''سالگرہ''
  12  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

آج میرے پاکستان کی ٠٧ ویں سالگرہ ہے،مجھے اس کی دوستی پر فخر ہے۔جب میں اس کے ہمراہ ہوتا ہوں تو مجھے ایک گونہ اطمینان ہوتا ہے۔پاکستان کی ایک بد قسمتی یہ بھی رہی ہے کہ اس کو جو ساتھی ملے،اس کے خلوص، اس کی محبت،اس کی ہمدردی،اس کی وسیع القلبی کا بے جا استعمال کرتے رہے۔پاکستان یہ سب چکر سمجھتا تھامگر اپنی طبعی شرافت کی وجہ سے اس نے یہ سارے معاملات اللہ پر چھوڑ رکھے تھے۔جب میں اپنے گھر سے باہر نکلاتو میں نے جگہ جگہ اجتماعات دیکھے جس میں مقرر حضرات پاکستان سے اپنی دوستی اور محبت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رطب اللسان تھے۔میں ایک جلسے سے دوسرے پھر دوسرے سے تیسرے میں پاکستان کو تلاش کرتا رہامگر ایسا لگتا تھا کہ شائد وہ اپنی اس ٠٧ ویں سالگرہ کی تیاریوںمیں نہ تو شریک ہونا چاہتا ہے اور نہ دوسروں کی شرکت پراسے کوئی خوشی ہورہی ہے۔ ان پریشان کن خیالات کو لیکر میں نے گلی گلی اس کو ڈھونڈنا شروع کیا ،جیسے جیسے میری تلاش بڑھتی گئی ،میری امید کمزور پڑتی گئی اور وقت بھی تنگ ہوتا چلا گیا۔مجھے یہ بھی فکر لاحق تھی کہ شام کو میرے پوتوں نے بھی پاکستان سے مل کر مبارکباد دینا تھی،اگر مجھے پاکستان نہ ملا تو میں ان کو کیا جواب دوں گا،ویسے بھی بچے پاکستان سے میری دوستی کو ایک خواب ہی سمجھے تھے اور میں نے بڑے وثوق سے ان کو یقین دلایا تھا کہ میں تم کو بتاؤں گا کہ میں اور پاکستان کتنے اچھے دوست اور ساتھی ہیں۔اچانک خیال آیاکہ پاکستان جب گھبراتا ہے یا کسی بات پر اس کو صدمہ ہوتا ہے تو وہ ایک ہی جگہ ملتا ہے۔یہ خیال آتے ہی میں الٹے پاؤں بھاگتا ہوا گھر آیااور اپنے پوتوں کو ساتھ لیکر قائد اعظم کے مزار کی طرف روانہ ہو گیا۔بابائے قوم کے مزار کے احاطے میں آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پاکستان بابا کی قبر سے لپٹا ہچکیاں لے رہا ہے۔ قدموں کی آہٹ پر پاکستان نے اپنا چہرہ قبر سے الگ کیااور اپنی سوجھی ہوئی آنکھوں سے میری طرف لپکا۔میں نے بے اختیاری میں اپنے ہاتھ پھیلائے،بغل گیر ہوتے ہی میں نے کہا کہ پاکستان تم اپنی سالگرہ کے جلسوں میں کیوں نہیں تھے؟اس نے مجھے فوراًاپنے سے الگ کرتے ہوئے ایک ہاتھ سے میرا کندھا پکڑکر زور سے جھٹکا دیا کہ تم بھی مجھے یہی کہنے کیلئے آئے ہو؟کیا کوئی اپنی سالگرہ اس منافقت سے منا سکتا ہے؟میں نے کہا کہ میں تمہاری بات نہیں سمجھا ،اس پر پاکستان نے مجھے یہ کہا کہ کیا مجھے میرے باپ نے اسی لئے جنم دیا تھا کہ میری جنم بھومی عروس البلادمیں ٹارگٹ کلنگ،بھتہ خوری،لینڈمافیا،قتل و غارتگری ،رشوت،چوربازاری اورغنڈہ گردی کوختم کرنے کیلئے پچھلے تین سالوں سے مسلسل میرے بچے دن رات اپنی جانوں کی قربانیاں دیکراس کاامن واپس لانے کیلئے کوشاں ہیںتوہزاروں میل دوربرطانیہ میںبیٹھااسی شہرکاایک مفرورپہلے تومیرے وجودکودشمن کی سرزمین پرمجھے تاریخ کی ایک بڑی غلطی قراردیتارہااور اب توثابت بھی ہوگیاکہ وہ میرے وجودمسعودکوختم کرنے کیلئے باقاعدہ میرے ازلی دشمن سے مالی مددکے علاوہ اپنے کارکنوں کودہشتگردی کی تربیت بھی دلوارہاہے۔دکھ تواس بات کاہے کہ میں تو تمہیں باوقار انداز میں آزاد کروا کے گیا تھا،مگریہ ناہنجارمیری تصویر کو اپنی پشت پر لٹکا کر میرے سامنے میری غیرت کو سرِ عام نیلام کرنے کیلئے کوشاں ہے اورتم سب منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر کسی مصلحت کی بناء پر اف تک نہ کرو ،حتیٰ کہ اب باقاعدہ دنیاکے ٥٥ممالک کوبشمول بھارت کومددکیلئے پکاررہاہے؟ میں جب ایک سال اور کچھ دن کا تھا تو مجھ سے میرے بابا بچھڑ گئے،اس یتیم کو پالنے کیلئے میرے چچاؤں نے بھرپور کردار ادا کیا اور آہستہ آہستہ وہ لوگ بھی مجھ سے بچھڑ گئے۔ایک پھوپھی تھی جو میری غمخوار اور ہمدرد تھی،باپ کی کمی جب مجھے محسوس ہوتی تو میں ان کی گود میں سر رکھ دیتا اور بے انتہا سکون پاتا۔افسوس وہ بھی مجھ سے جدا ہو گئیں،میں غیروں کے رحم و کرم پر آگیا،جو چچا اور رشتہ دار کروڑ پتی ،نواب ،صاحبِ حیثیت تھے،انہوں نے اپنا تمام دھن مجھ پرلٹادیا اور مرتے وقت ان کی زبان سے میرے لئے دعائے خیر کے کلمات ہی نکلے کہ اے اللہ!پاکستان کی حفاظت کرنا(آمین)۔اب تم خود ہی بتاؤکیا وہ لوگ عظیم تھے جنہوںنے ایک یتیم کی پرورش کرنے کیلئے اپنی جان و مال داؤ پر لگا دیئے یا وہ لوگ عظیم ہیں جو میری جائیداد،میری دولت کو لوٹتے رہے اور اپنے ناموں اور اپنی اولادوں کے نام منتقل کرتے رہے اور پھر ڈھٹائی دیکھو کہ اس یتیم کو بجائے سنوارنے اور بنانے کے ایک بازو سے بھی محروم کر دیااور پھر بھی میری محبت کا جھوٹا دم بھرتے ہیں۔اب تم خود ہی بتاؤ کیا میں ان کی محفلوں میں شریک ہو سکتا ہوں؟

میں نے کہا دیکھو میرے ساتھ میرے پوتے بھی آئے ہیںاور میں بڑے فخر سے اپنی اور تمہاری دوستی کے متعلق بتاتا ہوں تو یہ مانتے نہیں۔پاکستان نے میرے پوتوںکو گلے لگایااور کہااے بچو!تمہارے اور تمہارے دادا جیسے لوگ مجھ سے بے غرض محبت کرتے ہیںاور انہی جیسے لوگوں کی وجہ سے میں اب تک مملکتِ خداداد ہوں ورنہ اپنوں کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو کر کب کا ختم ہو گیا ہوتا۔مجھے آج بھی یاد ہے جب تمہارا باپ میرا ایک بازو کٹ جانے کی خبر سن کر زمین پر گرگیا تھا تو اس کے سر پر ایک چوٹ آئی تھی تو میرے ہی دوسرے سلامت مگر زخمی ہاتھ نے اس کو سہارا دیکر زمین سے اٹھایااور اس کے زخم پر اپنی محبت کا مرہم رکھااور یہ احساس اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی کیلئے زندگی جیسی قیمتی چیز بھی قربان کرد ی جائے۔ وہ لوگ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں جو ایمانداری،وفاداری اور خلوص کے ساتھ میری خدمت میں لگے ہوئے ہیںاور کسی قسم کا صلہ نہیں چاہتے۔ (جاری ہے)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved