دینی مدارس کو غیر موثر بنانے کیلئے سرکاری اقدامات
  20  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالیں دینی مدارس کا ایک بڑا ذریعہ آمدن ہوتی ہیں مگر گزشتہ چند سالوں سے مختلف علاقوں میں دینی مدارس پر یہ ناجائز قدغن عائد کر دی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کی طرف سے باقاعدہ اجازت نامہ کے بغیر یہ کھالیں وصول نہیں کر سکتے۔ حالانکہ قربانی کی کھال اگر کھال ہی کی شکل میں دی جائے تو وہ قربانی کے باقی گوشت کی طرح ہدیہ ہوتی ہے، قربانی کرنے والے کی ذاتی مرضی ہے کہ وہ جس کو چاہے دے۔ گویا یہ پابندی قربانی کرنے والوں پر عائد کی جا رہی ہے کہ وہ قربانی کے جانور کا کوئی حصہ سرکاری افسر کی مرضی کے بغیر کسی کو نہیں دے سکتے۔ یا قربانی کے گوشت یا پائے وغیرہ وصول کرنے والوں کو پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی گھر سے قربانی کے جانور کا گوشت یا پائے وغیرہ حاصل کرنے سے پہلے ڈپٹی کمشنر صاحب سے اجازت نامہ لیں۔ اسی طرح اب حکومت پنجاب چیریٹی ایکٹ کے نام سے ایک قانون لا رہی ہے کہ کوئی شخص زکوٰة بھی سرکاری اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دے سکے گا۔ جبکہ زکوٰة صدقات کے بارے میں قران کریم کا ارشاد ہے کہ وہ ظاہر کر کے بھی دیئے جا سکتے ہیں مگر وان تخفوھا وتوتوھا الفقرا فھو خیر لکم کہ چھپا کر مستحقین کو دینا زیادہ بہتر ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زکوٰة صدقات کے بارے میں فرمان ہے کہ لا تعلم شمالہ ما تنفق یمینہ کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان نے اپنے دور خلافت میں اموال ظاہرہ اور اموال باطنہ کا فرق قائم کر کے اموال باطنہ کی زکو ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق کہیں بھی خرچ کرنے کا حق دے دیا تھا جو آج تک امت میں اجماعی طور پر چلا آرہا ہے۔ اموال باطنہ سے مراد کسی بھی شخص کی وہ دولت ہے جو سرکل میں نہیں ہے اور وہ اسے اپنے محفوظ اثاثے کے طور پر بچا کر رکھے ہوئے ہے۔ اس حکم کا بنیادی مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی شخص کے ذاتی اور محفوظ اثاثوں میں زکو کی وصولی کے نام پر سرکاری افسران کو مداخلت کے حق دینے سے اس کی سیکریسی مجروح ہوتی ہے جس کا تحفظ اس کے حقوق میں شمار ہوتا ہے۔ پھر نماز کی طرح زکوٰة ایک عبادت ہے اور قرآن کریم نے دونوں کو جابجا اکٹھے ذکر کیا ہے۔ زکوٰة کی ادائیگی کو سرکاری اجازت نامے پر موقوف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کل نمازیوں کی فہرست مرتب کرنے کے لیے بھی کوئی محکمہ قائم کر دیا جائے گا اور اس کی ادائیگی کے لیے این او سی کا حصول ضروری قرار دے دیا جائے گا۔ مگر ہمارے افسران کرام کو اس مجوزہ چیریٹی ایکٹ کی شرعی نزاکتوں اور معاشرتی اثرات سے کوئی غرض نہیں، ان کا مقصد تو دینی مدارس کے ذرائع آمدنی کو کنٹرول کرنا ہے اور دینی مدارس کے خلاف بین الاقوامی اداروں کے حکم کی تعمیل کرنی ہے جس کے لیے وہ ہر وقت تیار ہیں۔ لیکن کیا اس قسم کے اقدامات سے یہ مقصد حل ہو جائے گا؟ یہ بات بجائے خود محل نظر ہے۔ اس سلسلہ میں دو ذاتی مشاہدے عرض کرنا چاہوں گا۔ ابھی چند روز قبل جوہر ٹائون لاہور کے مدرسہ مفتاح العلوم میں نئے تعمیر ہونے والے قرآن ہال کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، میں نے مدرسہ کے منتظمین سے قرآن ہال کی تعمیر کے اخراجات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایک صاحب خیر نے یہ ہال خود تعمیر کرا کے دیا ہے اور وہ اپنا نام ظاہر کرنے کو پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح ہمارے گوجرانوالہ کے ایک دوست اسلام آباد میں سرکاری افسر تھے جن کا انتقال ہوگیا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے، آمین۔ وہ دیگر مدارس کی خدمت کے ساتھ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے مدرسہ کو بھی دس ہزار روپے سالانہ دیا کرتے تھے جس کی انہیں رسید دی جاتی تھی۔ گزشتہ رمضان المبارک میں ان کے بھانجے نے دس کی بجائے بیس ہزار روپے دیے اور بتایا کہ ماموں نے بھجوائے ہیں اور کہا ہے کہ اس کی رسید نہیں کاٹنی۔

چنانچہ ہماری بیوروکریسی کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ان کے اس چیریٹی بل کا مدارس کے نظام پر کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا کہ جس نے مدرسہ کو رقم دینی ہے اس نے بہرحال دینی ہے، البتہ وہ احتیاط کے پیش نظر اپنے نام کی رسید نہیں کاٹنے دے گا۔ لیکن اس سے دینی مدارس کو ریگولرائز کرنے اور ان کے حسابات کو چیکنگ کے دائرے میں لانے کے سرکاری منصوبے غیر موثر ہو جائیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ عام المسلمین اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں اور ان کے دلوں میں دینی تعلیم کی ضرورت کا احساس دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے جس کے لیے دینی مدارس کے علاوہ اور کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ اس لیے جب تک دینی مدارس کی یہ معاشرتی ضرورت برقرار رہے گی ان کے ساتھ عوام الناس کے تعاون کا سلسلہ بھی برقرار رہے گا، اور ہماری سرکار کے ذریعے سے کیے جانے والے بین الاقوامی اقدام وقتی اور ناپائیدار ثابت ہوتے رہیں گے۔ لہذا بیوروکریسی کے افسران کو اتنی بات تو ضرور سمجھ لینی چاہیے کہ زکوٰة ایک عبادت ہے اور عبادت کے لیے کسی سرکاری افسر کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی کہ جناب والا! مجھے یہ عبادت کتنی، کب اور کہاں ادا کرنی ہے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved