نجی چینل اور پاکستانی لڑکیوں کا مقابلہ حسن
  12  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بعض نجی چینلز نے فحاشی و عریانی… بے حیائی و بے غیرتی کو عام کرکے نئی نسل کو گمراہ کرنے کا راستہ اختیار کرکے شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے … یہود و ہنود اور نصاریٰ… دجالی چینلز کے ذریعے نوجوان نسل کو بے حیائی کے سمندر میں غرق کرنے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں… اس حوالے سے ایک معاصر اخبار میں چھپنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی مقابلہ حسن کی طرز پر مس پاکستان2017 ء کے انتخاب کیلئے باقاعدہ پروگرام شروع کر دیئے ہیں …اس ضمن میں پاکستانی لڑکیوں کو مقابلہ حسن کیلئے دبئی لے جایا جارہا ہے … واضح رہے کہ اس حوالے سے ''ہم'' ٹی وی چینل سے کئی پروگرام ہوچکے ہیں۔ ''مس ویٹ کریم'' کے عنوان سے مقابلہ حسن پروگرام کی اسپانسر ویٹ کریم بنانے والی کمپنی ہے جبکہ ''ہم'' ٹی وی سے یہ پروگرام ٹیلی کاسٹ کرنے کیلئے ملک بھر کے مختلف شہروں میں فیشن شو منعقد بھی کئے جارہے ہیں جن کی تشہیر ''ہم'' ٹی وی کے ذریعے ہوتی ہے … ان شوز میں شرکت کرنے والی لڑکیاں شارٹ لسٹ کی جاتی ہیں جنہیں بعد میں ''ہم'' ٹی وی اور ویٹ کریم کمپنی کے تعاون اور اخراجا ت سے دبئی لے جایا جاتا ہے جہاں مس ویٹ پاکستان نامی پروگرام کی ریکارڈنگ ہوتی ہے اس سلسلے کے آخری پروگرام میں مس ویٹ پاکستان کا انتخاب کیا جائے گا ۔

اس سلسلے میں سینئر قانون دان طارق اسد ایڈووکیٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی ہے انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ''ہم'' ٹی وی سے ریلیز ہونے والے فحاشی' بے حیائی اور لڑکیوںکو بغاوت پر اکسانے والے پروگرام مس ویٹ پاکستان کو فوری طور پر بند کیا جائے …سینئر قانون دان طارق اسد ایڈووکیٹ نے جمعہ کی صبح اس خاکسار نے اس حوالے سے تفصیلی گفتگو کی … جناب طارق اسد کا کہنا تھا کہ ''گزشتہ سال2016 ء میں بھی ''ہم'' ٹی وی نے ''مس ویٹ پاکستان'' کا انتخاب کیا تھا… اس مرتبہ چینل کی انتظامیہ نے اپنا دائرہ زیادہ وسیع کیا ہے اور کالجز' یونیورسٹیز کی طالبات کے موبائل نمبر لے کر انہیں ایس ایم ایس کیے ہیں … اسی طرح کا ایک ایس ایم ایس میری بیٹی کو بھی ملا جو ڈاکٹر ہے اور ماشاء اللہ تین بچوں کی ماں ہے۔ اس ایس ایم ایس میں کہا گیا ہے کہ آپ مس ویٹ پاکستان کے پروگرام میں دلچسپی لیں … اگر ممکن ہو تو حصہ لیں اس سے آپ میں اعتماد آئے گا اور آپ اس معاشرے میں مردوں کے شانہ بشانہ آگے بڑھ سکیں گی … ان کا کہنا تھا کہ ''میں یہ پروگرام کئی ہفتوں سے باقاعدگی سے محض اس لئے دیکھ رہا ہوں کہ سمجھ سکوں کہ اس کے مقاصد کیا ہیں اور اس کے ہمارے اسلامی معاشرے پر کیا اثرات ہوں گے…میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آل انڈیا راشٹریہ سیوک سنگ کے صدر پلراج بتھوک نے جو کہا تھا کہ پاکستان کے معاشرے کو ''انڈیانائز'' کر دو… اور پاکستان اور بھارت کے معاشرے کے درمیان جو فرق ہے وہ ختم کر دو' اسی کے مطابق یہ کام ہو رہا ہے … نوجوان بچیوں اور لڑکیوں کو اعتماد دینے کے نام پر نہ صرف بے حیائی اور فحاشی کو رواج دیا جارہا ہے …بلکہ لڑکیوں کو اپنے والدین اور مذہبی معاشرے سے بغاوت پر بھی اکسایا جارہا ہے… یہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک اور اسلامی معاشرے کی جڑیں کھودنے اور اسے مادر پدر آزاد معاشرنے کی کوشش ہے جس پر یقینا کروڑوں روپے بے دریغ خرچ کیے جارہے ہیں''… طار ق اسد ایڈووکیٹ کے مطابق انہوں نے اپنی رٹ میں معزز عدالت کی توجہ اس جانب بھی دلائی ہے کہ پروگرام کے دوران لغو اور بے ہودہ گفتگو کی جاتی ہے اور ویٹ کریم کے ایسے فوائد گنوائے جاتے ہیں کہ جن کا مقصد جنسی خواہشات کو بڑھاوا دینا اور بے راہ روی کو فروغ دینا ہوتا ہے… انہوں نے معزز عدالت سے استدعا کی ہے کہ ''مس ویٹ پاکستان'' نامی اس پروگرام کو فوری طور پر بند کرایا جائے… ان کا کہنا تھا کہ ''میں نے سیکرٹری وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات اور پیمرا کو اپنی رٹ میں فریق بنایا ہے اور عدالت سے درخواست کی ہے کہ انہیں حکم دے کہ ''ہم'' ٹی وی کا یہ پروگرام بند کرایا جائے''… اسدایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں بعض طلبا تنظیمیں بھی بے حیائی' عریانی اور فحاشی پھیلانے والے اس پروگرام کو بند کرانے کیلئے پرامن احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی ہیں اس سلسلے میں انہیں میری رٹ پر معزز عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے… اگر یہ پروگرام اسی طرح جاری رہا اور حکومت پاکستان نے اس جانب توجہ نہ دی تو میں خود ان طلبا کی رہنمائی کیلئے دستیاب ہوں گا… انہوں نے کہ پس پردہ اس پروگرام کا مقصد آر ایس ایس کی سورچ اور ارادوں کو پروان چڑھانا ہے… انہوں نے کہا چند سال پہلے کانگریس آئی کی صدر سونیا گاندھی نے بھی اسی طرح کی رائے کا اظہار تھا …کہ ہم اپنی ثقافت پاکستانی معاشرے پر تھوپ دیں گے… اب شاید پاکستان کے دشمنوں کو ایسے ایجنٹ میسر آگئے ہیں جو ان کے ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں … لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے اور نہ پاکستان کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے … انہوں نے آئین پاکستان کی متعدد شقوں کا حوالہ دے کر عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس پروگرام کو بند کرایا جائے …جو پاکستان کے آئین کا بھی منہ چڑا رہا ہے اور ہماری اسلامی تعلیمات کے بھی یکسر منافی ہے ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved