ویلکم ملی مسلم لیگ
  13  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کہا جا رہا تھا کہ ملی مسلم لیگ کے سیاست میں آنے پر دہلی اور واشنگٹن کی چیخیں نکل جائیں گی، لیکن ایسا نہیں ہوا ، ایسے چہرے سامنے لائے گئے ،جن سے پاکستانی میڈیا بھی پوری طرح آشنا نہیں تھا ، غالبا ً یہ احتیاط قصداً کی گئی تا کہ کسی کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب نہ ہوں ۔ مگر دہلی سرکار اور اس کے میڈیا نے تو رسمی اعلان کا بھی انتظار نہ کیا اور رونا دھونا شروع کردیا ، ان کے وفادار ہمارے دیسی ''دھوتی پرشاد''کہا ں پیچھے رہنے والے تھے، زی نیوز اور دیگر چینلز کی دیکھا دیکھی رو رو کر ان کی بھی آنکھیں سوج چکی ہیں ۔ ان کا دکھ شائد دہلی سرکار سے بھی بڑا ہے ۔ لیکن افسوس کہ ان کے غم میں شریک ہوا جاسکتا ہے نہ ہی ان سے اظہار ہمدردی ممکن ہے ۔ انہیں حوصلہ رکھنا چاہئے ابھی آنسو بہانے کے اور کئی مواقع بھی آنے والے ہیں ۔ بعض حلقوں کی جانب سے ملی مسلم لیگ کے اعلان کو اس لئے سنجیدہ نہیں لیا جارہا کہ ان کے نزدیک قیادت میں کوئی بڑا نام شامل نہیں ، جبکہ حقیقت میں یہی اس جماعت کی پہلی کامیابی ہے کہ اس نے بڑے نام کے بجائے بڑے ''کام '' کے بندے کا انتخاب کیا ہے ، اور یہی عمل ان کی مستقبل کی حکمت عملی کا عکاس بھی ہے ۔ ہم نام قائد ملی مسلم لیگ میڈیا کی سطح پر غیر معروف ضرور تھے مگر اپنی جماعت کے سینیئر لوگوں میں سے ہیں ، قیادت کے اعتماد پر پورا اترنے اور ہر مشکل میں ثابت قدمی دکھانے والے سیف اللہ خالد دعوة ، او ر خدمت اور انتظامی امور کے حوالہ سے ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں ، وہ اس جماعت کی کسانوں سے متعلق تنظیم سے بھی وابستہ رہے ، اور پنجاب کے دیہات میں ان کا اچھا اثرو رسوخ ہے ۔ لیکن ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی کوئی فرق پڑنے والا نہیں تھا کیونکہ ملی مسلم لیگ ایک الگ قسم کا تجربہ ہے ، جس میں قیادت ایک نظم کی پابند ہوگی ،اس کی تمام تر آزادی پالیسی کی حدود کے اندر ہوگی ، من مرضی کی گنجائش نہیں ۔ عوام میں سے ، عوامی سوچ کی حامل قیادت سامنے لائے جانے کی توقع ہے ۔ کہا جاسکتا ہے کہ ماضی میں ایم کیو ایم نے بھی عام آدمی کو آگے لانے اور خدمت کی سیاست کا نعرہ لگایا تھا ، اور ایسا کیا بھی۔ مگر ان کے ''عام آدمی'' جب خاص ہوئے تو کرپشن اور دہشت گردی کی ہوشربا داستانیں رقم ہوئیں ، پاکستان کی اقتصادی شہ رگ یرغمال بنی اور خدمت کے نام پر بھتہ ،لوٹ مار،بوری بند لاشیں اور اجتماعی قتل کی وارداتیں عوام کا مقدر قرار پائیں۔ ملی مسلم لیگ سے ایسی کوئی توقع اس لئے نہیں کہ ان کا ماضی سب کے سامنے ہے ۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ جو لوگ ووٹ اور سراہے جانے کی تمنا سے بے نیاز ہوکر پورے ملک میں انسانیت کی خدمت کر رہے ہوں ، ان کا طرز عمل سیاست کی چھتری تلے آکر ہم عصر سیاسی جماعتوں کے لئے ایک مثال ضرور بنے گا ۔ فوری تو نہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ احساس ضرور بیدار ہوسکتا ہے کہ مقابلہ کا معیار لوٹ مار اور گالی کے بجائے خدمت قرار پائے ۔ اختلاف رائے ہو سکتا ہے ، تنقید بھی کی جاسکتی ہے ، مگر اس امر میں دوسری رائے کی گنجائش نہیں کہ ملی مسلم لیگ کے نام سے وہ لوگ سامنے آرہے ہیں جنہوں نے عوامی خدمت کے لئے اقتدار کی شرط عائد نہیں کی ، بلکہ سندھ کے ریگستانوں سے لیکر بلوچستان کے صحرائوں ، ساحلوں اور کشمیر و گلگت کے پہاڑوں تک جب بھی کوئی آفت آئی، کسی مصیبت نے سر اٹھایا ان کے کارکن سب سے پہلے اور سب سے موثر مددگار کے طور پر سامنے آئے ۔ مسلکی ،جہادی اور دعوتی پس منظر کے باوجود خدمت کے میدان میں مسلک ،مذہب ، عقیدہ اور رنگ ونسل کا کوئی امتیاز روا نہیں رکھا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ان کے خلاف کوئی اقدام ہوا سندھ کی ہندو آبادی ان کی حمائت میں سڑکوں پر نکلی ۔ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ پابندیاں لگانے والا امریکہ اور اقوام متحدہ کشمیر کے زلزلہ سے لیکر سندھ کے سیلاب تک ان کے رفاہی کام کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا۔ اپنی اسی شہرت اور مہارت کے ساتھ جب یہ لوگ سیاست میں اتریں گے تو لوٹ مار اور چھینا جھپٹی کرنے والوں کی پریشانی قابل فہم بات ہے۔ ملی مسلم لیگ کی آمد سے پہلے ہی دینی اتحاد کی فضا بننا شروع ہو چکی تھی ۔ اگر یہ اتحاد وجود میں آجاتا ہے جس کا امکان بہت زیادہ ہے تو آنے والے الیکشن میں اپ سیٹ بھی ممکن ہے ۔ مذہبی جماعتوں کی ناقد لبرل دانشور عائشہ صدیقہ کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں اہلسنت والجماعت ہر حلقہ میں 10سے 15ہزار ووٹ رکھتی ہے ۔ قریباً اتنے ہی ووٹ ملی مسلم لیگ بھی رکھتی ہے، جو ماضی میں ہمیشہ نواز لیگ کو ملتے رہے ۔ جے یو آئی اور بریلوی مکتب فکر کی جماعتوں کا بھی کہیںکم تو کہیں زیادہ ووٹ بنک موجود ہے۔ اتحاد کی صورت میں یہ سب مل کر ان لوگوں کے لئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں جن کے نزدیک حلقے جاگیر اور ووٹر مزارع سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ۔ بلوچستان ، اندرون سندھ اور کراچی میں بھی یہ اتحاد اہم کردار ادا کر سکے گا ۔ سب سے اہم بات یہ کہ انہیں ڈرانا دھمکانا بھی ممکن نہ ہوگا۔ کشمیر اور خارجہ پالیسی کے دیگر امور پر اس جماعت کا ایک طے شدہ اور مظبوط موقف ہے ،اس سے قبل ان کی آواز کو نان سٹیٹ ایکٹر کہہ کر نظر انداز کردیا جاتا تھا مگر اب شائد ایسا ممکن نہیں رہے گا ۔انہی اسباب کی بنا پر دیسی دھوتی پرشاد آٹھ آٹھ آنسو رونے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں ۔

آخری بات یہ کہ اب تک ایک مختصر سی بھارت نواز اقلیت کے سوا کسی کو ان سے مسئلہ نہیں تھا ، کشمیر اور خدمت خلق کے شعبہ میں شاندار کردار کے سبب ان کا احترام غالب تھا ، کبھی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ احترام تو اب بھی رہے گا ، مگر سیاست میں آجانے کے باعث ان کی بات اور ذات پبلک پراپرٹی قرار پاچکی ، ایک ایک جملے پر بحث بھی ہوگی اور تنقید بھی ، مذاق بھی بنے گا ، جہاں کسی کے مفادات پر زد پڑے گی مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان سکہ رائج الوقت گالم گلوچ سے بھی انہیں واسطہ پڑ سکتا ہے ۔ دینی سیاست میں ٹھیکیداری کے دعویدار کئی عناصر تو کام شروع کر بھی چکے ۔یہی وقت ملی مسلم لیگ کے کارکن کی تربیت کے امتحان کا ہے ۔انہیں ثابت کر نا ہوگا کہ نبوی اخلاقیات کی تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے اخلاق اور کردار کے میدان میں پامال راستوں کے مسافر نہیں ہوا کرتے ۔ بہر حال سیاست میں آکر اپنی ماضی میں کمائی ہوئی بے داغ ،غیر متنازع شہرت برقرار رکھنا کٹھن امتحان سے کم نہیں ۔ اس مشکل ترین مقابلہ میں اترنے پرملی مسلم لیگ کی قیادت کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved