'' نواز جی ٹی روڈ کے وزیر اعظم ہیں''۔ بینظیر بھٹو
  16  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

1988 سے1999 تک کے گیارہ سال محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا عرصہ تھا، جس میں دونوں سیاست دانوں نے دو دو بار وزارت عظمی سنبھالی اور ہر بار حکومت سے بر طرف ہوئے۔ نواز شریف نے سیاست پاکستان کے بد ترین ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کی گود میں بیٹھ کر سیکھی جبکہ بے نظیر بھٹّو کی تربیت ان کے والد ذو الفقار علی بھٹّو نے کی۔ یہ فرق ہر ہر لمحہ ان دونوں سیاست دانوں کی سیاست اور سیاسی اعمال سے ظاہر ہوتا رہا، بینظیر اپنے نام کے عین مطابق تھیں۔ ان کا سیاسی تدّبر اور وژن ان کے اقوال و اعمال سے مسلسل عیاں ہوتا رہا۔ اس کے بر عکس نواز شریف پہلے بھی اور آج تک کنویں کے مینڈک کی طرح اپنے محدود ذہنی خیالات سے باہر نہ آسکے۔ وہ آج بھی وہی نواز ہیں جس نے زندگی کی ابتداء لاہور کی گوالمنڈی کی ایک چھوٹی سی لوہار کی بھٹی سے کی تھی، انسانی تاریخ ان لیڈروں سے بھری پڑی ہے جن کی پیدائش اور نشوونما انتہائی غربت اور کسمپرسی کے عالم میں ہوئی مگر ان کی دماغی صلاحیتوں نے ان کو کہاں سے کہاں سے پہنچادیا۔ ابراہم لنکن کی پیدائش ایک لکڑی کے کیبن میں ہوئی جوآج بھی موجود ہے۔ وہ امریکہ کے آج تک ہونے والے صدور میں سب سے عظیم صدر مانا جاتا ہے، جوزف اسٹالن ایک موچی کے گھر پیدا ہوا اور اس نے ہٹلر کے روس پر حملے کو نہ صرف روکا بلکہ ہٹلر کی نازی فوج کو تہس نہس کردیا، تمام مورّخ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ہٹلر نے روس کی بجائے انگلینڈ پر حملہ کیا ہوتا تو انسانی تاریخ بالکل ہی مختلف ہوتی۔ بے نظیر بھٹّو نے حزب اختلاف کی لیڈر کی حیثیت میں نواز شریف کی سیاسی سوجھ بوجھ اور ذہنی اُپچ کو اس ایک تاریخی جملے میں سمودیاتھا کہ'' نواز جی ٹی روڈ کے وزیر اعظم ہیں'' وضاحت کرتے ہوئے بی بی نے کہا کہ نواز شریف کی سوچ سینٹرل پنجاب سے باہر نہیں جاسکتی، حقیقتاً انہیں پاکستان کے دوسرے علاقوں اور صوبوں کا نہ پتہ ہے اور نہ وہ ان علاقوں اور صوبوں میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔ حیرت ہے کہ بے نظیر کے دو دہائیاں پہلے کہے گئے الفاظ آج بھی ایک کڑوا سچ اور تلخ حقیقت بن کر پاکستان کی تاریخ کے صفحات پر اسی طرح واضح اور روشن تحریر بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ سیاسی ہڑ بونگ پر تبصرہ کرنے سے پہلے میں قارئین کو یاد دلانا چاہوں گا، کہ نواز شریف کی پہلی دو حکومتوں کے بر طرف کئے جانے کے بعد بھی انھوں نے اسی طرح پنجاب کارڈ کھیلا اور'' جاگ پنجابی جاگ۔ تیری پگ نُوں لگ گیا داغ'' کے نعرے ایجاد اور استعمال کئے تھے، حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف نے کرپشن اپنی پنجاب کی حکمرانی سے ہی شروع کردی تھی، وزیر خزانہ پنجاب دو بار وزیر اعلیٰ پنجاب کی سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے وہ تین بار وزرات عظمیٰ کے عہدہ عالیہ پر پہنچے اور ہر اسٹیج پر کرپشن کئی کئی گناہ بڑھتی گئی، اس بار بھی انھوں نے پنجاب کارڈ کھیلتے ہوئے سیاست سے نا اہل قرار دئیے جانے کے باوجود بے نظیر بھٹّو کے لاثانی الفاظ کو نہ محسوس کرتے ہوئے پھر صحیح ثابت کردیا اور بزعم خود اپنی سیاست کے مردہ جسم میں جان ڈالنے کیلئے جی ٹی روڈ کا ہی انتخاب کیا۔ اسلام آباد سے لاہور کے اس چار روزہ سفر میں نواز شریف نے جس قدر زیادہ اور متواتر جھوٹ بولا اس کی ہماری سیاسی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اس ڈرامے کا عروج ان کا لاہور کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان تھا کہ وہ ملک میں انقلاب لائیں گے، اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ اس انقلاب کے خدو خال کیا ہوں گے کیوں کہ اس کا پتہ انقلاب کا اعلان کرنے والے کو بھی نہیں ہے، مگر ایک بات تو طے ہے کہ انقلاب فرانس، انقلاب روس، اور ابھی حالیہ انقلاب ایران کے مطابق میاں صاحب کو اپنے محلات و جائیدادوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے اور اپنے بے انداز ڈالروں، پائونڈ اور ریال سے بھی پیچھا چھڑانا ہوگا کیوں کہ انقلاب کی پہلی شرط ہے کہ انقلابی لیڈر اپنے کیڈر کو اسی وقت آگے بڑھاسکتا ہے جب وہ مائوزے تنگ کی طرح وہی پہنے جو اس کے پیچھے چلنے والے پہنتے ہیں وہی کھائے وہی پیئے جو اس کے ساتھ کھاتے اور پہنتے ہیں اُن ہی کی طرح رات زمین پر سوکر گزارے اور دن بھر ان ہی کی طرح پھٹے جوتوں کے ساتھ لانگ مارچ کرے، میاں صاحب انقلاب اپنے حواریوں کے آگے نعرہ لگانے کا نام نہیں اس کیلئے سچ بولنا پڑتا ہے اور سچ سننا پڑتا ہے اور سچ یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے آپ کو جھوٹ بولنے اور غیر امانت دار ہونے کی بناء پر چلتا کیا ہے۔ رہا آپ کا یہ سوال کہ میری کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، تو قبلہ! وہ تو اگلا اسٹیج ہے،NAB میں دائر ہونے والے کیسز کا اسٹیج اور نیب کی عدالتوں کا اسٹیج۔ یہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ عدالت عظمیٰInvestigation ادارہ نہیں۔ یہ کام نیب ایمانداری سے کرے تو دنیامیں پھیلے آپ کے متعدد اکائونٹ، درجنوں سے زیادہ عظیم الشان جائیدادیں اور کئی آف شور کمپنیاں سامنے آسکتی ہیں۔ جن میں وہ آف شور کمپنی بھی شامل ہے جس کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں آپ شامل تھے اور جو منی لانڈرنگ کا بڑا ذریعہ تھی اور جس کے متعلق آپ عوام سے مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں کہ'' مجھے عدالت نے اس لئے نکال دیا ہے کہ میں بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لیتا تھا''میاں صاحب! شکر کریں کہ ابھی تو آپ کی متعدد فیکٹریوں میں کام کرنے والے اسٹاف کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں ورنہ بات آرٹیکل62-63 سے بہت آگے نکل جائے گی۔

قارئین! میں نے آپ کو دیگ سے نکال کر ایک دانہ ہی چھکایا ہے، اگر پوری دیگ آپ کے سامنے اُلٹ دوں تو آپ کو ناک پر رومال رکھنا پڑے گا۔ یہ ہیں آپ کے'' لیڈر'' جو اپنے کرتُوتوں کے پکڑے جانے پر دستور توڑنے اور انقلاب لانے کی چیخیں مارتے ہیں۔ ان کیلئے یہ پاک سرزمین، یہ سونہی دھرتی صرف لوٹ کھسوٹ کرنے کیلئے ہے کسی نے ہاتھ پکڑا تو یہ اس ملک کو ہی خاکم بدہن نیست ونابود کردیں گے، اور یوں بھی نواز شریف کیلئے تو یہ ملک بقول بے نظیر بھٹّو کے صرف جی ٹی روڈ ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved