اَن ہونیاں ہوکر رہیں
  13  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭وہ اَن ہونی بلکہ ان ہونیاں ہو کر رہیں جن کے خدشہ کاان کالموں میں بارباراظہارکیاجارہا تھا۔سابق وزیراعظم کی ریلی دو افراد کی جانیں لے گئی چھ زخمی ہوگئے۔ ایک بچہ گجرات ایک بوڑھا شخص گوجرانوالہ میں چل بسا۔ گجرات میں نہائت ظالمانہ انداز میں سابق وزیراعظم کے شاہی جلوس نے ایک بارہ سالہ بچے کو کچل ڈالا، دوسرا ظلم یہ کہ اس بچے اور اس کے تڑپتے بلکتے والدین سے کسی رسمی ہمدردی کی بجائے یہ تفریحی پِک نِک ڈھول دھمکے کے ساتھ گوجرانوالہ کی طرف چل پڑی تاکہ وہاں سپریم کورٹ کو وہ بچی کھچی گالیاں بھی دی جاسکیں جوابھی تک نہیں دی جاسکیں۔ بچے کے ماں باپ تڑپتے رہ گئے ۔ غریب باپ دل کے دورے کے ساتھ بے ہوش ہو کر ہسپتال پہنچ گیا۔ ماں جی ٹی روڈپر پٹخنیاں کھاتی رہ گئی۔ کسی 'عوامی' رہنما نے رک کر اس بلکتی ماں سے دو حرف تعزیت کے بھی ادا کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی، بلکہ بے حسی کی انتہایہ کہ اتفاقیہ شریف خاندان کا داماد بن جانے والے کیپٹن ( ر) صفدر نے زخموں پر نمک چھڑکا کہ کیا ہوا ایک بچہ شہید ہو گیا،1947ء میں سات لاکھ افراد شہید ہوگئے تھے! استغفار! لاحول ولا قوةاللہ با اللہ! ان سات لاکھ شہداء میں میرا نصف خاندان بھی شامل تھا۔ اس لیے اس جاہلانہ ہر زہ سرائی کا جواب دینا میرا حق ہے کہ ان سات لاکھ افراد کو تو غیر مسلم کافروں نے شہید کیا تھا، لالہ موسیٰ اس غریب معصوم بارہ سالہ بچے کو کن کافروں نے شہید کیاہے؟ انسان جہالت کا مرکب ہو ،عقل و شعور سے عاری ہوتو اس کا کیا ذکر کیاجائے؟۔ کیپٹن (ر) صفدر! تم نے میرے خاندان سمیت سات لاکھ شہداء کی تذلیل کی ہے ۔یہ جسارت ناقابل معافی ہے! یہ بچہ ایک غریب کا نہ ہوتا، تمہارا اپنا یا کسی ' شریف ' خاندان ہوتا تو کیا تب بھی تم اسی طرح فضول گوئی کرتے؟ ٭اور کیا بے رحمانہ بے حسی ہے کہ اس احتجاجی قافلہ کی ایک گاڑی کے نیچے ایک 12سالہ بچہ شہید ہوگیا تو یہ ریلی وہیں ختم ہو جانی چاہیے تھی، مگر بھنگڑے ڈالنے والوں کاقافلہ رکا نہیں، بچے اوراس کے روتے پیٹتے والدین کو سڑک پر چھوڑ کر گجرات کی جلسہ گاہ میں پہنچ گئے۔ جہاں سابق وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو جی بھر کر گالی نما سخت باتیں سنائیں، عوام سے ججوں سے انتقام لینے کا حلف لیامگر اپنی طویل بے قابو جوشیلی تقریر میں ایک بار بھی اس شہید بچے کے المناک واقعہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اسی عالم میں یہ جلوس گوجرانوالہ پہنچا تو بے تحاشا آتش بازی کا مظاہرہ کیاگیا۔ میں سابق وزیراعظم کے جلوس پر ایک غریب بچے کی المناک موت پرفرد جرم عائد کرتاہوں۔ ٭اب چھاج بولے تو بولے، چھلنی کیابولے جس میں نوسو(900) چھید؟ جمعہ جمعہ آٹھ دن سے سیاست میں آئے ہوئے نو عمر بلاول زرداری نے ایک معصوم بچے کی ہلاکت پر تو مخالف ن لیگ پر تبرا بھیجنا ضروری سمجھا مگر اس کے اپنے کراچی میں ایک ہسپتال کے دورے کے موقع پر اس کے پروٹوکول اور سکیورٹی کے نام پر ہسپتال میں جانے سے روکنے پرایک معصوم مریض بچی جس طرح سڑک کنارے تڑپتی ہوئی اپنے باپ کے بازوؤں میں دم توڑ گئی تھی، وہ دل خراش بات اسے یاد نہ رہی! اور پھر نعرہ کہ میرا باپ اس بار پھر اقتدار میں آئے گا! حکومت کی اگلی باری آصف زرداری کی ہے۔ برخوردار اپنے والد صاحب سے پوچھ کر یہ تو بتاؤ کہ اگلی بار حکومت میں آنے کے بعد قومی اسمبلی کااجلاس کیا دبئی میں ہوا کرے گا یا فرانس والے محل میں جہاں داد ا جان حاکم علی زرداری نے آخری دن گزارے تھے؟ ٭خبر بتارہی ہے کہ میاں نوازشریف نے راولپنڈی کے حلقہ 56 این اے کا 2018ء کے لیے ٹکٹ چودھری تنویر خاں کے بیٹے بیرسٹر دانیال چودھری کودے دیا ہے۔ یہ راولپنڈی میں حنیف عباسی اور شیخ رشید کا حلقہ ہے۔ خبروں کے مطابق حنیف عباسی راولپنڈی میں میاں نوازشریف کے استقبال کے لیے زیادہ لوگ جمع نہ کرسکے تھے جب کہ بیرسٹر دانیال چودھری نے میاں نوازشریف کے سفر کے لیے پونے دو کروڑ روپے سے اعلیٰ درجے کا انتہائی پرتعیش کنٹینر تیار کرایا اور اسے میاں نوازشریف کو تحفہ میں دے دیا! یہ خبریں سچ ہیں تو اسی کے معنی یہ ہوں گے کہ انتخاب کے لیے ن لیگ کی ایک ٹکٹ کی کم ازکم قیمت پونے دو کروڑ روپے ہوسکتی ہے۔ قومی اسمبلی میں342 اور پنجاب اسمبلی میں 371 نشستیں ہیں۔ قارئین خود جمع تفریق کر لیں۔ مگر یہ ہر پارٹی کا طریقہ ہے۔ بڑی پارٹیاں اسی طرح کروڑوں بلکہ اربوں کماتی ہیں۔ بلاول زرداری نے ایسے ہی اعلان نہیں کیا کہ پیپلز پارٹی انتخابات کے لیے تیارہے۔ تحریک انصاف کی ٹکٹیں بھی بلامعاوضہ یا سستی نہیں ہوتیں۔ انتخابات ان پارٹیوں کے لیے آسمانی نعمت بن کر آتے ہیں۔ ٭بیگم کلثوم نواز باقاعدہ طورپر لاہور 120این اے میں امیدوار بن گئیں ۔ان کامقابلہ تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد سے ہوگا۔ ویسے17دوسرے افراد نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہیں ان میں پیپلز پارٹی کے فیصل میر بھی ہیں۔ بہت سے لوگوں نے یہ نام پہلی بار سناہے۔ ایک تیسری خاتون ساجدہ میر پیپلز پارٹی ناہید خاں گروپ کی امیدوار ہیں۔ یہ بات عام لوگوں کو معلوم نہیں ہوگی کہ کلثوم نواز نے اُردو ادیبات میں ڈاکٹریٹ کررکھی ہے گویا اب اصل مقابلہ دو ڈاکٹر خواتین کے درمیان ہوگا۔ انتخابات 17 ستمبر کوہوں گے۔ ٭ینگ ڈاکٹروں کے مافیا کی مریض دشمن ہڑتال 11ویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔اطلاعات کے مطابق پچھلے تین روز میں علاج نہ ہوسکنے کے باعث فیصل آباد کے ہسپتالوں میں9 مریض جاں بحق ہو گئے۔ لاہور میں پہلے روز ہی ایک خاتون چل بسی تھی۔ اس مافیا کو خون کا چسکا لگ چکا ہے۔ انتہائی بے حس لوگ کس ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ دعویٰ کررہے ہیں کہ ہم نے عوام کی فلاح کے لیے ہڑتال کررکھی ہے۔ صوبائی محکمہ صحت نے اب تک82 ہڑتالی ڈاکٹروں کی برطرفیوں کااعلان کیا ہے۔ اس قسم کے رسمی اعلانات ان ظالم لوگوں کی پچھلی سات آٹھ ہڑتالوں پر بھی کئے جاتے رہے۔ ہمیشہ کی طرح اس باربھی محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اس عوام دشمن مافیا کے سامنے جھک جائیں گے، ان کے سارے مطالبات تسلیم کرکے ساری برطرفیاں بحال کردیں گے اور یہ سفاک لوگ پھر سے کسی اگلی ہڑتال کی تیاریاں شروع کردیں گے۔ محکمہ صحت تو خود ان خونخوار لوگوں کا ساتھی بنا ہواہے۔ کوئی واقعی انسان دوست محکمہ ہوتا تو پہلے روز ہی تمام ہڑتالی افراد کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جاتا اور ان کے خلاف دہشت گردی اور مریضوں کے قتل کے مقدمے درج ہو جاتے مگر! یہ سارے لوگ خود انہی حکام اور سینئر ڈاکٹروں کے اپنے چشم چراغ ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی کون اور کیسے کرے گا؟ ٭سابق وزیراعظم نے ایک بہت دلچسپ بات کہی ہے کہ ''میں ایک معصوم آدمی تھا'' ( اب نہیں ہوں!)؟ مجھے معصوم لوگوں کی بہت سی کہانیاں یاد آگئیں۔ شہزادہ جہانگیر نے ایک کنیز کے دونوں ہاتھوں میں دو کبوتر پکڑائے کہ پکڑ کر رکھو ، ابھی آتا ہوں۔ اس کے ہاتھ سے ایک کبوتر اُڑ گیا ۔ جہانگیر نے پوچھا کہ کیسے اُ ڑ گیا ؟ کنیز نے بڑی معصومیت کے ساتھ دوسرا کبوتر چھوڑ کر کہا، ایسے! اس معصومیت نے اسے نور جہاں کے نام سے ملکہ ہند کے تخت پر بٹھا دیااور ہمارے ایک وزیراعظم کی معصومیت نے اُسے تخت سے اتاردیا! تاریخ کیسے کیسے رنگ بدلتی ہے!! ٭ضلع باغ کے گاؤں ملوٹ(MALOT) کے ایڈفاؤنڈیشن سکول کی دسویں کی بچی زریاب منور نے میر پور کے تعلیمی بورڈ کے امتحان میں (1082) نمبر لے کر پورے بورڈ میں اوّل پوزیشن حاصل کی ہے۔ پورے علاقے کی طرف سے مبارکباد شائع کردیں۔ کبیر احمد اشرفی مانگ باجری ضلع باغ (0346-5417033)۔ ( کبیر احمد اشرفی صاحب ۔ اس بچی کو صرف باغ کے علاقے سے ہی نہیں، اخبار کے تمام بے شمار قارئین کی طرف سے بھی مبارک باد دیں۔ ایسے بچے قوم کے جگمگا تے ستارے ہیں جو اندھیروں میں بھٹکے ہوؤں کو روشنی دکھاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ زریاب منور کو مزید اعلیٰ کامیابیاں عطا فرمائے۔ اس کے سکول کے اساتذہ اور پرنسپل کو بھی مبارکباد پہنچا دیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے حقیقی معمار تو یہی قابل قدر لوگ ہیں۔ ان سب کو بے حد مبارک باد!)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved