کھلی توہین عدالت!
  12  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭کالم لکھتے وقت تیسرا اورسابق وزیراعظم کی ریلی کا آج چوتھا دن ہے۔ شاہی سواری ابھی رستے میں ہے۔ کبھی چیونٹی کی چال کبھی140 کلومیٹر کی برق رفتاری! لاہور میں اس تاریخی سواری کو آج چار بجے بعد دوپہر داتا دربار پہنچنا ہے۔ تاخیر بھی ہوسکتی ہے مگر لاہور میں جمعہ کے روز ہی داتا دربار کے اطراف میں جانے والے راستوں پر کنٹینر کھڑے کردیئے گئے اور شہر کی فضا میں کبوتروں کی طرح خاص قسم کے ہیلی کاپٹر وقفہ وقفہ سے اُڑ رہے ہیں ۔ محکمہ بجلی نے شکائت کی ہے کہ لاہور تک بے حد طویل راستے پر بیسیوں استقبالی کیمپوں میں بجلی چور ی کی جارہی ہے۔ محکمہ کا کوئی اہلکاردکھائی نہیں دے رہا۔کیسے دکھائی دے گا؟ حکومت اپنی، خزانے اپنے، محکمہ بجلی ایک ماتحت ادارہ ! وسیع پیمانہ پر اس چوری سے لاکھوں لوگ لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں، پہلے کو ن سا آرام سے رہ رہے ہیں۔اسلام آباد سے لاہور میں واپس آنے والے ''پردیسی'' کی حفاظت کے لیے لاہور کے ہزاروں پولیس اہلکاروں، ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس ' ہنگامی ریپڈ فورس اور ہزاروں وارڈنوں کی نفری کم پڑگئی ہے اور اب پنجاب کا نسٹیبلری کے علاوہ ملتان وہاڑی،خانیوال اور دوسرے اضلاع سے بھی پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی ہے۔ لاہور میں دوسرے اضلاع سے آنے والے ہزاروں اہلکاروں کی ٹرانسپورٹ، لاہورمیں قیام و طعام وغیرہ کے لاکھوں روپے کے اخراجات کو ٹی ایم پی اے، ایم این اے یا این جی او نہیں دے گی، اسلام آباد سے لاہور تک سڑک کے چپے چپے پر پولیس وغیرہ کھڑی کرنے کے لاکھوں کے اخراجات صوبائی حکومت برداشت کررہی ہے، کوئی پوچھنے والانہیں۔ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی رفیق خاص ہے اور وفاقی حکومت نے جن آنسوؤں کے ساتھ اپنے پردیسی مہمان کو رخصت کیا ہے، اس سے اس کی وفاقیت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔اور جوں جوں سفر میں اور استقبال کے لیے آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے ،سابق وزیراعظم کی سپریم کورٹ کے بارے میں زبان و بیان میں تندو تیز تلخی ، توہین عدالت کی ساری حدیں عبور کرتی جارہی ہے۔سفر کے گزرنے والے ہر لمحے کے ساتھ توہین عدالت کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس بارے میں فوجداری ضابطوں کے علاوہ آئین پاکستان میں مختلف مقامات پر واضح تصریح کردی گئی ہے۔ دفعہ(H)63 کہہ رہی ہے کہ ''ایساشخص کسی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل ہوگا جو کسی ایسے طریقے پر عمل کررہا ہو جو پاکستان کی عدلیہ کی دیانت داری یا آزادی کے لیے مضر ہو، یا جو پاکستان کی مسلح افواج یا عدلیہ کو بدنام کرے یا اس کی تضحیک کا باعث ہو…''۔ آئین کی دفعہ204 میں تو توہین عدالت کے بارے میں واضح تصریحات موجود ہیں۔ یہ شقیں بار بار پڑھئے: '' کسی عدالت( عظمیٰ یا عالیہ) کوایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار ہوگا جو الف: عدالت کی قانون کارروائی کی کسی طرح مذمت کرے، اس میں مداخلت یا مزاحمت کرے یا عدالت کے کسی حکم کی نافرمانی کرے۔ ب: عدالت کو بدنام کرے یا بصورت دیگر کوئی ایسا فعل کرے جواس عدالت یا عدالت کے جج کے بارے میں نفرت تضحیک یا توہین کا باعث ہو۔ ج: کوئی ایسا فعل کرے جس سے عدالت کے سامنے زیر سماعت کسی معاملے کا فیصلہ کرنے پر مضر اثر پڑنے کا احتمال ہویا، د: کوئی ایسا دوسرا فعل کرے جو ازروئے قانون توہین عدالت کا موجب ہو''۔ مزید یہ کہ اس دفعہ کے بارے میں عدالت خود کوئی ضوابط، مقرر کرسکتی ہے جسے قانون کے ذریعے منضبط کیاجاسکے گا۔ قارئین ان آئینی دفعات کو بار بار پڑھیں اور خود اندازہ لگالیں کہ اس وقت کیا ہورہاہے؟ سپریم کورٹ کے خاص ججوں کے فیصلوں اور ان کی ذات کو کس کھلے جارحانہ انداز میں نشانہ بنایا جارہاہے، تضحیک کی جارہی ہے ۔انتہائی خطرناک طرز عمل یہ کہ عام لوگوں کو سپریم کورٹ کے خلاف سڑکوں پر آنے کا بھرپوراشتعال دلایا جارہاہے۔ یہ کام ماضی میں بھی کیا جاچکا ہے۔ جب ایک ٹی وی اینکرپرسن کی زیر سرکردگی سپریم کورٹ پر حملہ کیاگیا اور پھر سرفہرست شخصیت نے توہین عدالت کے نوٹس پر عدالت میں پیش ہوکر معافی مانگ لی۔ ٭اپنے کالم میں اپنی ذات کے بارے میں کچھ لکھنا صحافتی آداب کی رو سے معیوب قرار پاتا ہے مگر بعض معاملات کا ذکر ضروری ہو جاتا ہے۔ کافی عرصہ پہلے مجھے ان کالموں کے بارے میں اندرون و بیرون ملک سے بڑی تعداد میں پرتپاک پیغامات آیا کرتے تھے۔ اب نہیں آتے۔بلکہ اب سخت قسم کی شکائتیں بلکہ دھمکیاں آرہی ہیں۔کسی ایک طرف سے نہیں، بلکہ ہر طرف ، ہر سیاسی پارٹی اورہر سیاسی حلقے کی طرف سے ! شکائت یہ کہ میں ان لوگوں کے حق میں قصیدے کیوں نہیں لکھتا! ہر وقت نکتہ چینی کرتا رہتا ہوں۔ اب میں کیا کرسکتا ہوں؟ بارہ ہزار سے زیادہ کالم لکھے، کسی ایک میں بھی کو ئی قصیدہ نہ لکھ سکا ۔ قصیدے لکھتا تو آج شاندار بنگلے میں بیٹھا ہوتا۔ہرسال گاڑیاں تبدیل کرتا۔( آج تک گاڑی نہ خرید سکا)۔ میر امسئلہ یہ ہے کہ جن اعلیٰ مقاصد کی خاطر قائداعظم نے یہ عظیم ملک بنایااور جس نئے وطن کے سفر میں میرا آدھا خاندان شہید ہوااور اپنی آنکھوں سے اپنے سگے چچا کو گولی لگتے دریا میں گرتے دیکھا، ان مقاصد کو جس طرح مسلسل پامال ہوتے دیکھتا رہااور اب بھی دیکھ رہاہوں، اس پر کیسے اور کون سے قصیدے لکھوں! ملک میں کوئی تو واقعی پارسا دکھائی دے! سب کے سب ایک جیسے، ایک ہی ہتھیلی کے چٹے بٹے!لوٹ مار،اندرون وبیرون ملک اربوں کھربوں کے اثاثے! چلئے کوئی دوسری بات کرتے ہیں۔ ٭پنجاب کے وزیرقانون راناثناء اللہ نے کہا ہے کہ ماڈل ٹاؤ ن لاہور میں تحریک منہاج القرآن کے بارہ افراد کے قتل عام کی تحقیقاتی جسٹس باقر رضوی رپورٹ کو چھپانا ہمارا حق ہے!صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس رپورٹ میں حکمرانوں کے بارے میں کوئی ایسا مواد ہے جو انہیں بے نقاب اور خوف زدہ کرتاہے۔ مگر یہ رپورٹ کب تک چھپی رہے گی؟آج تک کتنی رپورٹیں چھپائی گئیں، کیا وہ چھپی رہیں؟ زبان خنجر چپ رہتی ہے تو آستین کا لہو پکاراٹھتا ہے ؟ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کس طرح بہت عرصے تک چھپائی گئی مگر بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں چھپ گئی۔ اب مارکیٹ میں عام ملتی ہے۔ یہ پڑھ کر دیکھیں کیسے کیسے حقائق سامنے آتے ہیں۔ یہی حال ڈان لیکس رپورٹ کا ہوا۔ جسٹس باقر رضوی رپورٹ کو بھی جتنا مرضی چھپا لیں' رانا ثناء اللہ کا تو بیان ہی سب کچھ بیان کررہاہے ، ایک نہ ایک دن جُرم خود بول پڑے گا۔ ٭وفاقی کابینہ میں چار مزید وزیر آگئے۔ کل تعداد47 ہوگئی۔ کابینہ کے تقریباً36کروڑ روپے کے اخراجات ! کون سے جیب سے دینے ہیں؟ قومی خزانے پرہی بوجھ بڑے گا۔ حلوائی کی دکان نانا جی کی فاتحہ!ابھی تو40,30 مشیروں، خصوصی معاونین اور ترجمانوں کی فوج بھی آنی ہے۔ ساغر صدیقی کا ایک مشہور شعر یاد آرہاہے۔ '' جس عہد میں لُٹ جائے غریبوں کی کمائی، اس عہد کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے''۔

٭ایس ایم ایس: میں معذور شخص ہوں۔ معذوری کی تصدیق شدہ رپورٹ بھی بھیج چکا ہوں۔ بے حدمالی مشکلات سے دو چار ہوں۔ عیدالفطر کے بعد بیٹی کی رخصتی تھی، ممکن نہیں ہوسکی۔ اسے آئندہ عید کے بعد ملتوی کردیاگیاہے۔ اب بھی انتظام نہ ہو سکا تو رشتہ ختم ہو جائے گا۔خدا کے لیے میری مدد کردیں''۔ ( مراسلہ بھیجنے والے کی حسب خواہش نام پتہ نہیں دیاجارہا۔ راوی نامہ سے لیاجاسکتا ہے ۔ تاہم ذاتی تحقیق ضروری ہے)۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved