عید الاضحی کے موقع پر برما کے مظلوم مسلمانوں کی اپیل
  17  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

چودہ اگست کو اہل پاکستان نے اور پندرہ اگست کو انڈیا کے باشندوں نے یوم آزادی منایا کہ اس دن انہیں فرنگی استعمار سے آزادی ملی تھی۔ مگر اسی خطہ کے دو کونوں کے لاکھوں عوام ابھی آزادی کو ترس رہے ہیں اور اس کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ کشمیر کے باشندوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا جو ابھی تک تشنہ تکمیل ہے۔ جبکہ اراکان (برما) کے باشندوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں بھی پاکستان کا حصہ بنایا جائے اور اس کے بعد سے وہ مسلسل اس معصوم خواہش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ جموں و کشمیر اور اراکان دونوں خطوں کے مظلوم مسلمان ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں اور یوم آزادی منانے والوں سے ان کا سوال ہے کہ ہماری آزادی کا فیصلہ کب ہوگا اور ہم کب جبر و تشدد کے ماحول سے آزاد ہو کر آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے؟ اس پس منظر میں اراکانی مسلمانوں کی داستانِ غم اور اپیل ان کے ایک نمائندہ مولانا عبد القدوس برمی کے قلم سے ملاحظہ فرمائیے۔ چھتیس ہزار مربع پر مشتمل خطہ ارکان 1784 تک ایک آزاد اسلامی ملک تھا جس پر برمی راجہ بود و پھیہ نے قبضہ کیا اور اسے برما (میانمار) میں ضم کر دیا، جو کہ اب برما کے سات صوبوں میں سے ایک اہم صوبہ ہے جہاں ستر فیصد مسلمان آباد ہیں۔ چونکہ یہ ایک اسلامی ملک تھا اور اکثریت مسلمانوں کی ہے اس لیے برمی حکومت نے شروع دن سے ہی یہاں کے مسلمانوں کو مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرنے، ان کا قتل عام اور نسل کشی کرنے، ان پر ظلم و ستم ڈھانے اور ان کو ملک سے بے دخل کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھی ہے۔ نہ جانے اس دوران ان اراکانی مسلمانوں نے کتنی دفعہ پڑوسی ملک کی طرف ہجرت کی اور کتنے شہید ہوئے۔ صرف 1991 میں پانچ لاکھ اراکانی مسلمانوں نے بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کی جن میں سے اب بھی تین لاکھ روہنگیا اراکانی مہاجرین محسنی کیمپ اور کتوپلنگ کیمپ وغیرہ میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 3 جون 2012 میں برمی حکومت نے پھر روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا جو تاحال وقتا فوقتا اندرونی طور پر جاری ہے۔ اس دوران کم و بیش ایک لاکھ اراکانی مسلمان شہید ہوئے، تین لاکھ بے گھر ہوئے اور پندرہ لاکھ اراکانی مسلمان متاثر ہوئے۔ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم و محبوس لاکھوں روہنگیا مہاجرین اور اندرون اراکان موجودہ روہنگیا مسلمان کیسی غلامانہ و مظلومانہ زندگی گزار رہے ہیں، اس کی مثال پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔ اس لیے بعض مبصرین نے لکھا ہے کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ستائی ہوئی قوم اراکانی روہنگیا مسلمان ہیں۔ اراکانی مسلمانوں کی یہ سلگتی بستیاں، کٹتی لاشیں، مسلم عورتوں کی لٹتی عزتیں، انگاروں پر تڑپتے شیر خوار بچوں کے نازک جسم، نوجوانوں کو چن چن کر مارنے کے ہولناک طریقے، بے یار و مددگار بیچ سمندر میں پڑے مسلمان جن کی صدائیں اپنے ان مسلمان بھائیوں کے نام ہیں جنہیں اللہ تعالی نے آزادی جیسی نعمت سے نوازا۔

لہٰذا (اس صورت حال میں تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ) عید الاضحی کے مبارک موقع پر ان مظلوم اراکانی مسلمانوں کو یاد رکھیں اور اراکانی مسلمانوں کے کیمپوں اور اندرون اراکان کے متاثرین کے لیے اپنی قربانی کے حصے بھیجیں تاکہ انہیں بھی بھوک و افلاس کی بدترین گھڑیوں میں کچھ گوشت کھانے کو مل سکے۔ ان مظلوم و مقہور مسلمانوں اور مہاجرین کی ہر ممکن مدد کریں۔ جمعی خالد بن ولید الخیریہ اراکان گزشتہ انتیس سال سے اکابر و مستند علما و مشائخ کی نگرانی میں خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ ان مظلوم اراکان مہاجرین کو گوشت کھانا تو دور کی بات ہے انہیں تو پیٹ بھر کر کھانا بھی میسر نہیں۔ آپ سے پرزور اپیل ہے کہ حسب سابق اس سال بھی بکرے، گائے اور قربانی کے حصے خالد بن ولید الخیریہ کے توسط سے وہاں بھیج کر ان مظلوم مسلمانوں کو بھی میزبانی رحمان میں شریک کریں۔ امید ہے کہ آپ اس اجتماعی قربانی (وقف) میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور ان بے یار و مددگار اراکانی مہاجرین و متاثرین کو ضیافت ربانی اور عید کی خوشی میں شامل کریں گے اور قربانی سمیت ہر ممکن تعاون کر کے ان کی حوصلہ افزائی کریں گے، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved