امریکی فوجیوں کا قبرستان
  25  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بہت مارا... بہت مارا... ہم نے امریکہ کے ساتھ مل کر افغان طالبان کو بہت مارا... جب آنے والی نسلیں ایک رسواکن ''ڈکٹیٹر'' کے اس مکروہ کارنامے کی تفصیلات پڑھا کریں گی تو دل تھام کے رہ جائیں گے... ''پاکستان'' کی مدد سے ''ٹارزن'' بننے والے امریکہ کے عہدیدار کہتے ہیں کہ ''پاکستان نے رویہ نہ بدلا تو اس کی امداد کم اور نان نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کر سکتے ہیں۔'' پاکستان کے آرمی چیف کہتے ہیں کہ ''امریکی امداد نہیں... اعتماد چاہیے۔'' ''آہ'' امریکی امداد تو شاید مونگ پھلی کے دانے کے برابر بھی' نہ تھی امریکیوں کی طوطا چشمی اور کم ظرفی کی انتہا ہوگئی کہ اگر انہوں نے کہیں پاکستان کو ڈالر دئیے بھی تو اس کے بھی ''طعنے دینا شروع کر دئیے... امریکہ پاکستان پر اعتماد کر ہی نہیں سکتا... اس لئے کہ جب تک ایٹمی پاکستان اسلامی جمہوریہ اور خودمختار مملکت کا دعویدار رہے گا ... اس وقت تک امریکہ کی آنکھوں میں کھٹکھتا رہے گا... امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے ردعمل میں بدھ کے دن افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ ''ٹرمپ'' نے صلیبی جنگ کا آغاز کر دیا ہے... ہم افغانستان کو امریکیوں کا ''قبرستان'' بنا دیں گے۔'' پاکستانی قوم کے کان مسلم لیگی حکمرانوں کے منہ سے ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف بہت کچھ سننا چاہتے تھے ... افسوس کہ ن لیگی حکومت نے ''ٹرمپ'' کے خلاف اتنا ''دم'' بھی نہ دکھایا... جتنا ''دم'' وہ پانچ ججز کے فیصلے کے خلاف گزشتہ کئی دنوں سے دکھا رہی تھی۔ دفاع پاکستان کونسل کے بھاری پگڑیوں والے قائدین پریس کانفرنس میں نمودار ہوئے... مگر ان کے ''حلوہ'' مارکہ بیان سے ایسے لگ رہا تھا کہ جسے ہوا ان کی بھی نکلی ہوئی ہے۔ ایسے میں اللہ نے چیئرمین سینٹ رضا ربانی سے غیرت و حمیت والا بیان دلوا کر ... یہ ثابت کر دیا کہ اللہ جس سے چاہے... جب چاہے کام لے لے... چیئرمین سینٹ نے کہا کہ ''کیا پاکستان کے وزیر خارجہ امریکہ جارہے ہیں میری رائے ہے کہ ٹرمپ کے بیان کے تناظر میں وزیر خارجہ امریکہ کا دورہ ملتوی کر دے' رضا ربانی نے اتنباہ کیا کہ امریکہ نے کوئی غلطی کی تو پاکستان امریکی فوجیوں کا قبرستان بن جائے گا... انہوں نے کہاکہ امریکی صدر کو ویت نام اور کمبوڈیا نہیں بھولنا چاہیے اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے فوجیوں کا قبرستان بنے تو خوش آمدید'' ایسے لگتا ہے کہ جیسے دفاع پاکستان کونسل میں شامل جہادی قائدین کی روحیں چیئرمین سینٹ میں حلول کر گئی ہوں اور سابق جہادی قائدین کی جہادی ''روحیں'' قبرستانوں میں جا سوئی ہوں...؟ چیئرمین سینٹ کے اس غیرت و حمیت سے مالا مال باوقار بیان کے بعد اس خاکسار کو پاکستان کے کئی شہروں سے بعض قارئین نے فون کرکے چیئرمین سینٹ کو اس جرات مندانہ بیان پر خراج عقیدت پیش کیا۔ سوال یہ ہے کیا رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے تاریک دور میں کی جانے والی تاریخی غلطیوں کی تلافی کا موقع آن پہنچا ہے... ایک پاکستانی کے لئے ''پاکستان'' ہے تو سب کچھ ہے... اگر ''پاکستان'' نہیں تو کچھ بھی نہیں... اگر ہماری جانیں ایک اسلامی پاکستان کی سلامتی کے کھاتے میں لگ جائیں تو اس سے خوبصورت سودا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا... پاکستان امریکیوں کا قبرستان 'چیئرمین سینٹ کے منہ سے نکلنے والے اس جملے نے میری آنکھوں کے سامنے گزشتہ 16سالوں کی کہانیاں کھول کر رکھ دیں... چند سال پہلے کہا جاتا تھا کہ پاکستان امریکیوں کی جنت ہے ' حسین حقانی اور عبدالرحمن ملک کے تاریک دور میں... یہ جملہ بڑا مشہور تھا... ''پاکستان'' کو امریکہ نے اپنی کالونی سمجھا ہوا ہے... آج بھی پرویز مشرف سے لے کر بعد میں آنے والے حکمرانوں تک ... کسی میں بھی امریکی ڈمو مور کے سامنے دم مارنے کی مجال نہ تھی... امریکی بلیک واٹر اور امریکی سی آئی اے نے پاکستانی (ر) افسران کی مدد سے ایک ایسا خفیہ نیٹ ورک بنا رکھا تھا کہ ... جو امریکہ کے مخالف قرار دے کر پاکستانیوں کو گھروں' دفتر اور مسجدوں سے اٹھا کر غائب کر دیا کرتا تھا۔ یعنی پاکستانی سرزمین پر امریکیوں نے اپنے نیٹ ورک بنا رکھے تھے... مگر اب یہ وقت ہے کہ پارلیمانی ادارے سینٹ کے چیئرمین نے امریکہ کی کسی شرارت پر ... پاکستان کو امریکی فوجیوں کا قبرستان بنانے کا اعلان کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ پلوں کے نیچے بہت سا پانی گزر گیا ہے' امریکیوں میں اگر ہمت ہے تو اسے چاہیے کہ وہ افغان طالبان کا مقابلہ کرے... ''ٹرمپ'' نے افغانستان میں مزید امریکی فوج بھیجنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ میرا ٹرمپ کو مشورہ ہوگا کہ وہ فوج تو ضرور بھجوائے مگر ساتھ پیمپرز کا وافر سٹاک بھی ضرور روانہ کرے ... اور اگر ہوسکے تو پیمپرز کے دو چار کارخانے ادھر کابل میں ہی لگالے... کیونکہ لگتا ہے کہ اس مرتبہ امریکی فوجیوں کو پیمپرز کی شدید ضرورت محسوس ہوگی' قومی سلامتی کے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پاکستان میں امریکہ برانڈ سیاست دانوں اور امریکی پٹاری کے اینکرز اینکرنیوں اور سیکولر مائیڈ سیٹ پر بھی سخت نگرانی رکھیں ... کیونکہ امریکہ اپنے ان ''خرکاروں'' کے ذریعے پاکستانی قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے' پاکستان کے 22کروڑ عوام امریکی ڈالروں پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتے... پاکستانی قوم ایک غیور اور بہادر قوم ہے ... افسوس کہ اس قوم پر پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹر مسلط رہے... مگر ڈکٹیٹرز یا جمہوری حکمرانوں نے بھی اگر امریکہ سے ڈالر لئے تو اس میں پاکستانی قوم کی ذرا برابر بھی رضا مندی شامل نہ تھی... پاکستان کی فوج دنیا کی سب سے غیرت مند اور بہادر فوج ہے... یہ فوج امریکی ڈالروں کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے... جو ''فوج'' اسلام اور پاکستان کی حفاظت اور سلامتی پر اپنے جگر گوشے قربان کر رہی ہو... ڈالرز'' اس کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

امریکہ نہ کبھی پاکستان کا دوست تھا... اور نہ کبھی آئندہ ہوگا... کیونکہ امریکہ کو پرویز مشرف جیسے غلام پالنے کا شوق رہا ہے ... دوستی لگانے کا نہیں ' وہ سمجھتا ہے کہ میں ڈالر پھینک کر جو چاہے پاکستانیوں سے کام لے لوں... لیکن امید ہے کہ اس مرتبہ اسے اس کی اصل حیثیت یاد کروا دی جائے گی' اس لئے کہ فوج کا پرویز مشرف نہیں بلکہ جنرل قمر باجوہ سپہ سالار ہے... ہمیں امریکہ کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں... اس لئے جو امریکی سولہ سالوں میں افغان طالبان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے وہ ہمارا کیا بگاڑلیں گے۔ ہاں البتہ گئے دور میں ہم نے امریکہ کے ساتھ مل کر اپنے افغان بھائیوں کے خلاف جو کردار ادا کیا تھا اس پر اللہ کے حضور اجتماعی توبہ ضرور کرنی چاہیے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved