دینی مدارس کو غیر موثر بنانے کی مہم، ناظم اعلی کے تاثرات
  12  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) علما کرام اور اہل دین کو اپنی جدوجہد کا اصل ہدف او رموجودہ عالمی کشمکش کا بنیادی نکتہ سمجھنا چاہیے۔ 1961 کے دوران جامعہ خیر المدارس ملتان میں وفاق المدارس کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں حضرت علامہ شمس الحق افغانی نے ارشاد فرمایا تھا کہ آئندہ دینی حلقوں کا مقابلہ مسیحیت، یہودیت اور دیگر مذاہب سے نہیں بلکہ مغربیت سے ہوگا اور علما کرام کو اس کی تیاری کرنی چاہیے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملت اسلامیہ کا مقابلہ مذاہب سے نہیں بلکہ مغربی فکر و فلسفہ سے ہے۔ اور مغربی فکر و فلسفہ، جس کی بنیاد کسی مذہب پر نہیں بلکہ مذاہب کی نفی پر ہے، اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف صف آرا ہے اور پوری دنیا میں اسلامی تہذیب و ثقافت کو ختم کرنے اور اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کا راستہ روکنے کے لیے برسر پیکار ہے۔ مثال کے طور پر مغرب کا تقاضہ ہے کہ مرد کی مرد کے ساتھ شادی کو قانونا تسلیم کیا جائے جو کسی بھی مذہب میں جائز نہیں ہے۔ اسی طرح مغرب یہ کہتا ہے کہ مرد اور عورت کے شادی کے بغیر اکٹھا رہنے کو ان کا حق تسلیم کیا جائے جس کی کسی بھی مذہب میں اجازت نہیں ہے۔ اس لیے بنیادی طور پر یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اس وقت ہمارا مقابلہ مذاہب کے ساتھ نہیں بلکہ مغربی فلسفہ اور نظام حیات سے ہے، چنانچہ ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی علمی و عملی محنت کو اس دائرے میں منظم کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ مغربیت صرف مغرب میں نہیں بلکہ دنیا میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے اور عالم اسلام اور پاکستان میں بھی یہ ذہن اور اس کے لیے محنت موجود ہے، اس لیے مغربیت کو علاقائی حوالہ سے نہیں بلکہ فکر و فلسفہ اور نظام زندگی کے طور پر دیکھنا چاہیے اور ہمیں اپنے حلقوں میں بھی اس کے اثرات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس وقت پوری دنیا میں مذہبی تعلیمات اور احکام و قوانین کے نفاذ و فروغ کی بات ہمارے دینی مدارس کر رہے ہیں، اس لیے وہی مغربی فلسفہ و نظام کے علمبرداروں کا سب سے بڑا ہدف اور نشانہ ہیں۔ دوسرے مذاہب مثلا مسیحیت اور یہودیت کی مذہبی قیادتیں مغربی فلسفہ کے سامنے سپر اندز ہو چکی ہیں اور اس کے مقابلہ میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہیں، اس لیے دوسرے مذاہب کے مذہبی حلقوں سے مغربیت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جبکہ اسلامی دینی مدارس اور مسلمانوں کے مذہبی حلقوں نے اس فلسفہ کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور وہ اس کے مقابلہ میں پوری طرح ڈٹے ہوئے ہیں، چنانچہ وہی سب سے زیادہ نشانہ پر ہیں اور انہیں ختم یا محدود کرنے کے لیے ہر سطح پر سازشیں جاری ہیں۔ اس سلسلہ میں ہمارے ملک کی حکمران کلاس کی حالت سب سے زیادہ قابل رحم ہے کہ انہیں خود کچھ پتہ نہیں ہوتا، عالمی اداروں کی طرف سے جو حکم ملتا ہے وہ سوچے سمجھے بغیر اس کی طرف چل پڑتی ہے۔ لیکن جب ان کے ساتھ میز پر دلیل او رمنطق کے ساتھ بات کی جائے تو خود ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی اور مذاکرات کی میز پر وہ ہر بار لاجواب ہوتے ہیں۔ ابھی حال میں ہی بعض قبائلی علاقوں میں یہ آرڈر جاری کیا گیا کہ کوئی طالب علم دینی تعلیم کے حصول کے لیے اپنی تحصیل سے باہر نہیں جا سکتا۔ ہم نے ان سے بات کی کہ ملک کا دستور کہتا ہے کہ پاکستان کا شناختی کارڈ رکھنے والا کوئی بھی شخص ملک کے کسی بھی حصے میں جا سکتا ہے اور رہائش، کاروبار اور تعلیم وغیرہ میں مصروف ہو سکتا ہے۔ جبکہ صاحب حیثیت خاندانوں کے بچے تو دوسرے ملکوں میں جا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کو ملک کے اندر ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں جانے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ یہ تو ملک کے دستور و قانون اور انسانی حقوق کے منافی ہے۔ یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی اور یہ آرڈر واپس لے لیا گیا۔ پھر مدارس کے چندوں کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے، کہا جا رہا ہے کہ سرکاری اجازت کے بغیر قربانی کی کھالیں جمع نہ کی جائیں، حالانکہ یہ قانون صرف کالعدم تنظیموں کے لیے ہے جس کا اطلاق کسی جواز کے بغیر دینی مدارس پر کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح پنجاب میں یہ قانون لانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سرکاری اجازت کے بغیر کوئی مدرسہ زکو و صدقات وصول نہیں کر سکے گا۔ یہ قطعی طور پر غلط اور ناقابل قبول ہے۔ زکو ہمارے دینی فرائض میں سے ہے اور اس میں قدغنیں لگانا دینی فرائض کی ادائیگی میں مداخلت کرنا ہے۔ کل یہ کہہ دیا جائے گا کہ نماز پڑھنے کے لیے بھی کسی سرکاری محکمے سے این او سی لیا جائے۔ نماز اور زکوٰة دین میں ایک جیسے فرائض ہیں اور کسی دینی فرض میں کسی قسم کی رکاوٹ اور پابندی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

ایک اور بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ آج دنیا میں کسی بھی جدوجہد کا سب سے بڑا ہتھیار علم، دلیل اور عوامی رابطہ ہوتا ہے۔ آج مسلح جدوجہد کا دور نہیں ہے اس لیے علما کرام اور دینی کارکنوں کو علم میں مضبوطی پیدا کرنی چاہیے، مطالعہ اور تحقیق کا ذوق بڑھانا چاہیے، دلیل کے ساتھ بات کرنے اور منوانے کا فن سیکھنا چاہیے اور عوام کے ساتھ رابطہ کو وسیع تر کرنا چاہیے۔ آج کے دور میں موثر ہتھیار یہی ہیں جن کو پوری مہارت کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے حکمرانوں سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ دلیل، علم اور منطق کی بات سمجھیں گے اور ایسے اقدامات سے گریز کریں گے جو دینی حلقوں کو احتجاج و مزاحمت کے راستے پر ڈالنے کا باعث بن جائے۔ ہم پر امن طریقہ سے جدوجہد کر رہے ہیں مگر ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم احتجاج اور مزاحمت کے ہتھیاروں کا استعمال بھی اچھی طرح جانتے ہیں، ہمیں یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہ کیا جائے اور ہمارے موقف اور مطالبات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جائے۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کے پرمغز خطاب کے بعد حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد دامت برکاتہم کی پرسوز دعا کے ساتھ یہ کنونشن اختتام پذیر ہوا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved