یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت
  23  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) برطانوی استعمار سے آزادی اور پاکستان کا قیام دونوں مستقل نعمتیں ہیں جو اللہ تعالی نے ہمیں ایک ساتھ عطا فرمائیں مگر ہم نے ان کی قدر نہیں کی اور آج ہم قومی سطح پر جس خلفشار اور باہمی بے اعتمادی کا شکار ہیں وہ اسی ناقدری و ناشکری کا نتیجہ نظر آتا ہے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر تم میری نعمتوں پر شکر ادا کرو گے تو میں نعمتوں میں اضافہ کروں گا، لیکن اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ ہماری آج کی عمومی صورتحال یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالی ہم سے راضی نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالی راضی ہوں تو ہمارا یہ حال نہ ہو۔ اس لیے ہمیں اپنی اجتماعی کوتاہیوں پر توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے اور قومی طور پر معافی مانگتے ہوئے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ یوم آزادی کا ہمارے لیے یہی سب سے بڑا پیغام ہے۔ پاکستان کے قیام کے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ تحریک پاکستان کے قائدین خاص طور پر قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے قیام پاکستان سے قبل اپنی عوامی تقریروں میں اسلام، نظریہ پاکستان اور قرآن و سنت کی حکمرانی کی جو باتیں کی تھیں وہ مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے تھیں، جبکہ ان کا مقصد کسی نظریاتی اسلامی ریاست کا قیام نہیں تھا۔ یہ بات خلاف واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ قائد اعظم مرحوم اور ان کے رفقا کے بارے میں بدگمانی کا اظہار بھی ہے کہ انہوں نے اسلام کا نام سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔ قائد اعظم مرحوم کو آج کے دور کے ان انتخابی امیدواروں کی صف میں کھڑا کرنا، جو محض عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سیاسی وعدے کرتے ہیں، قائد اعظم کی عزت نہیں بلکہ ان کی توہین ہے۔ لیکن بالفرض ان حلقوں کی یہ بات چند لمحوں کے لیے مان بھی لی جائے کہ تحریک پاکستان کے دوران اسلام کا نام سیاسی نعرے کے طور پر لیا جاتا تھا تو میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر قائد اعظم نے جو تقریر کی تھی وہ کون سی انتخابی تقریر تھی؟ اس تقریر میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ پاکستان کے معاشی نظام کو مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر استوار دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کو فساد اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا، جبکہ اسلامی اصولوں پر مبنی معیشت ہی دنیا کو امن و انصاف فراہم کر سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کی یہ تقریر انتخابی اور سیاسی نہیں بلکہ پالیسی خطاب کی حیثیت رکھتی ہے جس سے پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے بارے میں قائد اعظم کے جذبات و عزائم کے بارے میں بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا قیام اسلامی احکام کی عملداری اور مسلمانوں کے مذہبی امتیاز اور تہذیبی تشخص کے تحفظ کے لیے عمل میں لایا گیا تھا، اس کے علاوہ متحدہ ہندوستان کی تقسیم کا اور کوئی جواز ہی نہیں بنتا تھا۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ صرف مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کا تحفظ اور اسے ہندو تہذیب میں ضم ہونے سے بچانا تھا، اس کا مقصد اسلامی نظام کا نفاذ نہیں تھا۔ میری گزارش یہ ہے کہ بالفرض اگر یہی بات تھی کہ تہذیب و ثقافت کے امتیاز و تشخص کو باقی رکھنے کے لیے الگ ملک حاصل کیا گیا تھا، تو آج مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کو مغربی تہذیب اور ہندو ثقافت کی یلغار سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ لوگ کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ ہماری ملی و علاقائی تہذیب مسلسل مغربی اور ہندو ثقافت کی دوطرفہ یلغار کی زد میں ہے اور سیکولر حضرات اس کا مقابلہ کرنے کی بجائے سرے سے پاکستانی تہذیب کے وجود سے ہی انکار کرتے جا رہے ہیں۔ میں ان حضرات سے عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ لوگ اسلامی نظام کی بات نہیں کرنا چاہتے تو مسلمان قوم کی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کا محاذ ہی سنبھال لیں اور آگے بڑھ کر مغربی اور ہندو تہذیب و ثقافت کی یلغار کا مقابلہ کریں، اسلامی نظام کی بات ہم خود کر لیں گے۔ ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ پاکستان کے نام سے الگ ریاست کے قیام کا اصل مقصد مسلمانوں کا معاشی تحفظ تھا۔ چلیں ہم یہ بات بھی تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ہیں، تو مسلمانوں کو ہندوں کے معاشی غلبہ کے خوف سے نکال کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی معاشی بالادستی کے شکنجے میں جکڑ دینا کونسی قوم پرستی ہے؟ پاکستان بننے کے بعد سے ہم مغرب کے معاشی حصار کا شکار ہیں اور اب اس سے نکل کر مشرق کے معاشی حصار کی طرف بڑھ رہے ہیں، اس کو حب الوطنی اور قومی وقار کا کون سا معیار قرار دیا جائے گا؟ مسلمانوں کے معاشی تحفظ کا مطلب ایک آزاد، خودمختار اور اسلامی معیشت کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ ہم ایک عرصہ سے عالمی استعمار کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہمیں قیام پاکستان کے اصل مقصد کی طرف واپس جانا ہوگا اور اسلامی احکام و قوانین کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ مسلم تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے اعلانات کو مشعلِ راہ بنانا ہوگا۔ اس کے بغیر نہ ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ بنا سکتے ہیں اور نہ ہی قوموں کی برادری میں کوئی باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved