آصف شریف اور نواز زرداری
  26  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭میں نواز شریف سے کوئی ملاقات نہیں کرنا چاہتا، مجھے سری پائے کھانے کا کوئی شوق نہیں''٭ ہم نے پہلے بھی معاہدہ پارٹی سے کیا تھا، نواز شریف سے نہیں''٭ میں مستقبل میں پاکستان کی سیاست میں شریف خاندان کا کوئی رول نہیں دیکھ رہا''٭ مجھے نواز شریف سے ہاتھ ملانے کا کوئی شوق نہیں'' مندرجہ بالا اقوال زریں جناب آصف علی زرداری پی پی پی( نام نہاد کیوں کہ مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے) کے کو چیئرمین اور سابق صدر پاکستان کے ہیں جو انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے فرمائے، پہلے وہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہی باتیں کہہ چکے تھے، مگرSmoke Screen کی افادیت کا تقاضہ تھا کہ بات بار بار دہرائی جائے۔ آپ سوچ رہے ہوںگے کیسا اسموک اسکرین، قارئین! بات اور سازش بہت گہری ہے، پلان میں نواز شریف کی خود غرض سیاست اور کینہ پروری اور آصف زرداری کی چالاکیاں صاف نظر آرہی ہیں مگر پلان کو فی الحال خفیہ رکھنے کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پیش منظر میں یہ نورا کشتی ہوتی رہے، ذاتی اور سیاسی مفادات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان دونوں صاحبان کا یک جا ہونا بہت ضروری ہے اور یہ دونوں یکجا ہوچکے ہیں۔ نواز شریف کا'' حشر'' دیکھنے کے بعد آصف زرداری کیلئے بچائو کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ایک بار پھر صدر پاکستان بن جائیں کیوں کہ صدر کو Immunityحاصل ہوتی ہے( وزیر اعظم کو نہیں) اور یہ کام صرف نواز شریف ہی کرسکتے ہیں مگر انہیں بھی اپنے اگلے پچھلے حساب چُکتے کرنے ہیں۔ کس سے؟ ریاست کے دو انتہائی اہم اداروں سے اس کیلئے سینیٹ اور قومی اسمبلی سے ایسے بل پاس کروائے جائیں گے جن کے منظور ہونے کی صورت میں یہ دو ادارے نہ صرف مفلوج ہوجائیں گے بلکہ مرکزی کابینہ کے خدا نخواستہ دست بستہ غلام بن جائیں گے۔( ریفرنس: ڈاکٹر شاہد مسعود) مگر میراخیال بلکہ یقین ہے کہ یہ خواب دیوانے کی بَڑ ثابت ہوگا اور اگر ڈاکٹر شاہد مسعود کی'' اطلاعات'' صحیح ہیں تو مجھے کہنے کی اجازت دیجئے کہ نواز شریف نے اس سے پہلے اپنے پیر پر اس سے بڑی کلہاڑی اس قدر زور سے نہیں ماری ہوگی۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو اس سے ان دو سینئر سیاستدانوں( رہنما نہیں) کی ذہنی پستگی اور خود غرضانہ سوچ کی گراوٹ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اپنی ذات کو ریاست سے پہلے رکھنے کی یہ سوچ انتہائی گھٹیا اور غلیظ ہے اور پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ نام نہاد جمہوریت کا یہ ننگا ناچ عوام دیکھنے پر تیار نہیں ہوں گے۔ اب آئیے نواز شریف کے مبینہ کرپشن کے کیسز کی طرف۔ NAB نے نواز شریف، حسین نواز، حسن نواز اور ان کے ایک رشتے دار کو18 اگست کو حاضری کیلئے سمن جاری کئے تھے مگر یہ لوگ حاضر نہیں ہوئے۔ پہلے کہا گیا کہ سمن نہیں ملے۔گویا جاتی امراء کسی دور دراز دیہات کا نام ہے پھر کہا گیا کہ چونکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے لہٰذا عدالت کے فیصلے تک نیب کے آگے حاضر نہیں ہوںگے۔ یہ بالکل کمزور بہانہ ہے۔ عدالت عظمیٰ کے آگے اپیل چلتی رہے گی، عدالت انویسٹی گیشن نہیں کرتی یہ کامNAB کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ قانونی موشگافیوں سے متاثر نہیں ہوسکتی، اسی طرح اسحاق ڈار اور ان کے حواریوں کے بینک اکائونٹس وغیرہ کی تفصیلاتNAB نے مانگی ہیں۔ غالباً وہ بھی یہی بہانہ بنائیں گے، اہم بات یہ ہے کہ سننے میں آیاہے کہ نیب سے کسی نے طویل رخصت کی درخواست بیرون ملک جانے کیلئے دی ہے، اگر یہ افواہ خبر ہے تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ ایں خانہ ہما آفتاب است۔ دوسری طرف وزیر اعظم نے پوری کوشش کی ہے کہ اگر کوئی مسلم لیگ ن کے آگے سے بھی گزرا ہو تو اسے بھی وفاقی کابینہ میں شامل کرلیا جائے۔ مگر شاید قدرت کو کچھ اور ہی منظور ہے۔ پارٹی کے عبوری صدر کیلئے جس طرح چنائو اوپر سے ہوا ہے اس پر صرف چوہدری نثار نے ہی نہیں بلکہ متعدد لیگی'' رہنمائوں'' نے شدید احتجاج کیا، دیکھئے فیڈرل کونسل میں کیا صورت ہوتی ہے مگر ایک بات تو ظاہر ہے کہ ن لیگ میں دراڑیں پڑنا شروع ہوچکی ہیں۔ اور اب چوہدری نثار، شہباز شریف اور حمزہ شہباز وغیرہ اپنی رائے اور اپنے فیصلے منوانے کیلئے آہستہ آہستہ بہتر پوزیشن میں آتے جائیں گے۔ یہ بگاڑ جی ٹی روڈ کی ریلی کے بارے میں اختلافات سے شروع ہوا تھا اور جاتی امراء کے محلات کے ستونوں کو ہلاسکتا ہے۔

NA-120 کے حلقے کیلئے شہباز شریف کی جگہ بیگم کلشوم نواز کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے سے ن لیگ میں اختلافات مزید بڑھے ہیں، اب یہ بات طے ہے کہ شہباز شریف جہاں ہیںوہاںسے مزید اوپر اور آگے نہیں جاسکتے۔ سیاست میں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر کسی سیاستدان کی سوچ تبدیل نہیں ہوسکتی۔ مثال کیلئے یہی بات لے لیجئے کہ بیگم کلشوم نواز نے جس دن ریٹرننگ آفیسر کے سامنے پیش ہونا تھا عین اسی دن وہ لندن روانہ ہوگئیں۔ کہا گیا ہے کہ وہ طبّی معائنے کیلئے گئی ہیں مگر بظاہر وہ تندرست وتوانا نظر آرہی تھیں اور یہ فلائٹ بعد میں بھی لی جاسکتی تھی، بقول ڈاکٹر یاسمین راشد کے ملکہ عالیہ نے ایک چھوٹے گریڈ کے آفیسر کے آگے جانا اپنی توہین سمجھا۔ یہ بات اس لئے صحیح ہے کہ یہ شریف گھرانے کا پکّا مائنڈ سیٹ ہے جو اس ملک میں بچے بچے کو معلوم ہے، یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے جس میں نواز شریف اپنے حلقے سے منتخب ہونے کے بعد اگلے انتخابات تک وہاں جانے کی زحمت نہیں کرتے، یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے جس میں نواز اپنی مبیّنہ کرپشن پکڑے جانے پر ریاست کے اداروں کو برا بھلا کہتے ہیں اور انہیں ہر قیمت پر اپنے انگوٹھے کے نیچے دباکر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے جس میں ایک مرحومہ سیاستدان نے کہا تھا کہ ان کا تو خاندان پیدا ہی حکمرانی کرنے کیلئے ہے، یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے جس میں نواز شریف کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ اب وہ پاکستان کے وزیر اعظم نہیں رہے اوروہ دیوانوں کی طرح ہر شخص کا گریبان پکڑ کر پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالاگیا، کاش کوئی انہیں سمجھا سکتاکہ بقول شاعر۔ ثبات صرف تغّیر کو ہے زمانے میں


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved