دوقومی نظریہ ہی درحقیقت نظریہ پاکستان ہے
  13  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

تحریک پاکستان کا شمار دنیا کی عظیم ترین انقلابی تحریکا ت میں ہوتا ہے یہ تحریک برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کی آرزوؤں اور اُمنگو کا مظہرتھی اس تحریک کی بنیاد دوقومی نظریہ تھااوریہ دوقومی نظریہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ قرآن وسنت کا نظریہ ہے اور اسلامی سیاست کا ایک اہم اُصول ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک ملت ہیں اور کافر دوسری ملت ۔ قرآن کریم میں واضح اعلان موجودہے ،ترجمہ ''وہی اﷲجس نے تمہیں پید اکیا ''پھر تم میں سے ایک گروہ کفار کا ہے اور ایک مومنین کا اور اﷲتمہارے اعمال دیکھ رہا ہے ۔(التغابن)مذکورہ بالا آیت کریمہ کامفہوم سمجھنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ پوری دنیا میں پیدائش آدم علیہ السلام سے اب تک نبیادی طورپر دوگروہ ہی رہے ایک اہل ایمان کااور ایک کافروں کایعنی منکرین حق کا ۔سرزمین عرب پر بھی رسول عربی ۖکی دعوت توحید کے نتیجے میں دوگروہ پیداہوئے جو نسلی ،لسانی اور وطنی رشتہ کے اعتبار سے تو ایک تھے لیکن ایمان اور عقیدہ کے اعتبا ر سے مختلف اسی لئے اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشادفرمایا کہ ''اہل ایمان ایک دوسرے کے دوست اور مددگارہیں اور کفار ومشرکین آپس میں دوست ومددگارہیں ''(انفال ) پس قرآن مجید نے جو نظریہ اور معیا ر عطا فرمایا اس کی بنیاد،نسل ،زبان ،ثقافت یاوطن کا اشتراک نہیں بلکہ دین ہے،دین مختلف ہونے سے لوگ مختلف ہوجاتے ہیں چاہے ان کی زبان ،نسل یا وطن ایک ہی کیوں نہ ہو۔ دوقومی نظریہ دراصل قیام پاکستان کی بنیادہے اور یہ نظریہ بالکل درست ہے ،قیام پاکستان کے پس منظر میں جھانکیں تو ہمیں دوقومی نظریہ کی تفصیل ،تعریف اور صحیح معنو ں میں افادیت جھلکتی ہوئی نظر آتی ہے ،دوقومی نظریہ ہی درحقیقت نظریہ پاکستان ہے ۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو اپنی شناخت اور پھر دوقومی نظریہ کی بنیاد پر جداگانہ ریاست کی ضرورت یوں شدت سے محسوس ہوئی کہ ان کے ساتھ موجودایک دوسرے نظریہ کے حامل افرادجومسلمانوں کے توحید اور انسانی مساوات کے نظریہ حیات کے برعکس بت پرستی اور ذات پات کے قائل تھے ،اس کے برعکس اس خطے میں بسنے والی ملت اسلامیہ اپنے قومی تشخص اور علیحدہ شناخت کو چھوڑنے کیلئے کسی صورت تیار نہ تھی ۔ سلطان شہاب الدین غوری نے بھی اسی دوقومی نظریہ کی بنیا دپرہندومسلم اختلافات کوہمیشہ کے لئے طے کرنے کا طریقہ نکالااور ہندوراجہ پرتھوی کوتجویزپیش کرتے ہوئے کہا''برصغیر میں ہنددؤں اور مسلمانوں کی باہمی معرکہ آرائی کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کاواحد حل یہی ہے کہ برصغیر کے دریائے جمنا کوحدفاصل بناکر تقسیم کردیاجائے کہ مشرقی ہندوستان پرہندوؤں اورمغربی ہندوستان پرمسلمانوں کاتصرف ہوجائے تاکہ دونوں قومیں امن وامان سے زندگی گزارسکیں ''یعنی ہندوستان کودوحصوں میں تقسیم کردیاجائے۔اِسی نظریے کی بات کوآگے بڑھاتے ہوئے قائداعظم محمدعلی جناح نے 22مارچ 1940ء کو لاہورمیں ہونے والے مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس کے خطبہ صدارت میں برملاکہاکہ قوم کی خواہ کوئی بھی تعریف کی جائے مسلمان اس تعریف کے مطابق ایک قوم ہیں اور ان کااپنا وطن ان کا اپنا علاقہ اوران کی اپنی مملکت ہونی چاہیے۔ہم ایک آزادوخود مختارکی حیثیت سے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن واتفاق کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم امن پسند اوراُمنگو ںکے مطابق اوراپنے معیاراورنصب العین کومد نظر رکھتے ہوئے اپنی روحانی ،ثقافتی ،اقتصادی،سماجی اور سیاسی زندگی کو بہتر اور بھرپورطریقے پرترقی دے سکے۔دوقومی نظریے کا تعلق صرف برصغیر سے ہی نہیں بلکہ یہ نظریہ پورے کرۂ ارضی سے عبارت ہے۔اس نظریہ کے تحت ہم دنیا کومسلم اور غیر مسلم میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ علامہ اقبال نے بھی دوقومی نظریہ کے حوالے سے دوٹوک اندازمیں بات کرتے ہوئے کہا ''مغربی ممالک کی طرح ہندوستان کی یہ حالت نہیں کہ اس میں صرف ایک ہی قوم آبادہو،وہ ایک نسل سے تعلق رکھتی ہواور اس کی زبان بھی ایک ہو ،ہندوستان مختلف اقوام کا وطن ہے جن کی نسل ،زبان ،مذہب سب ایک دوسرے سے الگ ہیں ،ان کے اعمال وافعال میں وہ احساس پید اہی نہیں ہوسکتا جو ایک نسل کے مختلف افرادمیں موجودرہتا ہے(خطبہ الہ آباد1930)علامہ اقبال کی یہ خواہش تھی کہ ہندوستان کی سیاست میں مسلمانوں کاایک علیحدہ تشخص ہواور مسلمان ایک قابل قدرقوم کی حیثیت سے اپنی زندگی بسر کریں ۔ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی رحمة ُاﷲعلیہ نے ''النفس الفکرفی قربان البقر''لکھ کر دوقومی نظریہ کی حفاظت فرمائی ،ہندوچاہتے تھے کہ کسی طور پرمسلمان گائے کی قربانی سے بازآجائیں،چنانچہ انہوں نے بعض علماء سے فتوے بھی حاصل کرلیے کہ اگر ہندوؤں کی ناراضگی سے بچنے کے لئے گائے کی قربانی نہ کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے،اعلیٰ حضرت نے فرمایاگائے کی قربانی شعاراسلام اور ہماراحق ہے کسی کو حق نہیں پہنچتاہے کہ شعاراسلام پر پابندی لگائے ،آپ کے فتوے کی اشاعت کا نتیجہ یہ نکلا کہ پھر ہندؤں کو ایسی سازش کرنے کی جرأت نہ ہوئی ۔(بحوالہ :اعلیٰ حضرت کی سیاسی بصیرت) دوقومی نظریہ کو اُجاگر کرنے اورتحریک پاکستان میں اہل سنت وجماعت کے علماء ہمیشہ پیش پیش نظر آئے اور قیام پاکستان کے موقع پر آوازحق بلند کرتے رہے اور نظریہ پاکستان کو ملک کے گوشے کوشے میں پہنچایا،اس عظیم تحریک آزادی کاآغازامام المجاہدین حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کاوہ فتویٰ جہادتھا جو انہوں نے سب سے پہلے انگریز حکومت کے خلاف دیاتھا،جس کے نتیجہ میں خودکالے پانی کی سزاکے حق دارٹھہرے اور قربانیوں کایہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔حضرت صدرالافاضل مولانانعیم الدین مرادآبادی کی شبانہ روزانتھک محنت کا ہی نتیجہ تھا کہ 1946میں آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس کا چارروزہ اجلاس بڑی شان وشوکت سے منعقدہ ہوا۔اسی کانفرنس میں دوہزارعلمائے اہلسنت ومشائخ کے علاوہ لاکھوں حاضرین نے شرکت کی ،اسکے علاوہ حضرت علامہ احمد سعید کاظمی رحمة ُاﷲعلیہ نے تحریک پاکستان میں گرانقدرخدمات سرانجام دی ہیں اور جگہ جگہ قیام پاکستان کیلئے جلسے کرتے رہے ،جمعیت علماء پاکستان جیسی تنظیم کی بنیا دبھی آپ ہی نے رکھی ،جسکا مقصد نفاذمصطفی کیلئے عملی کام کرناتھا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved