''سالگرہ''
  13  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستان نے ان کو مسرت سے دیکھتے ہوئے کہاکہ بچو !میری خدمت یامجھ سے محبت کے اور بھی بے شمار انداز ہیں جو میں تم کو بتاناچا ہتا ہوں۔لال بتی پر رکنا،قانون کی پاسداری کرنا،اپنے اختیارات کا ناجا ئزاستعمال نہیں کرنااور مظلوموںکے حقوق دلانا،یہ بھی مجھ سے محبت کے انداز ہیں۔اپنے کام کو تندہی سے کرنا،میرے بابا کے فرمان ''ایمان ، اتحاد، تنظیم'' کی پاسداری کرنا اور جس منصب پر فائز ہو اس کو ایمانداری سے انجام دینابھی میری محبت ہے۔میری پوتی نے کہا کہ پاکستان !میں نے آج صبح اسکول میں آپ کے بابا کے احسانات پر تقریر کی تھی اور مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ میں جب تقریر کر رہی تھی تو اسٹیج پر بیٹھے بزرگ بجائے میری بات سننے کے باتوں میں مشغول ہوگئے اورمیری تقریر کے بعد جب یہ اعلان ہوا کہ اب ان کی خدمت میں ایک گانا اور رقص پیش کیا جائے گا تو وہ خوشی کے مارے اپنی اپنی کر سیوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور مسلسل تالیوں کے ساتھ وہ زمین پر پاؤں مارنے لگے۔ پاکستان نے سرد آہ بھری اور میری پوتی کے سر پر اپنا کانپتا ہاتھ رکھ کر کہابیٹی!تم صحیح کہہ رہی ہو،ہمارے بڑوں نے اپنے مقصدِ حیات کا رخ صحیح راہ پر نہیں ڈالا جس کے نتیجے میںہم اپنا تمدن اور ثقافت،آداب و اطوارفراموش کر بیٹھے،پھر پاکستان نے کہابیٹا!یہ میرے بابا کی عظمت ہے کہ آزادی کی جنگ میں جہاں لاکھوں افرادقربان ہوتے ہیں انہوں نے ایک گولی چلائے بغیراور ایک قطرہ خوں بہائے بغیراتنی بڑی اسلامی مملکت وجود میں لے آئے،یہ الگ بات ہے کہ فرنگی اور ہندو بنئے کی سازشوں نے میرے ہزاروں بچوں کو ہجرت کرتے ہوئے کاٹ دیا لیکن اس کے باوجود وہ جب مجھ سے ملے تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔پھر پاکستان نے میرے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہابیٹا!تم استادہومگر تمہارا یہ علم اور پیشہ تمہارے لئے دولت کمانے کا ذریعہ نہ بنے بلکہ تمہارے ساتھیوں اور دوسرے شہریوں کیلئے باعثِ خدمت ہو،یہی تمہاری محبت کا اظہار ہوگا۔پھر ننھے معصوم پوتے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ عمر معصومیت کی ہے اور اسکی معصومیت کو بچانااور اس کی حفاظت کرنا یہ تم بڑوں کاکام ہے۔یہ ابن الوقت لوگ جو اس وقت میرے نام کی بیساکھی لیکر سیاسی میدان میں اونچا اڑناچاہتے ہیں،وہ زیادہ عرصے تک پنپ نہیں پائیں گے۔ بچو!میں تمہیں آج ایک راز کی بات بتاتا ہوںکہ تمہارے ابو اور دادا کی محبت جو وہ مجھ سے کرتے ہیں،ایک عجیب سی محبت ہے۔یہ دنیا میں جہاں جہاں بھی گئے میرے نام کو بلندہی کرتے رہے! ایک بات اور بتا دوںکہ آج صبح تمہارے ابو نے اپنے تمام ساتھیوں کو کانفرنس روم میں جمع کیااور میرے بھائی اقبال کی لکھی ایک نظم''لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری'' سب نے مل کرپڑھی ،پھر ہر ایک نے باری باری میری تاریخِ آزادی اور لوگوں کی مجھ سے عقیدت اور محبت کے اوپراپنے خیالات کا اظہار کیا۔محبت کا یہ اظہارکسی کے زور،کسی زبردستی،کسی لالچ کے بغیر تھا،سب ساتھیوں کے چہروں پر جذبات کی حرارت 'آنکھوں میں فرطِ محبت سے امڈے ہوئے آنسو اور کپکپاتے ہوئے لب اس بات کی غمازی کر رہے تھے کہ یہ اور ان جیسے بے شمار لوگ اب بھی مجھ سے بے غرض محبت کرتے ہیںتو بچو! تم بھی اپنے ابواور ان کے ساتھیوں جیسے بنوکیونکہ تم ہی سے ان کی کل اور میری نئی صبح وابستہ ہے۔ پاکستان کی آواز گلوگیر تھی اور وہ خاموش کھڑا اپنے باپ سے کہہ رہا تھا !

''بابا!تم نے میرا ایک تشخص بنایا ،آپ توجانتے ہیں کہ میرے وجودکویقین میں بدلنے کیلئے صدی کی سب سے بڑی ہجرت کی گئی اوراس عمل میں ہزاروں جانیں قربان ہوگئیں،دس ہزارسے زائدبچیاں توصرف مشرقی پنجاب میں لاپتہ ہوگئیں،لاکھوں افراداپنے گھروں کوچھوڑ کراس امیدپرمیرے دامن میں پناہ لینے کیلئے آئے کہ یہاں اپنے رب سے کئے گئے وعدے پرعمل پیراہوکرقرآن کونافذکیاجائے گالیکن آج تک مجھ پرحکومت کرنے کیلئے کبھی جمہوریت کانام لیتے ہیں،کوئی ''جمہوریت کوسب سے بڑاانتقام قراردیکرمیری مشکیں کس دیتاہے،کوئی میرے نام کے ساتھ ''نیا''کالاحقہ لگاکرمجھ پرسواری کاخواہاں ہے اوراس میں شک نہیں کہ تمہارے چندساتھیوں نے اس میں رنگ بھرنے کی کوشش کی اورکچھ نادانوں نے اس رنگ کو اپنی حماقتوں سے مٹانے کی کوشش کی اوراب تومسلسل ڈھٹائی کے ساتھ میرے وجودکومٹانے کے درپے ہیں۔ متنازعہ کشمیر جس کو تم نے میری شہ رگ قرار دیا تھا،پچھلی سات دہائیوں سے جانوں کی بے مثال قربانیاں دیکراپنے عزم صمیم کوثابت کردیاہے بلکہ اب پچھلے ڈیڑھ سال سے بدترین ظلم وستم کانشانہ بن رہے ہیںکہ بھارتی درندے پیلٹ گن کے چھروں سے براہِ راست نوجوانوں کوشکارکررہے ہیںلیکن مجھ پرحکومت کرنے کیلئے اغیارکے احکام کے اس قدرتابعدار ہیں کہ دشمن کی دہشتگردی کے تمام شواہدکے باوجوداس سے ایسے مرعوب ہیں جس نے میری غیرت و حمیت کو تار تار کر دیا ہے۔بابا!مگر اب بھی بہت سے جانثار (سیدعلی گیلانی کی قیادت میں)میری محبت میں تن من دھن کی بازی لگانے کیلئے تیار ہیں اور جنت نظیرمیں بیٹھ کر''ہم ہیں پاکستانی،پاکستان ہماراہے''کے فلک شگاف نعرے لگاکرمجھ سے پرخلوص محبت کانہ صرف اظہارکرتے ہیں بلکہ پیرانہ سالی میںسات سال سے گھرمیں نظربند صعوبتوں کامقابلہ بھی بڑی پامردی سے کررہے ہیں۔بابا!میری ایک بہادردخترآسیہ اندرابی بھی ہے جوہرسال میری سالگرہ بڑے پرعزم طریقے سے مناکرمیرے وجودکی گواہی دیتی ہے لیکن اس مرتبہ بھارتی ظالم درندے اس کوجموں جیل میں بندکرکے ذہنی طورپرٹارچرکررہے ہیں۔ مجھے امید ہے میرا نام ، میری شناخت انشاء اللہ ختم نہیں ہو سکتی!پھر پاکستان نے اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھایا،میرا اور میرے بچوں کا ہاتھ پکڑا،ہم نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پاکستان پائندہ باداور قائد اعظم زندہ باد کے پرجوش نعرے لگائے ، قومی ترانہ پڑھ کر مزار سے باہر آئے۔سب نے باری باری پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملایااور تجدیدِ عہدکرکے ہم لوگ اپنے گھر کو واپس ہوئے (پاکستان پائندہ باد)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved