انگریز کا باغی... سید عطاء اللہ شاہ بخاری
  22  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

وہ 2ستمبر1892ء میں پیدا ہوئے اور 21اگست1961ء کو اس جہان فانی سے دارابقاء کی طرف ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کوچ کر گئے...لیکن تب سے لے کر آج تک ... ان کی برابری کا دعویدار کوئی دوسرا پیدا نہ ہوسکا... تم چراغ ہاتھوں میں تھامے شہروں سے جنگل بیابانوں اور دنیا کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک چلے جائو... تم علم کے سمندروں کی طرف نکل جائو... تقویٰ و طہارت کے پہاڑوں کو کنگھال ڈالو... تم بہادر خطیبوں کی تاریخ نکال لائو۔ تمہیں امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسا کوئی ایک مرد قلندر بھی نہیں ملے گا کہ جو علم و خطابت' جرات و بہادری' تقویٰ وجہاد کا حسین امتزاج ہو...آج 2017ء کا دور کہ جس دور میں ہم سب زندہ ہیں... ہمارے حکمرانوں' سیاستدانوں اور سیکولر دانش چوروں کا جن انگریزوں کے خوف سے پتہ پانی ہو جاتا ہے... آج سے اسی سال قبل... یہی انگریز حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی للکار سے تھرایا کرتے تھے... وہ ''دور'' ایسا تھا کہ جس دور میں فرنگی سامراج کی سلطنت کا سورج غروب ہی نہیں ہوا کرتا تھا... اور آج ... فرنگی کا سورج طلوع ہونے کا نام ہی نہیں لیتا 'لیکن اس ظالم' جابر اور غاصب فرنگی سامراج کے مقابلے کے لئے اللہ نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو پیدا فرمایا... انگریز اور اس کے خود کاشتہ پودا قادیان کا مرزا غلام احمد قادیانی ملعون... تو خاتم الانبیائۖ کی ختم نبوت کے تاج میں نقب لگانے کے درپہ تھے... مگر سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے صرف قادیان کے غلیظ بدمعاشوں کو ہی نہیں... بلکہ ہندوستان کے حکمران انگریز سرکار کو بھی ایسے ناکوں چنے چبوا ئے ... کہ انہیں چھٹی کا دودھ یاد آگیا۔ وہ ''دور'' ایسا تھا کہ جس دور میں انگریز سرکار مسلمانوں میں گھسے ہوئے اپنے مالشیوں کو ''سر'' کے خطابات سے نوازا کرتی تھی... سید عطاء اللہ شاہ بخاری تو انگریز کے باغی خطیب تھے... سید عطاء اللہ شاہ بخاری تو فرنگی کے دشمن تھے... اس لئے سرکاری ''خطاب'' کی نہ خواہش تھی اور نہ توقع۔ لیکن پھر قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ ... برصغیر کی تاریخ کا یہ عظیم مرد قلندر ابھی صرف اڑتیس سال کا ہی ہوا تھا... کہ جب دنیا اسلام کے عظیم شیخ الحدیث حضرت اقدس سید انور شاہ کاشمیری کی تجویز پر پانچ سو سے زائد جید علماء کرام اور مشائخ عظام نے ختم نبوتۖ کے محاذ پر ان کو ''امیر شریعت'' تسلیم کرتے ہوئے ان کے دست' حق پرست پر بیعت کرلی۔ کہاں فرنگیوں کا اپنے ''مالشیوں'' کو عطا کردہ ''سر'' کا خطاب... اور کہاں ہندوستان کے جید علماء کرام کی طرف سے عطا کردہ ''امیر شریعت'' کا خطاب... سبحان اللہ... یہ رتبہ بلند جس کو ملنا تھا مل گیا... حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسا ''رجل رشید'' اب کہاں سے آئے گا؟ کہ جن کا احترام مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر میں یکساں طور پر پایا جاتا ہو... وہ تو جہاں ایک طرف حضرت اقدس پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی ' قطب الاقطاب حضرت شاہ عبدالقادر' حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کی چاہتوں اور محبتوں کا مرکز تھے... تو دوسری طرف شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی اور مفتی اعظم مولانا مفتی کفایت اللہ کی آنکھوں کا سرور بھی تھے... مولانا ابوالکلام آزاد' شاعر مشرق علامہ محمد اقبال اور مولانا محمد علی جوہر کی عنایات اور کرمفرمائیاں بھی آپ پہ جاری رہیں۔ امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی شخصیت کردار کے حوالے سے گزشتہ ستر دہائیوں میں بہت کچھ لکھا گیا... اور تاقیامت لکھا جاتا رہے گا ... میں تو آج چاروں طرف کوئی ایسا ڈھونڈ رہا ہوں کہ جس کا احترام اور چاہت مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے دل و دماغ میں یکساں پائی جاتی ہو' جو عقائد و نظریات کے واضح فرق کے باوجود... سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی طرح اعلیٰ ظرفی' تحمل مزاجی' شگفتگی اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض ایک دینی اور قومی رہنما کی حیثیت سے دوسروں کو گلے لگا سکے؟ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری قرآن کے حقیقی قاری اور سچے عاشق رسولۖ تھے... ایسے حقیقی قاری کہ ''قرآن '' جن کے گلے سے نیچے صرف اپنے دل پر ہی نہیں... بلکہ برصغیر کے کروڑوں دلوں پر بھی اثر ڈالا کرتا تھا' میں نے جب پڑھا کہ مولانا ظفر علی خان' مولانا غلام رسول مہر' مولانا عبدالمجید سیالک جیسے کہنہ مشق صحافی ہوں... مولانا غلام قادر 'حفیظ جالندھری' جانباز مرزا' احسان دانش' احمد ندیم قاسمی' سیف الدین سیف' حبیب جالب جیسے شعراء ہوں یا ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر' ڈاکٹر سید محمد عبداللہ' پطرس بخاری' علامہ طالوت اور نسیم حجازی جیسے ادیب ہوں یا کامریڈ رہمنا محمد اشرف' منشی احمد دین ' سبط حسن اور عبداللہ ملک ہوں... یہ سب امیر شریعت کی محفلوں میں شریک رہتے تھے... تو دل سے بے اختیار نکلتا ہے... کہ تجھے کہاں سے ڈھونڈیں؟ تجھ سا کہاں سے لائیں؟ آج تو خطابت کے آسمان پر چمکتا ہی وہ ہے کہ جو دوسرے مسلک کو منہ بھر بھر کر گالیاں دینے اور دوسرے مسالک کے اکابرین پر الزامات کی بھرمار کرنے کا عادی ہو؟ آج تو خطیب پاکستان' خطیب اسلام' خطیب فلاں اینڈ فلاں ' شیر اسلام... کہا ہی اسے جاتا ہے کہ جو فرقہ واریت پھیلانے میں سب سے زیادہ منہ زور ہو۔ کسی ایک مسلک کے خطیب ''اعظم'' کے نزدیک دوسرے مسالک کے افراد کھڑا ہونا یا بیٹھنا تو درکنار... اگر نظر بھی آجائیں تو... فوراً اس ''خطیب اعظم'' کو جان کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ایک ایسے سچے اور بہادر داعی تھے کہ جنہوں نے امت کے تمام طبقات کو جوڑ کر... فرنگی سامراج اور ختم نبوتۖ کے دشمن قادیانی دجالوں کے مدمقابل لاکھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کیا... ابن امیر شریعت حضرت سید عطاء المحسن شاہ بخاری نور اللہ مرقدہ کی زیرصدارت اس خاکسار کو کئی کانفرنسوں میں خطاب کی سعادت حاصل ہوئی... وہ جب دوران خطاب تلاوت کیا کرتے تھے۔

ہم سننے والوں پر اک وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی... ان کے رعب حسن کے سامنے کس میں دم مارنے کی مجال تھی؟ مگر ایک دفعہ اس خاکسار نے ... جرات کرکے کہہ ہی ڈالا... کہ حضرت ! اگر آپ کی تلاوت دلوں پر وجد طاری کر دیتی ہے' تو آپ کے سربلند بابا امیر شریعت جب انسانی سمندروں سے خطاب فرمایا کرتے تھے... تب کیا حال ہوگا؟ سید عطاء المحسن نوراللہ مرقدہ نے میری بات کو غور سے سنا اور فرمایا کہ یہ سب قرآن کا اعجاز ہے' ''قرآن'' اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کی ... محبت انسانوں کے دلوں میں اتار دیا کرتا ہے۔ اس عاجز! کا انگریز کے باغی خطیب اور ختم نبوتۖ کے عظیم داعی سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی مرقد پہ سلام پہنچے کہ جنہوں نے اپنی ساری زندگی عشق مصطفیۖ کی دولت بانٹتے ہوئے گزار دی ۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طنیت را


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
50%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved