بالادستی کی جنگ
  13  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اگر یہ جنگ پاکستان اور اسلام دشمنوں کے ساتھ لڑی جاتی تو اس پر سبھی خوشی محسوس کرتے۔ مگر ایسا نہیں۔ اس لئے اس پر افسوس اور تشویش کا اظہار کرنا فطری بات ہے۔ مخلص اور محب وطن لوگ یہی تاثرات رکھتے ہیں۔قانون سازی اور شفافیت س متعلق کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے پلڈاٹ کے سروے نے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے سربراہ احمد بلال محبوب کا خدشہ بھی تشویشناک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آنے والے ایام میں سول ملٹری تعلقات بدسے بدترین ہو سکتے ہیں۔ یہ بحران جیسی صورت حال پیدا کر سکتے ہیں۔ پلڈاٹ اسلام آباد کا آزاد تھنک ٹینک ادارہ ہے جو جمہوریت، حکمرانی اور حکومتی پالیسی پر رپورٹیں جاری کرتا رہتا ہے۔ اس کی تازہ رپورٹ وزیراعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کے تناظر میں ہے۔ اگر سول ملٹری تعلقات خرابی سے بگاڑ کی طرف بڑھتے ہیں تو ملک کے لئے اس کے نتائج مثبت نہیں ہو سکتے۔ گو کہ ماضی میں بھی جمہوری حکومتوں کے دور میں سول حکومتوں کے عسکری قیادت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور تنائو رہا ہے۔ اس کے منفی اثرات بھی قومی سوچ ہی نہیں بلکہ ترقی پر بھی مرتب ہوئے۔ اگر آئیندہ بھی کچھ ایسا ہوتا ہے تو کوئی اس کے نتائج سے کیسے بچ سکے گا۔ ملک کی تعمیر و ترقی کا یہی رونا ہے۔ ابھی تک باہمی طور پر یہ فیصلہ نہ ہو سکا کہ ملک میں کس کی بالا دستی ہے۔ ہر ادارہ اہم ہے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، بیوروکریسی، فوج سب کی اہمیت ہے۔ سب اس گھر کے ستون ہیں۔ ایک بھی کمزور ، یا دیمک زدہ یا زنگ آلود ہوا،تو ٹوٹ پھوٹ کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ملک کی سلامتی و دفاع سمیت خارجہ پالیسی کے بارے کبھی تصادم آرائی کی جیسی صورت پیدا کر دی جاتی ہے۔ یہ ٹکرائو ملک و قوم کے مفاد میں ہر گز نہیں۔ پہلے کبھی سول حکمرانوں کو سیکورٹی رسک بھی قرار دیا جاتا تھا۔ یعنی یہ سوالیہ نشان کہ وہ ملک کے ساتھ مخلص نہیں بلکہ غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ مگر یہ ایک اسلحہ ہے۔ جو سیاسی انداز میں استعمال ہوتا ہے۔ اس میں زاتی یا ادارہ جاتی مفادات بھی پائے جاتے ہیں۔ اگر کوئی آپ کا نقاد ہے، آپ پرپے درپے تنقید کرتا ہے، آپ کی پالیسی کی جی حضوری کے بجائے مخالفت کرتا ہے۔ اگر چہ اس کی سوچ تعمیری اور اصلاحی بھی ہو تو بھی وہ ملک دشمن ،غدار یا دشمن کا ایجنٹ، جاسوس قرار دیا جائے گا۔ جب کہ ایسا نہیں ہوتا۔ مگر یہ نسخہ آسان ہے۔ جب کہ اس پالیسی کی زد میں فرد واحد نہیں بلکہ خاندان کے خاندان آ جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے اندر انتقامی اور بدلہ لینے کی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ اگر صرف پروفیشل انداز میں معاملات کو نپٹایا جائے تو خرابی سے پہلے ہی اصلاح کی صورت نکل جاتی ہے۔ یہ مفاہمت اور عفو و درگزر کا رویہ ہوتا ہے۔ آج اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ میاں نواز شریف اس کشمکش کے ذمہ دار نہ بھی ہوں، لیکن آج ایسا تاثر مل رہا ہے کہ اس کشیدگی نے سیاسی منڈیٹ کو متاثر کیا ہے۔میاں صاحب اور ان کے رفقاء کی تقاریر بھی اس کا احاطہ کرتی ہیں۔ کیا یہ ریاستی اداروں سے ٹکڑ ہے، مگر مسلم لیگ ن کسی سازش کی بات کرتی ہے۔ وہ سپریم کورٹ کے معزز ججوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ یہ بھی کہ شاید عدلیہ سے وزیراعظم کو نا اہل کرایا گیا۔ یہ نشاندہی ملک میں سول اور ملٹری کی کسی ان دیکھی محاز آرائی کا پتہ دیتی ہے۔ جس نے فکر مندی میں اضافہ کیا ہے۔ اس کا حل افہام و تفہیم سے معاملات کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ ڈکٹیٹر شپ نہیں ، جمہوریت کا زمانہ ہے۔ جس میں سول نظام کو ہی بالا دستی حاصل ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی دوسر ے ادارے کی اہمیت کم یا ختم ہو گئی ہے۔ بھارت اور افغانستان پالیسی ہو یا مغرب سے معاملات طے کرنے کی بات، سب کام مشاورت سے ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے کوئی یونیفائیڈ کمانڈ کونسل کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔ جس کی رکنیت تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو ہو۔ جہاں سبھی اپنے تحفظات، خدشات کا اظہار کریں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے۔ جنرل صاحب نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات میں ادارے کے چند تحفظات کا ضرور اشارہ دیا ہو گا۔ جو کہ شریف برداران کے نام پیغام ہو گا۔ عمران خان اور چوہدری برادران سمیت شیخ رشید آج ایک صفحہ پر ہیں۔ کنیڈا سے علامہ طاہر القادری صاحب بھی پہنچ چکے ہیں۔ یہ سب مداریوں جیسی بازی گری لگتی ہے۔ اپنے مفادات کے لئے سیاست میں اداروں کا استعمال کسی طور پر ملک و قوم کی خدمت نہیں۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ جب عمران خان نے کھل کر بغاوت اور سول نافرمانی کی اپیل کی، ٹیکس نہ دینے پر عوام کو اکسایا، سرمایہ کاری کو کھل کر روکنے کی کوشش کی ، تب ریاستی ادارے کیوں خاموش بیٹھے رہے۔ عدلیہ نے بھی از خود نوٹس نہ لیا۔ حکومت کسی کی بھی ہو ، کیا اپوزیشن عوام کوسول نافرمانی پر اکسانے کی ترغیب د ے سکتی ہے۔ کیا یہ جرم اور قانون شکنی نہیں۔ اگر یہ جرم ہے اور بغاوت کی ایک بدترین مثال ہے تو اس پر کیا کارروائی ہوئی یا عنقریب ہو گی۔

سول اور عسکری قیادت کے درمیان فوری اور غیر مشروط مفاہمت کے لئے ثالثی ہونی چاہیئے۔ شریف برادران کو ریلیف بھی اسی تناظر میں مل سکتا ہے۔ اگر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی سیکورٹی رسک ہے تو اس کو عوام کے سامنے لائے بغیر صرف تاثر سے بات نہیں بن سکتی۔ سب سے پہلے ملک اور قوم کا مفاد ہے۔ اسے سب پر ترجیح حاصل ہے۔ اس پر اتفاق ہونا چاہئے کہ بھارت، افغانستان یا امریکہ ک بارے میں اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام سٹیک ہو لڈرز سے مل کر حکمت عملی اورپالیسی تشکیل دیں۔ وہ گہری سوچ و بچار سے متفقہ نتیجہ پر پہنچیں۔ قومی سلامتی کی کمیٹی کے مسلسل اجلاس ہونے چاہئیں تا کہ معاملات اتفاق رائے سے حل ہو سکیں۔ اگر چہ آخری فیصلے کا اختیار سول منتخب حکومت کو حاصل ہے، تا ہم یہ اختیار وسیع مشاورت سے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ تا کہ سب کے خدشات اور تحفظات بھی دور ہو سکیں۔ ورنہ یہ کشیدگی اور تنائو ختم نہ ہو سکے گا۔ جس کا اشارہ آصف علی زرداری نے جون 2015کو اپنے سخت اور دھمکی آمیز ریمارکس میں دیا تھا۔ ''اگر آپ نہ رکے تو میں پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک جنرلز کی فہرست منظر عام پر لے آئوں گا''۔ یہ وقت کسی بھی صورت میں محاذ اور کشیدگی کو فروغ دینے کا نہیں۔ شریف برادران کو اب بھی افہام و تفہیم کی فکر کرنا چاہیئے۔ عسکری قیادت بھی سیاسی اشتعال اور سیاسی انتقام میں استعمال ہونے س بچنے کی فکر کرے۔ کیوں کہ مارشل لاء کے وقت مٹھائیاں تقسیم کرنے والے اداروں کے کندھوں سے فائرنگ صرف اپنے اقتدار اور مفادات کے لئے کرتے رہے ہیں۔جوآج بھی اپنی زاتی جنگ کی تشہیر بالا دستی یا اختیار کی جنگ کے طور پر کرتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved