رسوا کن ٹرمپ کی دھمکی
  24  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

کہاں ہے وہ پرویز مشرف اور اس کا ''دستر خوانی'' قبیلہ کہ جو کہا کرتا تھا کہ ہم نے امریکہ کا اتحادی بن کر … پاکستان کو بچالیا؟ کہاں ہیں امریکی پٹاری کے وہ دانش چور کہ جو دجالی میڈیا کے ذریعے پرویز مشرف کی امریکی غلامی کو نعوذ باللہ صلح حدیبیہ کے ہم پلہ قرار دیا کرتے تھے؟ امریکہ کی خاطر رسوائے زمانہ پرویز مشرف سے لے کر نواز شریف تک … سب نے ہی پاکستانیوں کی قربانیاں دیں … ساٹھ ہزارسے زائد بے گناہ پاکستانی اس بے چہرہ امریکی جنگ میں جھونک دیئے گئے … امریکی جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دے کر ہم نے بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ فاٹا میں آپریشن بھی کیے … اور امریکہ کے مخالفین اور دشمنوں کو چن چن کر ختم کرنے کی خلوص بھری کوششیں بھی کیں۔ اس بے چہرہ جنگ میں ہمارے سیکورٹی اداروں کے ہزاروں جوان بھی شہید ہوئے … آج ہر کوئی یہ بات تسلیم کررہا ہے کہ اگر پاکستان پہلے جارج ڈبلیو بش اور پھر اوبامہ کا ساتھ نہ دیتا تو … امریکہ شاید ہی کبھی القاعدہ والوں سے جان چھڑا پاتا؟ جب امریکہ دہشت گردی کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں تین سو سے زائد ڈرون حملے کرکے وہاں … سینکڑوں معصوم بچوں کو مار رہا تھا تو تب سیکولر دانش چور … اس پر خوشی سے بغلیں بجایا کرتے تھے ' لال حویلی والا شیخ رشید پرویز مشرف اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو صلح حدیبہ (نعوذ باللہ) قرار دیکر حلق کے بل چیختے ہوئے قوم کو بتایا کرتا تھا کہ … اگر پاکستان امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو امریکہ پاکستان کا ''تورا بورا'' بنا دیتا … شیخ رشید کا وہ بزدلانہ جملہ بھی زبان زد عام ہوا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ''اگر ہم امریکہ کا ساتھ نہیں دیں گے تو امریکہ ہمارا ''آملیٹ'' بنادے گا۔ نائن الیون کے بعد سولہ برس ہوگئے کہ جب سے ہم امریکہ کے ڈومور کا سامنا کررہے ہیں … اس امریکی دلدل میں پاکستان کو پھنسانے والا رسوا کن ڈکٹیٹر اور اس کے حواری تو اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں مگر ''پاکستان'' آ ج بھی امریکی دھمکیوں کا سامنا کررہا ہے … رسوا کن ڈکٹیٹر اور اس کے دستر خوانی قبیلے کا تو کوئی بال بھی بیکا نہیںکرسکا'مگر ''پاکستان'' مسلسل خطرات کا سامنا کررہا ہے 'ہم جیسے دیوانے 'نائن الیون کے بعد بھی یہ لکھا کرتے تھے کہ … امریکہ کی غلامی کے نتائج ''افراد'' کو نہیں بلکہ ملک اور قوم کو بھگتنا پڑیں گے … آج دیکھ لیجئے وہ مٹھی بھر افراد کہ جو محض اپنی بزدلی اور کم ہمتی سے امریکی دھمکیوں کا سامنا کرنے کی بجائے … امریکہ سے آنے والی ایک کال سن کر امریکی قدموں پر ڈھیر ہوگئے تھے … ان مٹھی بھر افراد اور ان کے سرغنہ رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا تو کچھ نہیں بگڑا … انہوں نے تو ''پاکستانیوں'' کی قربانیاں پیش کر کر کے اپنی تجوریاں بھر لیں … اور نائن الیون کے 16 سال بعد بھی ''پاکستان'' وہیں پہ کھڑا ہے کہ جہاں سے چلا تھا … متعصب صلیبی امریکی صدر ٹرمپ منہ بگاڑ بگاڑ کر ہمیں طعنے دیتا ہے کہ ''پاکستان'' ہم سے اربوں ڈالر لے کر ہمارے دشمن کو پناہ دیتاہے … ''ٹرمپ'' چاہتاہے کہ پاکستان ' افغانستان میں امریکی مفادات کی جنگ لڑے … اگر پاکستان یہ جنگ نہیں لڑتا تو پھر پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑے گا … ہائے افسوس کہ پرویز مشر ف جیسے رسوا کن ڈکٹیٹر پاکستان کی قسمت میں لکھے تھے … ورنہ صلیبی ''ٹرمپ'' کو کیسے جرات ہوتی کہ وہ ہمیں ڈالر کھانے کا طعنہ دیتا؟ کوئی ''ٹرمپ'' سے کہے کہ ''ڈالر'' تو تم نے کرزئی اور اشرف غنی کو بھی بہت دیئے تھے … ''ڈالر'' تو تم نے 16 سالوں سے افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں پر بھی بڑے خرچ کیے اور اب تک کر رہے ہو … لیکن اس سب کے باوجود امریکی محکمہ خارجہ ' پینٹا گون' سی آئی اے اور امریکی سلامتی کے دیگر اداے افغان جنگ جس برے طریقے سے ہارے … یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق تم پاکستان کو کھلی دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہو۔ یعنی افغانستان میں تم جوتے کھاتے ہو … ملا محمد عمر مجاہد کے طالبان سے اور دھمکیاں دیتے ہو پاکستان کو … اگر ''ڈالروں'' کی مدد سے ہی جنگیں جیتی جاسکتیں تو ان سولہ سالوں میں امریکہ افغانستان میں جنگ جیت چکا ہوتا … وقت اور حالات نے ثابت کر دیا کہ امریکہ اسلحے' طاقت و وحشت اور ڈالروں کی قوت سے افغانستان کا فاتح بننا چاہتاتھا' مگر قندھار کے مرد درویش ملا محمد عمر کے طالبان نے امریکہ کو … ایمان اور جہاد کی طاقت سے ایسی عبرتناک شکست سے دوچار کیا کہ جسے امریکی صدیوں تک یاد رکھیںگے۔ افغان طالبان پر حملہ کرنے والا امریکہ اور اسکے حواری … ہر قسم کے اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے مالا مال' جنگی اکیڈمیوں اور جدید عسکری ٹریننگ سینٹروں کے تربیت یافتہ مگر مدمقابل طالبان کا تعلق نہ جدید عسکری ٹریننگ سینٹروں سے اور نہ ہی جدید تعلیم یا ٹیکنالوجی سے … نہ ان کے پاس اچھی یونیفارم' نہ جدید بوٹ اور نہ ہی جدید ترین اسلحہ ' امریکہ سے برسر پیکار ایسے طالبان بھی دیکھے گئے کہ جن کے دائیں پائوں میں قینچی چپل اور بائیں پائوں میں سلیپر… سر پر بھاری پگڑی' ہاں ' جب نماز کا وقت آیا تو برستی گولیوں میں بھی … نماز ضرور ادا کی ' رمضان کا مہینہ نہ بھی ہو … جب بھی دشمن کے مقابلے کے لئے نکلے تو روزہ رکھ لیا کسی بے گناہ شہری پر ہاتھ نہیں اٹھایا … اللہ کی نفرت کو ساتھ لے کر چلنے کا یہی تو طریقہ ہے کہ جو افغان طالبان نے افغان جنگ میں اپنا رکھا ہے۔

ہمارے سول اور فوجی حکام ہوں … یا اینکرز ' اینکرنیاں اور تجزیہ کار سب کی زبانیں یہ کہتے کہتے خشک ہوچکی ہیں … کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بڑی قربانیاں دیں … ہم نے امریکی جنگ ڈالروں کے عوض نہیں لڑی … مگر امریکہ ماننے میں ہی نہیں آرہا … میں صلیبی ٹرمپ کے بدنما چہرے پر جھنجھلاہٹ کے آثار دیکھ کر … قندھار کے بوریا نشین مرد جری ملا محمد عمر مجاہد کی اس بات پر غور کررہا تھا کہ جو انہوں نے 17 سال قبل قندھار کے ایک پہاڑی غار میں ہم سے کہی تھی… ملا محمد عمر نے کہا تھا کہ ''ہم نے تو افغانستان کو پرامن بناکر دنیا کو پیغام امن دے دیا ہے … لیکن اگر امریکہ نے اسامہ بن لادن کا بہانہ بناکر ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو ہم بھی امریکیوں کو صدیوں تک نہ بھولنے والا سبق سکھائیں گے۔''


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved