جی ٹی روڈپرآہ وبکا
  24  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں یہ پہلاموقع ہے کہ اقتدارکی سب سے مضبوط کرسی پربراجمان وزیراعظم کوپاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے پانچ معززجج صاحبان نے صفائی کاپوراموقع فراہم کرنے کے بعداپنے متفقہ فیصلے میں امین وصادق کی شرائط پرپورانہ اترنے کے جرم میںنااہل قراردیکر اقتدارسے محروم کرتے ہوئے نیب کودیگرمقدمات میں ریفرنس دائرکرنے کاحکم دے دیاہے لیکن میاں نواز شریف اوران کے بعض مقلدین نہ صرف اس فیصلے پرسخت برہم ہیں بلکہ اس کی مخالفت میں قانون کی پاسداری کے انتہائی بنیادی تقاضوں کی نفی کررہے ہیں۔یادرہے کہ میاں صاحب اسی عدالت عالیہ کی بحالی کیلئے اسی جی ٹی روڈپرایک تاریخی جلوس لیکر اسلام آبادجارہے تھے لیکن جونہی گوجرانوالہ پہنچے تواس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے ٹیلیفون پرعدالت کی بحالی کی نویدسناکرمیاں صاحب کی تحریک کوکامیابی کی سندعطافرمائی اورآج اسی عدالت عالیہ کے احکام کے بعدمیاں صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ چار دن تک سراپااحتجاج کرتے ہوئے اپنے گھرجاتی عمرہ پہنچ گئے ہیں۔ ادھرسینیٹ کے چیئرمین رضاربانی نے کوئٹہ میں ایک سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا''جمہوری قوتوں نے آمرکے خلاف جدوجہدکی اوراٹھاون ٹوبی کوختم کیا،اب ایک اور طریقہ منظرعام پرآگیاہے۔پاکستان فلاحی جمہوری ملک کی بجائے گیریژن اورسیکورٹی اسٹیٹ بن گیاہے۔''اس بیان کے اگلے ہی روزقانون دان عاصمہ جہانگیرنے اسلام آبادمیں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:''جب نوازشریف کونااہل قراردیاگیاتوخیال گزراکہ میاں صاحب کے خلاف ہیروں کی بوریاں نکلیں گی مگران کی نااہلی کاموجب اقامہ نکلا۔اب تک دوسویلین گاڈفادرنکالے جاچکے ہیں۔میں قانون کی بالادستی کے ساتھ ہوں۔کاش کبھی حقیقی مافیاکے خلاف کوئی فیصلہ آتا۔'' یہ امرباعث حیرت ہے اورباعث ملال بھی کہ ان دنوں سیاست دانوں کی نظرمیں ملکی سلامتی نہیں بلکہ جماعت اورجماعتی سیاست کی اہمیت ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اٹھاون ٹوبی اورعدالت عظمیٰ کی طرف سے کئے گئے حق وانصاف پرمبنی فیصلے کویکساں قراردے ڈالا یعنی منتخب حکومتوں کوگھربھیجنے کاذریعہ۔یہ بات عاصمہ جہانگیرصاحبہ نے کی۔مقام حیرت یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پرمعترض حضرات کوکرپشن نظرکیوں نظرنہیں آتی۔عاصمہ جہانگیرکاکہناہے :میں سمجھتی تھی( میاں صاحب کے خلاف ہیروں کی بوریاں نکلیں گی مگران کی نااہلی کاموجب اقامہ نکلا)۔عام سوجھ بوجھ رکھنے والاہرفردوبشریہ سوچنے پرمجبورہے کہ کیاعاصمہ جہانگیرکے درجے کی ماہرقانون اسی چوری کوجرم گردانتی ہیںجس میں ہیرے جواہرات کی بوریاں چرائی گئی ہیں جبکہ دین اسلام اورعام قانون کے مطابق توایک پائی کی چوری بھی جرم ہے اورکروڑوں اربوں روپے چرانے کااقدام بھی چوری ہی کی ذیل میں آتاہے۔اگرمحترمہ عاصمہ جہانگیریہ سمجھتی ہیں کہ نوازشریف کاجرم صرف اقامہ ہے توبراہِ کرم عام آدمی کوبتادیں کہ لندن فلیٹس کی خریداری کیلئے شریف فیملی کے سپوتوں نے رقم کہاں سے حاصل کی تھی؟زیرنظرمقدمہ میں بنیادی سوال تویہی تھاکہ لندن فلیٹس کی قیمت اداکرنے کیلئے رقم کہاں سے لی گئی تھی۔اس کاصاف اورسیدھاجواب یہ تھاکہ میاں نوازشریف اپنی لندن بینک کی اسٹیٹمنٹ عدالت میں پیش کردیتے جس میں اس رقم کی ٹرانسفرکااندراج ہوتاکہ اتنی بڑی رقم کب اورکس ملک سے کس نے ٹرانسفرکی۔عاصمہ بی بی سے بہترکون جان سکتاہے کہ یہ سب اس وقت ہوتاجب یہ رقم کالادھن نہ ہوتی اورقانونی ذرائع سے ٹرانسفرکی جاتی۔ عدالت عالیہ کے فیصلے پرمعترض ہرشخص کواس سال کاجواب دیناہوگاکہ وہ خودغورکرے میاں نوزشریف اوران کے اہل خانہ کے پاس جتنے اثاثے اوردولت ملک میں یابیرونی ممالک میں ہے وہ کن ذرائع سے حاصل کی گئی جبکہ ان کی ملیں خسارہ میں جارہی تھیں اوراگرحسین نوازاورحسن نوازنے اتنی غیرمعمولی ذہانت سے کاروبارکیاتھاکہ بہت ہی کم وقت میں اتنی دولت کمالی تھی کہ لندن فلیٹس خریدلئے اوراپنے والدگرامی کوکروڑوں روپے نقدی تحفے میں بھیج دیئے توایساہوناناممکن نہیں ہوسکتالیکن لندن میں انکم ٹیکس کے قوانین بہت سخت ہیں،وہاں ہرتاجرکواپنی آمدنی کے حساب سے ٹیکس اداکرناہوتاہے ،پھرحسن اورحسین نوازوہاں کی انکم ٹیکس کی رسیدیں ہی دکھادیں جس سے ثابت ہوجائے گاکہ ان کی لندن کی کل جائیداداوران سے ہونے والی آمدن سے وہ اپنے والد کوکروڑوں روپے سالانہ تحائف بھیجتے رہے ہیں ،جن سے ان کے نہ صرف کامیاب تاجرہونے بلکہ یہ ساری جائیداد اسی کاروبارکی مرہون منت ہے اورعدالت عالیہ کے فیصلے کوبھی غلط ثابت کیاجاسکتاہے،لیکن اگرایساکچھ بھی نہ ہوتوپھررقم کہاں سے آئی ؟کے جواب میں والدمرحوم کے کاروبارکی کہانی سنائی جائے کہ انہوں نے کس طرح قطرمیں مل لگائی ،پھراس کوفروخت کرکے بارہ ارب درہم شاہی خاندان کے ساتھ کاروبارمیں لگائے،دبئی میں مل لگائی،جدہ میں لگائی ، پھر ان کوفروخت کرکے لاکھوں ڈالروصول کئے اورمیاں نوازشریف پارلیمنٹ کے فلورپریہ کہیں کہ'' یہ ہیں وہ ذرائع اوروسائل جن سے فلیٹ خریدے گئے اوران کے تمام ثبوت اوردستاویزات موجودہیں جوکسی بھی فورم میں پیش کیے جاسکتے ہیں۔ ''اس کے باوجودکوئی ثبوت یادستاویزات پیش نہ کی جائیں اوراگردوعددجعلی تصدیق شدہ دستاویزات پیش کرکے میڈیامیں اپنے ترجمانوں کی زبان سے فتح کے جھنڈے گاڑنے کااعلان کیاجائے توبحیثیت سینیٹ کے چیئرمین رضاربانی اور قانون دان عاصمہ جہانگیرکیافیصلہ صادرفرمائیں گی؟

عاصمہ نے اسی پربس نہیں کیابلکہ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں فوج کوبھی موردِ الزام ٹھہرایا۔محترمہ فرماتی ہیں:اس فیصلے میں بوٹوں کی بوبھی محسوس ہورہی ہے۔فوج اور سیاستدانوں کے کرداروعمل کے موازنہ کایہ محل نہیں۔جہاں تک عاصمہ صاحبہ کاسوال ہے توانہیں خودبھی اپنے بیانات پرغورکرلیناچاہئے۔ایک نجی ٹی وی چینل نے ان کی چندتصاویر دکھائی ہیںجن میں ایک وہ بنگلہ دیشی وزیراعظم کے ساتھ نہائت ادب سے مل کرایوارڈوصول کررہی ہیں۔یہ وہ خونی ڈائن عورت ہے جوسہ فریقی معاہدے کے باوجودجماعت اسلامی کے ضعیف العمرمحبان وطن پاکستانیوں کے خلاف ١٧٩١ء میں پاکستان سے وفاداری نبھانے کے جرم میں مقدمہ چلاکران کوپھانسیاں دیں ۔دوسری تصاویرمیں عاصمہ جہانگیرگیروے رنگ کے لباس میں ماتھے پرتلک لگائے مہاتماگاندھی کی تصویرکے سامنے سرجھکائے ہاتھ جوڑکرپرنام کررہی ہیں جبکہ باقی تصاویرمیں وہ بھارت کے انتہاء پسندبلکہ صحیح االفاظ میں دہشتگردبال ٹھاکرے کے سامنے گیروے لباس میں کھڑی ہیں اورایک تصویرمیں توسرپرہندوؤں کی مقدس کتاب ''رامائن''سرپراٹھائے ہندوؤں کی مذہبی عبادت گاہ میں کچھ مناجات کرتی ہوئی نظرآرہی ہیں۔کیامحض چندشخصیات کوخوش کرنے کیلئے اسلامی تعلیمات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے کسی تصویرکے سامنے ہاتھ جوڑکرپرنام کرناجائز (بلکہ قابل برداشت )قرارپاسکتاہے ،اورکیااسلام کے بنیادی احکام سے روگردانی کرنے والاشخص اسلامی جمہوریہ کی عدالت عظمیٰ پراعتراض کرنے کاکوئی حق رکھتاہے جس نے عدل کی ایسی سنہری مثال قائم کی ہوجومستقبل کیلئے سنگ میل کی حیثیت اختیارکرگئی ہو! میاں نوازشریف صاحب کوئی بھی شخص خواہ وہ کتناہی اہم کیوں نہ ہوکم ازکم فوج اورعدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی سے گریزکریں توبہترہوگاکیونکہ اس وقت عوام نااہلیوںکے نتیجے میں بجاطورپراپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved