پاکستان اور افغانستان، ٹرمپ کے نشانہ پر!
  27  اگست‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) دفاعی ماہرین کی رائے میں ہندوستان کو افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف رول ادا کرنے پر زور دینے سے خطرات کو دعوت دینی ہوگی۔ ٹرمپ نے جنوبی ایشیاء کے بارے میں اپنی حکمت عملی میں کہا ہے کہ ایک اہم ستون ہماری حکمت عملی کا پاکستان سے نبٹنے کے سلسلہ میں ہمارے طریق کار میں تبدیلی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ امریکا اب پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں ، طالبان، اور دوسری تنظیموں کی محفوظ کمین گاہوں پر خاموش نہیں رہے گا۔ ٹرمپ نے امریکا کا پرانا نعرہ دھرایا۔ ''آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف'' انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں ہماری کوششوں میں ساتھ دینے میں فائدہ ہوگا اور پاکستان کو دہشت گردوں کو پناہ دینے میں سراسر نقصان ہوگا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں امریکا کے مفادات واضح ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ کمین گاہیں ہیں جن کا خاتمہ بے حد ضروری ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمیں جوہری اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں جانے سے اور ہمارے خلاف یا دنیا میں کہیں اور استعمال کرنے سے روکنا ضروری ہے ۔ یہ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لئے کاروائی کا جواز پیش کرنے کوشش ہے۔ اس دھمکی کے سلسلہ میں خطرناک پہلو ٹرمپ کا یہ کہنا ہے کہ آیندہ کسی کاروائی کے آغاز اور اختتام کاپہلے سے اعلان نہیں کیا جائے گا۔ '' ہم فوج کی تعداد اور فوجی کاروائی کے بار ے میں اعلان نہیں کریں گے'' اس کا مطلب افغانستان یا پاکستان میں اچانک فوجی کاروائی ہو سکتی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کی حکومت نے ٹرمپ کی افغان جنگ کے بارے میں نئی حکمت عملی کا خیر مقدم کیا ہے ، خاص طور پر مزید امریکی فوج بھیجنے کے فیصلہ کے بارے میں، کیونکہ ایک تو طالبان کے سامنے پسپا ہوتی ہوئی افغان حکومت کو امریکی فوجوں کی کمک کی اشد ضرورت ہے ، دوسرے ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کو دھمکی پر بھی خوش ہے ، افغان حکومت سمجھتی ہے کہ یہ اس کے موقف کی حمایت ہے ۔ صدر اشرف غنی ، افغان فوج کی ناکامیوں کی ذمہ داری کا تمام تر بوجھ پاکستان پر ڈالتے رہے ہیں اور ٹرمپ نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کی رائے ہے کہ ٹرمپ کی افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے بارے میں نئی حکمت عملی ان اہداف کے حصول میں قطعی کامیاب ثابت نہیں ہو سکے گی جو ٹرمپ حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ خطرہ ہے کہ اس کے افغانستان کے لئے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور دوسری جانب پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات جو پہلے ہی کشیدہ ہیں ابتری کا شکار ہوں گے۔

ٹرمپ کی افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے بارے میں نئی حکمت عملی میں ان کے جو عزائم سامنے آئے ہیں ان کے پیش نظر پاکستان کو امریکا کے ساتھ اپنے رویہ اور اپنی پالیسی پرانقلابی نظر ثانی ناگزیر ہے اوراشد ضرورت ہے کہ امریکا کے قدموں میں بیٹھنے اور خوشامد کی پالیسی ترک کی جائے اور پاکستان جو بے پناہ قدرتی وسائل اور افرادی طاقت سے سر شار ہے، اپنی عزت نفس کی خاطر اپنے پیروں پر کھڑا ہوکر سرخ رو ہو۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اب اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ سرد جنگ کے دوران پاکستان محض امریکا کے مفادات کی حاشیہ برداری کرتا رہا ہے اور 1965اور 1971کی جنگوں کے دوران جب پاکستان کو اپنی بقا کے لئے امریکی فوجی مدد کی ضرورت تھی تو فوجی معاہدوں میں شمولیت کے باوجود امریکا نے نہایت رعونت سے اس کا دامن جھٹک دیا۔اس تاریخی حقیقت سے پاکستان کے حکمران آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے ۔ اگر ہم قومی وقار اور پنے دفاع کی خاطر امریکا پر اپنی محتاجی کی پالیسی ترک نہیں کر سکتے تو پھرہم اپنے آپ کو ایک آزاد ، خو د مختار اور خود دار ملک کہلانے کے حق دار نہیں ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved