مکافاتِ عمل کاشکنجہ
  26  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

مشرف کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں احتجاجی تحریکیں چلانے کے بعدتھک چکی تھیں ،سپریم کورٹ بھی اقتدارپراس کے غاصبانہ قبضے کوقانونی اورجائز قراردینے کے علاوہ آئین میںمن مانی ترامیم کالامحدو داختیار سونپ کراس مطلق العنان بادشاہ کی راہ ہموارکر چکی تھی،وہ وردی کی طاقت سے آئندہ پانچ سال کیلئے صدربھی بن چکاتھا۔ اب اس کے ذہن کاخناس تھاکہ کوئی اس کاراستہ نہیں روک سکے گالیکن پھر٩مارچ ٧٠٠٢ء کادن آگیاجب اس نے پانچ جرنیلوں کوساتھ بٹھاکردہشت اوردھونس کاماحول پیداکرکے چیف جسٹس افتخارچوہدری کوطلب کرکے استعفیٰ طلب کیا۔یہ مکافات عمل تھاکہ چیف جسٹس افتخارچوہدری بھی سپریم کورٹ کے اس بنچ میں شامل تھے جنہوں نے مشرف کی غیرقانونی حکومت کو تمام مراعات فراہم کی تھیں۔ اپنے آپ کوتمام طاقتوں کامنبع سمجھنے والے پرویزمشرف کے وہم وگمان میں بھی نہ تھاکہ افتخار چوہدری نہ صرف اکڑکرسامنے کھڑابلکہ اس کیلئے لوہے کاچنابن جائے گا۔پھرپورے ملک نے دیکھاکہ کمانڈوآہستہ آہستہ بے بسی کی تصویربنتاچلاگیا۔اسی جی ٹی روڈپرمیاں نوازشریف لوگوں کے اژدھام کے ساتھ سپریم کورٹ کی بحالی کیلئے نکل کھڑاہوا،ابھی یہ ہجوم منزل مقصود پربھی نہیں پہنچاتھاکہ سپریم کورٹ کی بحالی کے اعلان اورکامیابی نے نوازشریف کوسرشارکر دیا اور جلدہی پرویزمشرف کوبے بسی اوربے توقیری کے ماحول میں ایوان صدر خالی کرناپڑا،یہ مکافاتِ عمل تھاکہ اپنے اقتدارکودوام دینے کیلئے جس رسوائے زمانہ ''این آراو''کاسہارا لیاتھا،وہ بھی کام نہ آسکا اورزرداری جیسے فردنے منصب صدارت سنبھال لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ زرداری کو بھی مکافات عمل کا شکارہوکرکئی برس تک پاکستان سے باہرروپوش رہناپڑااورسیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اب اگلی باری زرداری صاحب کی متوقع ہے کہ ان کیلئے تومہاکرپشن کے الزامات کے علاوہ عذیربلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ ہی کافی ہے۔ یہ بھی مکافاتِ عمل ہے کہ آج پرویزمشرف انتہائی غداری کے جرم آرٹیکل ٦کے مقدمے میںعدالت سے مفرور ہے ۔ اس نے بھی لوٹ مارسے بہت دھن دولت اکٹھی کی،کوئی درجن کرنسی اکاؤنٹ اور جائیدادوں کی ایک لمبی فہرست بھی منظرعام آچکی ہے،بقول اس کے سعودی بادشاہ نے بھی اس کوبہت پیسہ دیاتھامگراس کے باوجودوہ اندر سے دہل رہا ہے ، بزدلی غالب ہے اور وطن واپس نہیں آرہا۔اب مانتا ہے کہ ٩مارچ کواس سے غلطی ہوئی تھی مگراللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے ہیں۔بعدمیں آنے والے حکمرانوں آصف زرداری اور نواز شریف نے جمہوریت کے چیمپئن ہونے کے زعم میں اس سے سبق نہیں سیکھا۔ نوازشریف نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے دوبارہ وہی کھویاہوا اقتدارتوحاصل کرلیااوریہ بھی مکافات عمل ہے کہ ابھی اقتدارکی مدت پوری نہیں ہوئی کہ اسی سپریم کورٹ نے نااہل قراردیکراسی جی ٹی روڈ سے واپس گھربھیج دیالہٰذا نوازشریف بھی قادِرمطلق کے فیصلوں کی زدمیں آچکے جبکہ عمران خان اورکئی دوسرے جواپنے آپ کوقومی رہنماء کہتے اورسمجھتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے بیس کروڑعوام کی تقدیران کی مٹھی میں دے دی ہے ،مکافاتِ عمل کاشکنجہ ان کی طرف بھی بڑھ رہاہے۔کب کس کی باری آجائے ،اس کے بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ انسان سمجھتاہے کہ اس نے اپنی ذہانت،عقل وفہم ،دولت اورطاقت سے اردگردکی تمام قوتوں کوزیرکرلیاہے،اب کوئی اس کے خلاف چوں بھی نہیں کرسکتامگرجب خالق کائنات کی مشیت ہوتی ہے تولمحات میں ایسے عوامل پیداہوجاتے ہیںکہ جن کاکوئی تصوربھی نہیں کرسکتا۔قادرِمطلق اپنے فیصلوں کے نفاذمیں اسباب وعوامل کامحتاج نہیںہے لیکن انسانوں کو سمجھانے کیلئے بظاہرکچھ چیزیں حرکت میں آجاتی ہیںاور مکافاتِ عمل کے شکنجے میں ان کوایساجکڑلیتاہے کہ ان کومہلت کاوقت بھی نہیں ملتا۔ نوازشریف کے اقتدارسے محروم ہونے اورنااہل قراردیئے جانے کے بارے میں دینی وسیاسی جماعتیں ،معاشرے کے مختلف طبقات اپنے اپنے اندازمیں اپنے ردّ ِ عمل کا اظہار کر رہے ہیںاورتبصرے بھی جاری ہیںلیکن اس میں شبے کی کوئی گنجائش نہیںکہ رب العالمین کی مشیت کے نتیجے میں ہی یہ تبدیلی رونماہوئی ہے۔آئین کے آرٹیکل ٢٦/٣٦ کی روسے نواز شریف کی نااہلی نے احتساب کاحقیقی معنوں میں راستہ کھول دیاہے۔کتنی حکومتیں گزرگئیں،سیکولر،نیم مذہبی ہرطرح کے حکمران آئے مگرضیاء الحق کے دورمیں ان آرٹیکل کوجس شکل میں آٹھویں ترمیم میں شامل کیاگیاتھااس شکل میں برقراررکھاگیالیکن قوم کی یہ بدقسمتی ٣٧٩١ء کے آئین کاکوئی ایک چوتھائی سے کم حصہ پارلیمانی جمہوریت کے علمبرداروں نے معطل کررکھاہے جس میں یہ دونوں مجوزہ آرٹیکل بھی شامل ہیںاورہائی کورٹس اورسپریم کورٹ بھی اس ڈگرپرچلتی رہی تھیں۔مقدمات میں درخواستوں اور دلائل کے باوجود آئین کے ان آرٹیکلز کو نظر انداز کیاجاتارہا۔ اب نوازشریف کے خلاف پاناماکیس میں سپریم کورٹ نے جس طرح آرٹیکل ٢٦کواستعمال کرتے ہوئے قراردیاہے کہ صادق وامین نہیں رہے ،اس نے ان آرٹیکلزکے تقدس و اہمیت کوفروترسطح پرلانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی حالانکہ امیدتھی کہ عوامی نمائندگی کیلئے باکردار،ایماندار،دیانت دار،اسلام کی تعلیمات کاشعوررکھنے والے افرادکوچھانٹ کرآگے لانے میں ان آرٹیکلزسے بہت مددملے گی اورحقیقی احتساب ہوگا۔نوازشریف پرکرپشن، جعلسازی، ناجائز اثاثے بنانے اورقومی دولت لوٹ کرملک سے باہرلے جانے جیسے سنگین الزامات تھے جن کے بارے میں کہاگیاہے کہ جے آئی ٹی منوں ثبوت جمع کرچکی ہے اوراب تمام الزامات ثابت ہونے میںکوئی کسرنہیں رہ گئی لیکن ہوایہ کہ تمام معاملات تونیب کو بھیج دیئے گئے لیکن اپنی ہی کمپنی سے نہ وصول کی گئی تنخواہ کی رقوم کاغذات نامزدگی میں درج نہ کرنے کی پاداش میں مروجہ قانون سے ہٹ کرڈکشنری کی مددسے اچھوتے معنی اس فعل کوپہناکرانہیں ٹیکنیکل طورپرناک آؤٹ کردیاگیااور زیبِ داستاں کیلئے آرٹیکل ٢٦/٣٦کوبھی نتھی کردیا گیا ۔نتیجہ یہ ہے کہ بڑے بڑے ماہرین آئین وقانون جن میں نواز شریف کے سخت مخالف بھی شامل ہیں، حیران وپریشان ہیںکہ اتنے بڑے دماغ ،فہم وفراست رکھنے جج صاحبان نے یہ کیاکردیاہے۔

آئین وقانون ،قواعدوضوابط میں اس فیصلے کی گنجائش کہاں تلاش کی جائے کیونکہ اس فیصلے کومستقبل کیلئے نظیرکی حیثیت سے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پراثرانداز ہونا ہے۔وکلاء دانشورحلقے سوال اٹھارہے ہیںکہ اگرنواز شریف کو''گاڈفادر''قراردینے ،تاریخ میں یادرکھاجانے والافیصلہ کرنے کے پرزورریمارکس کے بعدکوئی ذہن بن چکاتھا توتمام الزامات ثابت قراردے دیئے جاتے ،نااہلی ہوجاتی اگراس میں کوئی فنی رکاوٹ تھی اورتمام مقدمات نیب کوبھیجنے کے ساتھ حکم دیاجاسکتاتھاکہ چونکہ نوازشریف کے وزیراعظم رہنے کی صورت میں نیب مقدمات شفاف طریقے سے نہیں چل سکتے ،اس لئے مقدمات کے فیصلے تک نواز شریف اپنے عہدے سے الگ ہوجائیں ۔آخرا نہیں مظلوم بنانے اورکہنے کا موقع دینے کی کیا ضرورت تھی ؟اب نوازشریف نااہل قراردیئے جانے کے بعداگرنیب عدالتیں مقدمات میں الزام ثابت ہونے پرسزائیں بھی سنادیںتویہی کہاجائے گا اقتدار سے الگ توبلاجوازکیاگیااوراب انتقام کانشانہ بنایا جا رہاہے۔ اس لئے سنیئروکلاء جو سیاستدان یا سیاستدانوں سے فوائدحاصل کرنے والے ہیں، مشورہ دے رہے ہیں کہ فیصلے پرنظرثانی کی ضرورت ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved