پانامہ کے بوجھ
  13  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اب تو یہ یاد بھی نہیں کہ پانامہ کیس کب شروع ہوا تھا ۔حساب لگائیں تو شاید ایک سال کا عرصہ ہونے کو ہے لیکن معلوم یوں ہوتا ہے جیسے اس قصے کو شروع ہوئے ایک عرصہ ہو چکا ہے۔ پانامہ ، پانامہ سنتے سنتے ، صحیح بات تو یہ ہے کہ ہمارے تو کان پک چکے ہیں۔جہاں جائیں پانامہ،جہاں بیٹھیں پانامہ، جہاں اٹھیں پانامہ،جہاں سنیں پانامہ۔ ہر جگہ ہنسی مذاق سے بات شروع ہوتی ہے، تھوڑی ہی دیر میں گرمی اور پھر گرما گرمی شروع ہو جاتی ہے۔ ایک فریق نواز شریف کو گالی دیتا ہے، جواباً عمران خان کو گالی پڑتی ہے؛ پھر گالیوں پہ گالیاں ۔ نواز شریف اور عمران خان پھر بیک گرائونڈ میں چلے جاتے ہیں اور ایک زمانے کے دوست، یار، عزیز اور رشتے دار ۔۔پہلے ایک دوسرے کو پھر ایک دوسرے کے ماں باپ کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں پر سیاست جتنی سوار ہوئی ہے اس تناسب سے ان میں برداشت بھی کم ہوتی گئی ہے۔ کسی عزیز ، دوست، رشتے دار سے ملنے جائیں ابھی ٹھیک طریقے سے بیٹھنے بھی نہیں پاتے کہ صاحبِ خانہ ، حال احوال پوچھنے کی بجائے پوچھتے ہیں۔۔عائشہ گلالئی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ یار ! نعیم الحق کو شرم نہیں آتی اپنے لیڈر کے مقابلے میں کھڑا تھا؟یہ نواز شریف آرام سے گھر کیوںنہیں بیٹھتا؟کیا خیال ہے سارا کام شہباز شریف کا نہیں لگتا؟یہ وزیرِ اعظم کتنے مہینے نکالے گا؟اب تو لوگ سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی اس طرح اپنی رائے دیتے ہیں جیسے ساری عمر سپریم کورٹ میں پیش ہی نہ ہوتے رہے ہوں، لاء کالج میں جج صاحبان کے استاد بھی رہے ہوں۔ ایک حجام سے بال کٹوانے گئے تو اس کی ماہرانہ رائے سن کر ہمیں یقین ہو گیا کہ اس سے بہتر فیصلہ ، سپریم کورٹ کے کسی جج نے پہلے کبھی کیا تھا اور نہ کبھی کوئی آنے والا کرے گا۔ اس نے تاریخ کے دھارے کا رُخ یوں موڑا ہے کہ اب کبھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھے گا۔ اب سمجھو نواز شریف ہی نہیں اس کے سارے خاندان کی چھٹی۔بال کٹوا کر اٹھے اور سامنے نگاہ پڑی تو دیکھا کہ عمران خان ، گلے میں ہار ڈالے ،مسکراتا ہوا کہہ رہا ہے 'کہا نہیں تھا'گلی گلی میں شور ہے۔۔۔'دوسرے حجام کے پاس گئے تو معلوم ہوا کہ جو ظلم نواز شریف کے ساتھ ہوا ہے ، وہ پہلے کسی کے ساتھ ہوا نہ مستقبل میں کسی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ شیر کو نکیل ڈالی اور وہ بھی اتنی کمزورکہ ایک ریلی کی مار بھی نہ سہہ سکی۔' شیر آ گیا ہے میدان میں ، اب دیکھنا گیدڑوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔'فارغ ہو کر دیکھتے ہیں تو سامنے نواز شریف ہاتھ ہلاتے ہوئے کہہ رہا ہے'کہا تھا ناں کہ سوئے ہوئے شیر کو نہ جگائو، پچھتائو گے'۔ یہ کیس عزیزداریوں، رشتے داریوں، دوستیوں اور یاریوں پر تو بھاری پڑا ہی ہے کہ 'اک سیاسی بات پر برسوں کے یارانے گئے' سرکاری خزانے پراس کا بوجھ کچھ زیادہ ہی پڑرہا ہے۔اربوں روپے کے اشتہارات ہیںکہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ہر اشتہار پیغام دے رہا ' ارے او غافل لوگو! تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ تمہاری قسمت بدل چکی۔ ڈکھ اور درد کی رات کٹ گئی،سُکھ اورراحت کی کرنیںدلوںکو گرمانے لگیں۔مسائل کے انبار ختم ہو گئے،راوی نے ہر ایک کے لئے چین ہی چین لکھ دیا۔ مزے کرو اور دعائیں دو اِ س حکومت کو جو کسی کی نہیں تمہاری اپنی حکومت ہے۔'ایک دفعہ تو ہر ایک کا دل ، اس انقلاب پر،باغ باغ ہو جاتا ہے۔ پھر ہر ایک اِدھر اُدھر، دائیں بائیں، اوپر نیچے دیکھتا ہے ۔۔تھانوں ، کچہریوں اور دفتروںمیں رشوت ختم ہو گئی؟ نہیں؛بجلی اور گیس سستی ہو گئی؟ نہیں؛ہر کام میرٹ پر ہونے لگا؟ نہیں؛افسروں اور لوگوں کے درمیان فاصلے کم ہو گئے؟ نہیں؛'عوام کی افسروں کے ہاتھوں چھترول ختم ہو گئی؟نہیں؛ چھترول کے لئے لگی قطاریں چھوٹی ہو گئیں؟نہیں؛ایم پی اے اور ایم این کی پرچی کیلئے ، ان کی کوٹھیوں کے باہر ہجوم کیا کم ہو گئےَ؟نہیں؛سفارش کا چلن کیا بدل گیا؟نہیں؛(چوری چکاری،نقب زنی، مار کٹائی، ہیرا پھیری،جعلسازی کو چھوڑو)کیا قتل ،ڈکیتیوں ، زنا بالجبرکے پرچے ہی بغیر تگ و دو اور لین دین درج ہونے لگے؟نہیں؛کیا فتنہ و فساد کا دور بیت گیا؟ نہیں؛پورے ملک میں ایک ہی نظامِ تعلیم رائج ہو گیا؟نہیں؛عوام کے مال، جان اور عزت کی کوئی قیمت پڑنے لگی؟ نہیں۔۔۔چھوڑو ان سب باتوں کوکہ یہ ہمارے اِن حکمرانوں کے بس کی بات ہی نہیں،ذرا یہ بتا دو ۔۔بجلی کے بِل صحیح ہو گئے؟ نہیں؛ بروقت ملنے لگے؟ نہیں؛ سرکاری ہسپتالوں سے ادویات ملنے لگیں؟نہیں؛سرکاری ڈاکٹر، مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں دیکھنے لگے؟نہیں؛سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائی ہونے لگی؟نہیں؛ٹیوشن سنٹر بند ہو گئے ؟ نہیں؛ مسافروں سے انسانوں جیسا سلوک ہونے لگا؟ نہیں؛ ڈومیسائیل کے لئے دربدر کی ٹھوکریں ختم ہو گئیں؟نہیں؛شناختی کارڈ آسانی سے بن جاتا ہے؟ نہیں؛اس میں کوئی غلطی آسانی سے درست ہو جاتی ہے؟نہیں؛بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت امداد حاصل کرنے کے لئے ذلت میں کمی ہو گئی؟نہیں۔۔ کہاں تک سنو گے ،کہاں تک سنائیں؟

پانامہ کیس کے نتیجے میں ، ایک بہت بڑا بوجھ،آئی ایم ایف کے قرضوں تلے دبی قوم کی گردن پر، بھاری بھرکم کابینہ کا پڑا ہے، جس کی فہرست ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ جو باہر رہ گئے ہیں وہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ہر نتھو خیرا وزیر بن گیا، ہماری چاپلوسی میں کون سی کمی تھی کہ ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔ ہمارا گمان یہ ہے کہ شکوے ، شکایتیں جب اور بڑھیں گی تو کابینہ بھی بڑھے گی۔ ہمیں تو گمان یہ بھی ہو رہا ہے کہ ایک وزیرِ اعظم سے جان چھڑاتے چھڑاتے، ہماری گردنوں پر دو وزیرِ اعظم سوار کرا دئیے گئے ہیں۔ ایک پردے کے آگے، ایک پردے کے پیچھے؛ ایک حکم دینے والا، ایک حکم بجا لانے والا،ایک کھانے کے لئے ایک دکھانے کے لئے۔عملہ دگنا، اخراجات دگنے، عیش و آرام دگنے، اللے تللے دگنے۔ جن بیچاروں نے جا کر قدموں کو ہاتھ لگاناہوتا ہے، خوشامد کرنی ہوتی ہے، سجدہ ریز ہونا ہوتا ہے ؛ ان کے لئے درگاہیں اور آستانے بھی دو۔ مسئلہ ان کے لئے یہ بھی ہو گا کہ کس در پر ، سر آدھاجھکانا ہے کس پر پورا، پہلے حاضری کہاں دینی ہے اور بعد میں کہاں۔ریلیوں،جلسوں،جلوسوں،کنٹینرز،بند راستوں، قدم قدم پر رکاوٹوں کے بوجھ اس کے علاوہ ہیں۔ ابھی جوابی ریلیز نکلیں گی تو خدا جانے کیا ہو گا۔فارسی کے ایک مشہور شاعر نے کہا تھا۔۔آسمان سے جو مصیبت، جو بلا ، جو آزمائش اترتی ہے، میرے گھر کا پتہ پوچھتی آتی ہے۔ ایسا ہی مسئلہ پاکستان کے عوام کا ہے کہ جو بوجھ اترتا ہے ، عوام کی گردن کا پتہ پوچھتا آتا ہے کہ آخرِ کار اسے قرار وہیں ملتا ہے۔احساس عمران خان کو بھی ہو گیا ہو گا کہ ایوانِ اقتدار میں موجود، روایتوں اور مصلحتوں میں محصور، عوام سے بہت دور،نواز شریف کو نشانہ بناناآ سان تھا مگر عوام کے کندھے سے کندھا ملائے ، ایک مظلوم کے روپ میں،روایتوںاور مصلحتوںسے آزاد،نواز شریف کا مقابلہ کرنا مشکل۔ بہت سے فیصلے تو این اے 120کے الیکشن میں ہی ہو جائیں گے کہ تحریکِ انصاف اور ن لیگ کے ووٹوں میںچالیس ہزار کا جو فرق تھا ، نوازشریف کی عدم موجودگی میں،اس میں کتنا اضافہ یا کمی ہوئی ہے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved