عباسی بھی تربیت کورس قوم کی ضرورت کہہ رہے ہیں۔قوم کو مثبت امور کی طرف توجہ دلانے کا شکریہ۔ نوکوٹ سے لطف علی کلوئی کہتے ہیں۔ میں آپ کے خیال سے متفق ہوں۔ تربیت اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ خالد گجر قصور سے کہتے ہیں خوشی ہوئی کہ آپ نے ہمارے ملک کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے لکھا۔ ہالہ ابورد ڈاہری سے غلام رسول ڈاہری کو بھی نوجوانوں کے لیے یہ پروگرام اچھا لگا ہے۔ آپ سب حضرات و خواتین کا شکریہ۔ بہت سے پیغامات ہیں۔ مگر اپنام نام اور شہر نہیں لکھا۔ اس لیے شامل کرنے سے قاصر ہوں۔ آپ کے پیغامات ذوالفقار احمد چیمہ صاحب تک پہنچ جائیں گے۔ مجھے بھی یقین ہے کہ تبدیلی آئے گی۔ اور نوجوانوں کی تربیت سے آئے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ پاکستان کی 60 فی صد آبادی نوجوان ہے۔ مختلف ماہرین کے مطابق یہ تعداد 7 کروڑ سے 10 کروڑ کے درمیان بنتی ہے۔ آپ خود اندازہ کیجئے کہ جہاں 10 کروڑ توانا۔ چاق وچوبند نوجوان ہوں۔ اور انہیں تربیت مل جائے تو یہ ملک کسی سے پیچھے کیوں رہ سکتا ہے۔ آج 11 اگست ہے۔ آج سے 70 سال پہلے آج ہی کے دن بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی پہلی مجلس دستور ساز پاکستان کا صدر منتخب ہونے پر ایک تاریخی خطاب کیا تھا۔ اس تقریر کا ایک ایک لفظ پڑھنے اور عمل کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم جو بار بار کہتے ہیں۔ ہمیں قائداعظم کا پاکستان چاہیے۔ بہت سے پوچھتے ہیں کہ قائداعظم کا پاکستان کیسا ہونا چاہئے۔ اس تقریر میں آپ کو پورا روڈ میپ مل جاتا ہے۔آئین کی بنیاد اس میں واضح ہے۔ پاکستانی معاشرہ کیسا ہونا چاہئے۔ اس کے خطوط بھی متعین کردیئے گئے مگر قائداعظم کے بعد ان کے جانشینوں نے انہیں قابل توجہ ہی نہیں سمجھا۔ وہ قائداعظم کے مجاور بن کر تو بیٹھ گئے مگر ان کے خیالات سے قطعی طور پر گریز کیا۔ بہت سوں نے یہ کوشش کی کہ اس مخلص صاف گو۔ اور سچے لیڈر کو ایک مولانا بنا کر پیش کیا جائے۔ جو مذہب کا استعمال کرتے ہیں۔ مذہب کی اپنے الفاظ میں تشریح کرتے ہیں۔ اس تقریر پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ لیکن میں اس میں سے چیدہ چیدہ نکات آپ کے سامنے رکھوں گا۔ سب سے پہلے انہوں نے زور دیا۔ ''ایک حکومت کا پہلا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے۔ تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال اور ان کے مذہبی عقائد کو مکمل طور پر تحفظ دے سکے۔'' آپ بتائیں کہ ان 70 سال میں کوئی ایک حکومت بھی اس کسوٹی پر پورا اتری۔ دوسرا اہم نکتہ تھا۔ رشوت ستانی اور بدعنوانی۔ آج کل اسے کرپشن کہتے ہیں۔ 70 سال پہلے قائداعظم نے امید کی تھی کہ دستور ساز اسمبلی ان کا قلع قمع کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔ بتایئے کہ بانی ٔ پاکستان کی یہ خواہش اس اسمبلی یا بعد میں آنے والی اسمبلیوں نے پوری کی۔ قائداعظم کہتے ہیں۔ ایک اور بات جو فوری طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ ہے اقربا پروری اور احباب نوازی یہ بھی ہمیں ورثے میں ملی اور بہت سی اچھی بری چیزوں کے ساتھ یہ لعنت بھی ہمارے حصّے میں آئی۔ اس برائی کو بھی سختی سے کچلنا ہوگا۔'' قائداعظم صاحبِ بصیرت تھے۔ انہیں آنے والوں سے یہ خدشہ تھا۔ اس لیے اس کا برملا اظہار کیا۔ آج ان کی مسلم لیگ کے کرتا دھرتا اقربا پروری میں سب سے آگے ہیں۔ ایک بھائی وزیراعظم دوسرا وزیراعلی۔ سمدھی وزیر داخلہ خزانہ۔ بھانجے وزیر۔ نااہل قرار دے دیئے گئے۔ لیکن انداز وہی ہیں۔ دوسری پارٹیوں میں بھی یہی ہے۔ پارٹیاں ذاتی کاروباری کمپنیاں بن گئی ہیں۔ تقریر میں ہندوستان کی تقسیم۔ پنجاب اور بنگال کے بٹوارے سے متعلق بھی ذکر ہے۔ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ''اس تقسیم میں کسی ایک مملکت یا دوسری مملکت میں اقلیتوں کا وجود ناگزیر تھا۔ اس سے مفر نہیں تھا۔ اس کا بھی کوئی اور حل نہیں تھا۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ اگر ہم مملکت پاکستان کو خوش و خرم اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو ہمیں اپنی تمام تر توجہ عام انسانوں اور غریبوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز کردینی چاہئے۔ اس جذبے سے کام کریں کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ وہ اس ملک کا پہلا شہری ہے یا دوسرا یا آخری سب کے حقوق و مراعات اور فرائض مساوی ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ کس کا کس فرقے سے تعلق ہے۔ اور ماضی میں اس کے آپ کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات تھے۔ اور اس کا رنگ و نسل یا عقیدہ کیا ہے۔ تو آپ جس قدر ترقی کریں گے اس کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔'' کتنی واضح سوچ ہے۔ ایک مملکت کا کیا روشن تصور ہے۔ ایک زندہ اور فعال معاشرے کے خد و خال کتنی صراحت سے بتادیئے گئے ہیں۔ ایک کے بعد دوسری آنے والی حکومت اگر ان خطوط پر ہی معاشرے کی تشکیل کرتی۔ تو نہ مشرقی پاکستان جدا ہوتا۔ نہ ہم موجودہ پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ پرستی سے ہلاکتوں کا شکار ہوتے۔ اب اگرچہ سیاسی قیادتوں بلکہ مجموعی طور پر قیادت۔ چاہے وہ مذہبی ہو۔ سیاسی۔ اقتصادی۔ سماجی۔ علمی یا عسکری۔ سب اخلاقی بحران کا شکار ہیں رشوت ستانی بدعنوانی عروج پر ہیں۔ فرقہ پرستی پر شباب آیا ہوا ہے اقلیتوں کو مکمل تحفظ نہیں دے پارہے ہیں۔ غریبوں کی فلاح و بہبود نظر انداز کردی گئی ہے۔

اس کے باوجود میں مایوس نہیں ہوں۔ نہ ہمیں ناامید ہونا چاہیے۔ اللہ نے ہمیں جو ملک دیا ہے وہ بہت عظیم ہے۔ یہ اپنی جغرافیائی حیثیت۔ معدنی وسائل اور نوجوان اکثریت کے باعث دنیا کے بہت سے ممالک کی نسبت بہت طاقت ور ہے۔ اسے اچھی قیادتوں اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ یہ کام یونیورسٹیوں کو سنبھالنا چاہیے۔ وہ تحقیق سے ملک کے امکانات بنائیں۔ اور نوجوانوں کو تربیت دیں۔ کہ وہ ملک کو صحیح خطوط پر لے جاسکیں۔ کسی مسیحا کا انتظار نہ کریں۔ تربیت کی سب سے زیادہ ضرورت ہمارے سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کو ہے۔ نیو ٹیک ان کے لیے بھی کوئی کورسز شروع کرے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجیے: 0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved