چین بھارت سرحدی تنازعہ۔ چند حقائق
  12  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

گزشتہ چند ہفتوں سے چین بھارت سرحدی تنازعہ میڈیا پہ رپورٹ ہوتا رہاہے ۔ بعض حلقوں نے اِس تنازعے کو برصغیر میں ایک بڑی جنگ کا نقطئہ آغاز بھی قرار دے دیا ۔ خیر معاملہ اتنا بھی سنگین نہیں ۔بھار ت کے اکسانے پہ چین کا کسی ایسی جنگ میں کود جانا بعید ازقیاس ہے کہ جس کا تمام فائدہ امریکہ کو پہنچے ۔اگر چہ اس سرحدی تنازعے کی بنیادپہ روایتی یا محدود پیمانے کی جنگ چھڑنے کا امکان نہیں لیکن خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اس طرح کے واقعات کو غیر سنجیدگی سے قطعاََ نہیں لیا جاسکتا ۔ دنیا کی واحد 'سُپر پاور ' ہونے کے زعم میں مبتلا امریکہ بہادر نے وسیع پیمانے پہ عدم استحکام پھیلانے والے ایسے کئی اقدامات کئے ہیں جن کا خمیازہ اِس خطے میں بسنے والے تمام ممالک بھگتتے رہیں گے۔اوبامہ دور میں پیسفک ٹریڈ معاہدے کی آڑ میں جاپان اور ہندوستان کو بالترتیب بحیرہ ہند میں 'پولیس مین ' کا رول عطا کرکے چین کو جارحانہ پیغام دیا گیا تھا ۔ افغانستان میں گزشتہ سولہ برسوں میں امن کے نام پہ خوں ریزی اور تقسیم درتقسیم کی پالیسی نے پاکستان ، وسطی ایشیائی ریاستوں ، روس اور چین کے معاشی اور سیاسی مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔آج مسئلہ کشمیر کو محض پاک بھارت تنازعے کے طور نہیں دیکھا جاسکتا ۔آپ کو یہ جان کے حیر ت نہیں ہونی چاہئے کہ امریکہ اور چین بھی بالواسطہ اِس مسئلے پہ فریق کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ۔کشمیری حریت پسند قیادت کو '' عالمی دہشت گرد'' قرار دے کے امریکہ نے بھارت کے غاصبانہ قبضے اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کو جائز قرار دے دیا ہے ۔چین کا مئو قف اِس سے بالکل مختلف ہے ۔

اقتصادی راہداری پہ بھارت کی جانب سے کیا جانے والا پہلا اعتراض ہی یہ تھا کہ یہ تجارتی گزرگاہ اُس متنازعہ علاقے سے گزرے گی جو درحقیقت ہندوستان کا حصہ ہے ۔ مسئلہ کشمیر کی اک پیچیدہ جہت یہ بھی ہے کہ ہمارے شمالی علاقہ جات گلگت و بلتستان بشمول سیاچن گلئیشرکے علاوہ بھار ت میں واقع لداخ کے پہاڑی سلسلے بھی متنازعہ علاقوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ معاملہ محض لداخ تک محدود نہیں ۔ بھارت'اکسائی چن' کے علاقے پہ بھی دعوے دار ہے ۔ اکسائی چن اس وقت چین کا حصہ ہے۔ 1962-63 ء میں طے پانے والے پاک چین سرحدی معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اِس خطے میں سرحدوں کے متعلق پائے جانے والے ابہام کو پرامن طریقے سے طے کرلیا تھا ۔بھارت کو اس معاہدے پہ اعتراض رہاہے اور وہ چین کے زیر انتظام لداخ اور اکسائی چن کے علاقوں کا دعوے دار ہے ۔معاملہ یہیں پہ ختم نہیں ہوتا ۔ تبت کے معاملے پہ بھارت کا سازشی مئو قف اور' دلائی لامہ' کی کھلم کھلا پشت پناہی کوئی راز کی بات نہیں ۔یہاںیہ امر نہایت قابل غور ہے کہ تبت کے وسیع وعریض علاقے کا ایک حصہ اکسائی چن سے ملحق ہے ۔ یہ وہی علاقہ ہے جس پہ قبضے کی کوشش میں بھارت چین کے ہاتھوں 1962ء کی جنگ میں ہزیمت اُٹھا چکا ہے ۔ حالیہ بھارت چین سرحدی تنازعہ کو بہتر انداز میں سمجھنے کیلئے درج بالا حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے کچھ اہم نکات پہ غور کرنا بے حد ضروری ہے ۔ اول ، ڈوکلام کا علاقہ دراصل چین اور بھوٹان کا دو طرفہ سرحدی معاملہ ہے ۔ بھارت اِس معاملے میں تیسرے فریق کی حیثیت سے ٹانگ اڑارہاہے ۔ دوئم ، جس سڑک کی تعمیر پہ بھارت نے اعتراض اُٹھایا ہے وہ مستقبل میں تبت کے ذریعے اکسائی چن سے زمینی رابطہ استوار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔سوئم ، ڈوکلام پہ سڑک کی تعمیر سے چین اُن بلند وبالا علاقوں تک رسائی حاصل کرلے گا۔جو شمال مشرقی علاقوں میں تعینات بھارتی افواج پہ نظر رکھنے اور حربی برتری دلانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔واضح رہے کہ شمالی مشرقی بھارت میں آسام ، اور ناگا لینڈ سمیت بیشتر علاقوں میں علیحدگی کی تحریکیں جاری ہیں۔ چہارم ، بھارتی صحافی روہت واتس کے مضمون (Truth mapped out -India can not afford to have China controling Dokalam plateau) کے مطابق چین سے سرحدی تنازعہ میں الجھنے والی بھارتی فوج کا کیمپ بھوٹان میں واقع ہے ۔ مصنف نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ڈوکلام چین کے زیر انتظام وادی چمبی، بھوٹان اور بھارت کے زیر انتظام سکم کے سرحدی علاقوں کی واضح حدبندی ظاہر کرنے والا کوئی نقشہ دستیاب نہیں ۔خود مصنف نے اپنے مئوقف کو ثابت کرنے کیلئے گوگل میپ اور سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر پہ اپنی من مانی لکیریں کھینچ کے بھارتی مئوقف کو بیان کیا ہے ۔اس معاملے میں دو باتیں نہایت قابل غور ہیں ۔ اول ، بھارت کی افوج بھوٹان کے علاقے میں کیمپ قائم کئے ہوئے ہیں ۔ دوئم ، سرحدی تقسیم کو ظاہر کرنے والا کوئی مستند نقشہ دستیاب نہیں ۔ خطے میں جاری کشمکش کو سمجھنے کیلئے اِس تاریخی حقیقت کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ برصغیر پہ برٹش راج کے دوران کئی مرتبہ چین کے علاقوں پہ قبضہ کیا گیا ۔اِ س روِش سے جنم لینے والے سرحدی تنازعات کوسلجھانے کیلئے 1846 ء سے 1947 ء تک کئی مرتبہ دو طرفہ کاوشیں ہوئیں ۔ جن کے نتیجے میں حدبندی کیلئے جانسن لائن ،میکارٹنی۔ میکڈونلڈلائن اور میک موہن لائن کو اختیار کیا جاتا رہا ۔ 1947 ء میں برطانیہ تو رخصت ہوگیا لیکن اُس کے چھوڑے ہوئے سرحدی تنازعات اور توسیع پسندی کی پالیسی کو نہرو نے گلے لگالیا ۔نہروں نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو جس منفی ڈگر پہ ڈالاآج پورا خطہ اُس کا خمیازہ بھگت رہاہے ۔گرداسپور ، حیدر آباد دکن اور مونا بائو کی صورت ریڈکلف ایوارڈ پہ پاکستان سے ہونے والی ناانصافی کا ذکر فی الحال تقاضائے اختصار سمجھ کے چھوڑ دیتے ہیں ۔ روہت واتس نے انجانے میں مستند نقشوں کی عدم دستیابی کا اعتراف کیا ہے۔ بھارتی عیاری کی حقیقت جاننے کیلئے سابق بھارتی سفارتکار اور معروف دانشور اے جی نورانی کی کتاب (India China Border Disputes 1846-1947 -Histroy and diplomacy) پڑھ لیجئے ،۔ مصنف نے انکشاف کیا ہے کہ نہرو نے 24 مارچ 1954ء کو تمام مستند نقشے جلاکے ایک جعلی سرحدی لائن گھڑکے نئے نقشے شائع کروائے جو کہ پڑوسی ریاستوں پہ بھارت کے ناجائز دعوئوں کو تقویت بخشتے تھے ۔مسئلہ کشمیر پہ ہونے والی جنگیں اور آج خطے میں جاری عالمی رسہ کشی نے اسی توسیع پسندانہ روش کے بطن سے جنم لیا ہے۔ ۔ ڈیور نڈ لائن کو متنازعہ بنانے کیلئے نہرو کی سازشانہ سرپرستی کی عمر قیام پاکستان کے برابرہے ۔چین کیساتھ تبت ، لداخ ، اکسائی چن اور بھوٹان کے علاقوں میں فوجی اور سفارتی مداخلت ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔واضح رہے کہ چھوٹے پڑوسی ممالک سری لنکا اور بھوٹان پہ بھارتی تسلط قائم کرنے کی پالیسی بھی نہرو کی توسیع پسندانہ زہنیت کا شاخسانہ تھی ۔ دو برس قبل بھارتی ناکہ بندی کے خلاف نیپال اقوام متحدہ میں شکایت درج کروانے پہ مجبور ہوگیا تھا۔2013ء میں بھارتی تسلط کو چیلنج کرنے کے جرم میں بھوٹان کے وزیر اعظم جگمے تھنلے کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے جس کا سہرا 'را'کے سر باندھا جاتا رہاہے ۔ ایک حقیقت روزِ روشن کی طر ح عیاں ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے خار دار درخت کی جڑیں کشمیر ،افغانستان ، بھوٹان ، بحیرہ ہند اور بحیرہ پیسفیک تک پھیلی ہیں ۔ بھارت اور امریکہ اِس کانٹے دار درخت کو معصوم انسانوں کے خون سے پروان چڑھا رہے ہیں ۔ افغانستان اور کشمیرکے کٹھ پتلی حکمرانوں کی سرپرستی کرکے مقامی آبادی کو دہشت گرد قرار دینے کی روش اور توسیع پسندی کے جنون نے ہمارے خطے کو ایک آتش فشاں میں تبدیل کردیا ہے ۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کشمیر ، افغانستان اور پاک چین سرحدی تنازعات پہ عقل و دانش کے گھوڑے دوڑانے والے '' نیم دانشور'' صحافی عموماََ اِن حقائق سے لاعلم ہونے کے علاوہ تحقیق اور مطالعے کے بجائے تنقید اور دشنام طرازی پہ انحصار کرتے ہیں ۔ کمال یہ ہے کہ اُن کی تنقید کے تیر عموماََ بچارے پاکستان پہ ہی برستے ہیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved